اسلام کو سمجھئے(3) شمس جیلانی

0
1253

ہم نے گزشتہ مضمون میں اس پر بات کی تھی انسان کو اللہ نے خود مختار بنایا ہے کہ وہ اپنے لیئے جونسا راستہ چاہے منتخب کرے؟ چاہے تو فلاح کی طرف چلے یابرائی کی طرف جا ئے؟ فرق یہ ہوگا کہ اگر وہ اللہ کی طرف بڑھے گا تو رحمتیں اس کا مقدر ہونگی۔ یہاں فرمادیا کہ وہ ایک قدم آگے بڑھے گا تو میں اس کی طرف دس قدم آگے بڑھونگا۔ اگر وہ برائی کی طرف بڑھے گا تو میں اسے روکونگا نہیں۔سورہ البقرہ میں ایک ہی آیت میں بتلادیا کہ مومن کا ولی اللہ ہے جو اندھیروں سے اجالے کی طرف بلاتا ہے اور کافروں کاولی شیطان ہے جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ دونوں راستے اس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں چاہے تو اس راستہ پر چلا جائے، چاہے تو اس راستہ پر چلا جا ئے۔یعنی اس طرف خیر ہے اور اس طرف شر ہے۔ پھر اس بندے کو جوخیر پسند کرے مانگنے کا راستہ سورہ فاتحہ کی شکل میں عطا فرمایا ہے جس میں اللہ سے مانگنے کی پوری تفصیل ہے۔ جس کی تفسیر میں مولانا ابو الکلام آزاد نے دو سوصفحات لکھے ہیں اور اس خادم نے بھی اسی صفحات لکھے ہیں جو کہ آن لائین ہیں روشنی حرا سے کے نام سے جو حضور ﷺکی سیرت پر تسلسل کے ساتھ میں نے لکھی اس میں پہلے پندرہ ابواب پر مشتمل سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کوپر پڑھ لیں۔اسی نام سے یوٹیوب پر جاکر میری آواز میں سن لیں۔ کیونکہ یہ چھوٹا سا مضمون اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور آج کی دنیا میں ویسے بھی کسی کے پاس اتنا وقت نکالنا مشکل ہے۔ اب اگر آپ پورا اسلام سیکھنا چاہیں اور وہ بھی مختصر ترین وقت میں سمجھنا چاہتے ہوں تو کسی بھی قرآن شریف کی سورہ العصر بمع تفسیر پڑھ لیں۔ جو پورا سمندر ہے۔ ہر ایک نے اپنے طریقہ سے عمیق گہرائی تک جانے کی کو شش کی ہے حضرت امام شافعی ؒ نے لکھا کہ اگر اللہ تعالیؒ صرف یہ ہی ایک سورت اتار دیتا تو انسان کی رہبری کے لیئے کافی تھی،۔ اس میں اللہ نے وقت کی قسم کھا ئی ہے اللہ خود جس کی قسم کھائے اس چیز کی اہمیت کتنی ہوگی ہر مسلمان خود سوچ سکتا ہے۔ ً جس کے معنی یہ ہیں وہ سب لوگ گھاٹے میں ہیں۔جنہوں نےاپنا وقت ان کاموں کے علاوہ اور کاموں میں خرچ کیا۔ یہاں جنہیں الگ کردیا ہے تمام کاموں سے وہ ہیں۔پہلے ایمان لانا اللہ اور رسول ﷺپر۔ پھر دوسرا درجہ ہے عمل صالح کرنا۔ عمل صالح کا نمونہ قرآن نے حضورﷺ کو قرار دیا ہے۔ جنہوں نے اپنے اوپر تمام عمل صالح کا نفاذ کر کے دکھایا جو کہ انسانی زندگی کا پورااحاطہ کیئے ہوئے ہے۔ کسی نبی ؑ نے پوری انسانی زندگی کا احاطہ نہیں کیا۔ سوائے حضورﷺ کہ کیونکہ دین کامل ہی ان ہی کے زمانے میں ہوا۔ کہ اسلام کی بنیادات جیسی ضرورت اورجب حضور ﷺکوہوئی قرآن کی شکل میں نازل ہوتی رہیں اور عملی تفسیر اس کی نبی ﷺ کے ذریعہ سامنے آئی۔ ایمان اورعمل اسلام میں لازمو ملزوم ہیں۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ایما ن کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ً کیونکہ کے ایمان کے بغیر کوئی عمل ِ صالح کریگا تو اس کا معاوضہ اسے دنیا ہی مل جا ئے گا۔ لیکن عقبہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پاس ایمان نہیں تھا۔ اورجو ایمان لاکر اللہ اور رسولﷺ کااتباع نہیں کرتا ہے اس کے پاس عمل صالح نہیں ہیں۔جو عقبہ کے لیئے ہونا ضروری ہیں۔ اب یہ حدیث بھی ہے کہ جو اپنے لیئے چاہو وہ اپنے بھائی کے لیئے بھی چاہو اور انسانی فطرت بھی کہ ہر آدمی اپنا جیسا پورے جہاں کو دیکھنا چاہتا۔ دوسرے باعمل انسان کے الفاظ دلوں کو لگتے ہیں۔ جبکہ بے عمل آدمی تبلیغ کرے تو لوگ کہتے ہیں کہ بڑا پارسا یا متقی بنا پھرتا ہے خود عمل نہیں کرتا۔ اب اس درجہ پر پہنچنے کے بعد خود با عمل مسلمان کو تبلیغ کا حکم دیتا۔ تبلغ کرنے کے لیئے جس دوسری صفت کی ضررت ہے وہ ہےصبر کیونکہ جب آپ تبلیغ کریں گے تو صبر کی ضرورت ہوگی۔صبر کے اردو معنی بہت مختصر ہیں۔ انگریزی میں اس کے معنی ٹالرینس ہیں جسے فارسی میں قوت برداشت بھی کہہ سکتے ہیں۔جو مسلمانوں میں اب تقریباً نا پید ہوچکا ہے۔ جو اس راہ پر چلے گااسے اس بات کا خیال رکھناچاہیئے کہ اسلام بدلہ کی اجازت ہے۔ مگر اتنی جتنا اس نے آپ کا نقصان کیا ہو۔ اگر معاف کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ معاف کروتاکہ تم معاف کیجئے جاؤ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت دن اللہ تعالیٰ فرشتے کوحکم دے گاکہ اعلان کردو کہ وہ کھڑے ہوجا ئیں جنہوں نے لوگو ں کو معاف کیا ہے۔ لا تعداد آدمی کھڑے ہو جا ئیں گے۔ حکم ہو گا ان سب کو جنت میں داخل کردو۔ دوسرے اسلام نے تبلیغ کو بہت اہمیت دی ہے۔ حضورﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جو تبلیغ کرتا ہے۔ اس کو تمام دنیا کی مخلوق دعا دیتی ہے حتیٰ کہ سمندرکی مچھلیاں تک اس کے لیئےدعا کرتی ہیں، دوسری میں حضور ﷺ نے دعا فر مائی ہے۔ کہ جو لوگ تبلیغ کرتے ہیں ان کو انکے خاندان کو اللہ تو شاد وآباد رکھ۔

SHARE

LEAVE A REPLY