وما ارسلٰنک الارحمت اللعا لمین۔۔۔شمس جیلانی

0
161

۔ گذشتہ ہفتہ ہم نے حضور (ص)سیرت مبارکہ ختم کی ہے ، جس میں کہ سر کا رِ دو عا لم محمد مصطفٰی (ص)کی ولادت با سعا دت ہو ئی اس ماہ مبارک کو منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ کہ ا ن کے نقشِ قدم پر چل کر نجات پالی جائے اور عمل انکی(ص) سیرت کے ہر پہلو پرعمل کرنا ہوگا۔ مگر میں زیادہ اجاگر اس پہلو کو کرنا چاہوں گا جسے خدمت خلق کہتے ہیں اور جس میں ہم سب سے پیچھے ہیں ۔ جبکہ ان کے با رے میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ شا ید ہی کسی اور کے با رے میں تاریخ عالم میں لکھا گیا ہو۔ جو آپ ہر سا ل رو ایتی مضا مین میں پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن جب کو ئی شخصیت ہمہ صفت ہوتو اس کا کو ئی نہ کو ئی پہلو وہ اہمیت حاصل نہیں کر پا تا اور نگا ہو ں سے اوجھل رہ جا تا ہے۔ جوبعض اوقات اس کی سب سے اہم خصو صیت ہو تی ہے ۔یہ ہی معا ملہ آقا ئے نا مدا ر(ص) کے با رے میں ہے کہ وہ ایک کا مل شخصیت تھے ۔ لہذا لو گو ں نے انہیں بطو ر نبی(ص) پیش کیا، بطو ر بہترین سپائی پیش کمانڈر پیش کیا، بہترین منتظم پیش کیا ، منصف وغیرہ وغیرہ پیش کیا۔ مگر کسی بھی اسکا لر نے ان(ص) کے اس وصف پر زیا دہ روشنی ڈا لنے کی کوشش نہیں کی جو اس دور میں اور ان کی شخصیت میں نا در الو جو د تھا۔ اوران (ص) کے خا لق کی نگا ہ میں سب سے زیا دہ اہم بھی۔ وہ تھیں دو صفا ت جو قدرتی طو ر پر ہمیشہ ایک دو سری سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں اور“ خلقِ عظیم اور رحمت“ یعنی بہ الفا طِ دیگر ایک انتہا ئی اچھا اخلا ق اور کر یما نہ طبیعت جو خالق کی نگا ہ میں سب سے ا ہم تھی ۔جس نے بے حسا ب مخلو ق تخلیق کی اور ان سب میں سے ایک (ص) کا مل انسا ن پیدا کیا جس پر تما م اکملیت ختم کر دی اور اس میں سے اس کے نز دیک سب سے زیا دہ جو چیز اہم تھی وہ اس نے چن لی جو کہ رحمت تھی اور حضو ر(ص) کی اکملیت کے حسا ب سے وہ بھی انہیں بہ د رجہ اتم عطا فر ما ئی ۔
لیکن حضور(ص)کا دور، وہ دو ر تھا جس میں حکمرانو ں کی عظمت دو سری چیزو ں کی بنا پر ما نی جا تی تھی۔ وہ تا ریخ نویسوں نے حضو ر(ص)میں پا ئیں اورچن لیں اور جو جمع کنند گان کے خیال میں ا ہم تھیں اور اس وقت تک لو گو ں کے سینو ں میں محفو ظ رہ گئیں تھیں، ان کو محفو ظ کرلیا گیا ۔کیو نکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ ایک دو ر ایسا بھی آئے گا۔ جس میں سیرت کے اِس حصہ کا کھو ج لگا نا ہو گا جس کو خدمتِ خلق ،ایثار اور قربا نی کہتے ہیں اور اس کو ایک وقت میں وقت کے لحا ظ سے سب سے زیا دہ اہمیت دی جا ئے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضو ر (ص) کے چا لیس سا لہ کا رنا مے جو کہ لا کھو ں کی تعداد میں ہو نا چا ہیئے تھے ،کیو نکہ انکا(ص) پہلا چا لیس سالہ دور انہیں پر مشتمل تھا، ان میں سے چند کے سوا کچھ درج نہیں ہے۔ کیو نکہ اس دور میں نہ کا غذ تھا نہ قلم اور نہ خوا ندہ لو گ۔ وہ یا دا شتیں بھی اسی طرح سینو ں میں تھیں جس طر ح دوسرے کا ر نامے، مگر جمع نہ کر نے کے با عث جا نے والوں کے سا تھ وہ بھی چلی گئیں ۔ اور ان کا اب چو دہ سو سا ل کے بعد سرا غ لگا نا نا ممکن ہے ۔ جبکہ بعد میں بھی جیسی جیسی ضرورت ہو تی گئی اس پر لو گ حضو ر(ص)کے دنیا سے پر دہ کر نے کے بعدمتو جہ ہو تے گئے۔ مثلاً ارکا ن اسلام اور روزمرہ کا کا رو با ر چلا نے کے لیئے احا دیث اورسنت کی ضرورت پڑی، اور لو گو ں نے محسو س کیاکہ صحابہؓ کرام انتقال فرماتے جا رہے ہیں اور وہ بھی سا تھ میں دفن ہو رہی ہیں ۔تو ان کو اکھٹا کر نا شروع کیا اور ایک ایک حد یث کے لیئے میلو ں کاسفر کیا ؟مگر سیرت کے اس حصہ کی اس وقت کو ئی خا ص ضرورت محسو س نہیں کی گئی۔ لہذا کسی نے ان کو محفوظ بھی نہیں کیا اور اب جبکہ دنیاہر چیز کاثبو ت ما نگتی ہے۔ جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک منٹ سے کم عرصہ میں دنیا کے اس کو نے سے اس کو نے تک پہو نچ جا تا ہے۔ اگر سیرت کے کسی طا لب علم سے یہ سوا ل پو چھ لیاجا ئے کہ حضور(ص)کورحمت اللعالمین کیو ں کہا جاتا ہے؟ تو وہ بغلیں جھا نکتا نظر آئے گا ۔ اللہ تعا لیٰ مو لا نا حا لی ؒ کی قبر کو منو ر فر ما ئے کہ انہو ں نے سب سے پہلے مسدس ؔ حا لی میں یہ اشعارکہہ کر حضور(ص)کا بڑا خو بصو ر ت تعا رف پیش کیا ہے ؂وہ نبیوؑ ں میں رحمت ؐلقب پا نے وا لا وہ اپنے پرا ئیوں کے کا م آنیوالا ۔ حرا سے اتر کر سو ئے قوم آیا اوراک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا “ ان ا شعار میں جو واقعا ت جس طر ح رو نما ہو ئے اسی تر تیب سے مو لا نا نے پیش کیئے ہیں ۔ یعنی سب سے پہلے خدمتِ خلق رحمت ،شفقت اور مروت دیا نت وغیرہ جو چا لیس سا ل تک حضور(ص)کا طر ہ امتیا ز تھی۔ یعنی غلا مو ں کے حما یتی بو ڑھو ں کے مدد گا ر اور مظلو مو ں کی داد رسی ان کا شیوہ تھا۔ جس کا اظہار ام المونین حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے پہلی نزول وحی پر حضور( ص) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ،جس کے لیئے قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ“ اس کا عا مل کبھی فنا نہیں ہو گا “ اورحضور(ص) نے امت کوتلقین فر ما ئی کہ خد مت کرو ،خدمت کرو ، خدمت کرو ۔ اور “ایک حدیث میں فر ما دیا کہ وہ انسا ن ہی نہیں جو انسا نو ں کے کام نہ آئے “ چو نکہ ابتدائی دور میں حضور(ص)کے پا س سوا ئے خد مت خلق اور حقوق العباد کے کو ئی اور ذمہ دا ری نہیں تھی، لہذا یا تو وہ لو گو ں کی خد مت میں وقت گزا رتے تھے یا پھر عبا دت میں ۔ ان میں سے تھو ڑی سی مثا لیں اگر کسی کامطا لعہ وسیع ہے تو کہیں کہیں سیرت کی کتا بو ں میں بکھری ہو ئی ملیں گی، لیکن افرا ط سے اس لیئے نہیں ہیں کہ جیسا ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس کی طرف تو جہ نہیں دی گئی۔کیونکہ سیرت نگا روں کے نز دیک وہ حصہ زیا دہ اہم تھا جو نبوت (ص) پر مبعو ث ہو نے کے بعد کے دو ر پر مشتمل ہے ۔ اس سے پہلے کے واقعا ت اگر کہیں نظر بھی آئیں ۔ تو عا م قا ری یو نہیں پڑھ کر گزر جاتا ہے ۔کیو نکہ اس کے لیئے کو ئی علیٰحدہ با ب مو جو د نہیں ۔ مگر آج کے دو ر میں ان ہی کی سب سے زیا دہ ضرو رت ہے کیو نکہ یہ دو ر خدمتِ خلق کا دور ہے جس میں مسلم امہ سب سے پیچھے ہے۔اور جس کی ابتدا حضو ر(ص) سے ہو ئی تھی جو کہ ان کی اور صفا ت کی طر ح ان (ص)میں اکملیت کے در جہ پر پہو نچی ہو ئی تھی ۔ ہما ری صو رت حا ل یہ ہے کہ یہ کسی بھی مسلما ن سے پو چھیں کہ وہ کیا تھے تو فخر سے کہے گا کہ وہ رحمت اللعا لمین تھے،مگر وہ خصو صیا ت کیا تھیں جن کی بنا پر وہ رحمت اللعا لمین کہلا ئے اور خو د ان (ص)کے خا لق نے ان کو رحمت اللعا لمین فر ما یا۔اس پر بڑے سے بڑا عا لم چند مثا لو ں کے بعد مجبوراًخا مو ش ہو جا ئے گا؟
جبکہ غیر مسلم حضو ر(ص) کے زما نے سے لے کر آج تک وہ تمام چیزیں جمع کر تے آئے ہیں۔ جو گمرا ہ کن اور جھو ٹ کا پلندہ ہیں۔ تاکہ حضور(ص)کے اوصاف حمیدہ کے خلا ف کسی طر ح کچھ بھی ثا بت کیا جا سکے اور ہم اس کے جو اب کے لیئے آج دلا ئل سے مسلح نہیں ہیں لہذا، بعض اوقا ت ہم جھنجھلا ہٹ کا مظا ہرہ کرتے ہیں اور ڈنڈے سے کام لیتے ہیں۔جو کہ قطئی غلط رویہ ہے اس لیئے کہ دلا ئل کا جو اب دلا ئل سے وہ بھی حکمت کےساتھ آج کی دنیا میں پسند کیا جا تا ہے ۔لہذا ہما رے پا س جو بھی بچا ہواسر ما یہ مو جو د ہے اس کو یک جا کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر مزید تحقیق کی بھی ۔تو جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں حضور(ص) نے چا لیس سا ل تک صرف اور صرف خد متِ خلق کی ۔یہ ہی وجہ تھی کہ تما م پسما ند ہ لو گ ان کے ہم نوا بن گئے ۔ کیونکہ وہ غلا مو ں کی حما یت کر تے ،بو ڑھو ں کا بو جھ ڈھو تے، لو گو ں کے ما ل کی حفا ظت کر تے لہذا لو گ ان کی دیا نت کی وجہ سے اما نتیں ان کے پا س رکھتے ۔اور اس کے لیئے جس چیز کی ضرو ر ت ہو تی ہے وہ بھی پر ور دگا ر نے ان (ص) کو بد رجہ اکملیت عطا کی تھی وہ تھا جذ بہ ایثا ر ۔اس کا پہلا مظا ہر ہ جو ہمیں پیدا ئش کے فو راً بعد نظر آتا ہے وہ یہ تھا کہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئیؓ کو اپنے اوپر تر جیح ،ما ئی حلیمہؓ فر ما تی ہیں کہ میں اگر انہیں (ص) دو دھ پلا نا بھی چا ہتی وہ اس وقت تک نہ پیتے جب تک میرا بیٹا نہ پی لیتا اور صرف ایک پستان سے پیتے، یہ اس اکملیت کا پہلا ثبوت تھا ۔جو نظر آتا ہے ۔اس کے بعد بڑے ہو ئے تو ما ئی حلیمہؓ کو کبھی انہو ں(ص) نے تنگ نہیں کیا نہ ضد کی نہ شرا رتیں بلکہ کو شش کر تے کہ ان کا ہا تھ بٹا ئیں۔ اس کے بعد وہ دو ر آیا کہ وہ گھر سے با ہر تشر یف لے جا نے لگے، گو کہ یہ ان کی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ کا م کر یں ،مگر وہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئی بہنو ں کا ریو ڑ چرا نے میں ہا تھ بٹا تے ۔اس کے بعد وہ مکہ آگئے ۔ اور یہا ں غلا مو ں کے سا تھ ظلم دیکھا ،ان کی وہ (ص)جو بھی مدد کر سکتے تھے کر نے لگے ۔
جب جو انی کو پہو نچے تو انہو ں (ص)نے پو رے معا شرے کو بر ائی میں ملو ث پا یا ۔لہذا انہو ں نے ایک کمیٹی بنا نے پر سردا روں کو را ضی کر لیا اور وہ (ص) اس کے ذریعہ پسا ند ہ اور مظلو مو ں کو امدا د فرا ہم کر نے لگے ۔چونکہ وہ (ص)اس میں سب سے زیادہ فعال تھے ، یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہا حا لانکہ وہ ان کے(ص)نبو ت کا دعویٰ کر نے کی وجہ سے قریش سب کے سب دشمن بن چکے تھے ۔اس دو ر میں بھی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے جس کو لو گو ں نے اور طر ح پیش کیا ہے؟ وہ یہ تھا کہ ابو جہل نے ایک بدو سے اونٹ خریدا اور پھر نا دہند ہ ہو گیا کسی نے حضو ر(ص)کی طر ف اشا رہ کر کے کہا ان (ص) کے پا س چلے جا ؤ وہ (ص) دلوا دینگے۔ وہ حضو ر(ص) کے پا س آیا ، درخواست کی ،آپ (ص)فوراً اس کے سا تھ چلد دیئے اور جیسے ہی اس نے حضو ر(ص)کے ہمرا ہ اسے دیکھا ابو جہل نے فو راً اس کو رقم لا کر دیدی ۔اس آدمی کا کہنا اور حضو ر (ص)کا جا نا اسی معا ہدہ کے تحت تھا ۔لیکن جن کو اس معا ہدے کا علم ہی نہیں ہے وہ دوسری تو ضیحات پیش کرتے ہیں کہ “کسی نے مذاق میں کہا تھا “ اب آگے دیکھتے ہیں کہ ایک ضعیفہ مکہ چھو ڑ کر جا رہی حضور(ص) اس کا سا مان اٹھا لیتے ہیں۔ اور اس کو کارواں تک پہو نچا دیتے ہیں۔حضو ر (ص)اس سے پو چھتے ہیں کہ اِس ضعیفی میں وجہ سفر کیا ہے؟ تووہ کہتی ہے، بیٹا !میں اپنا ایما ن بچا کر لے جا رہی ہو ں ۔یہا ں ایک شخص ہے محمد (ص)نام کا ، وہ(ص) بڑاہی جا دو گر ہے ایسا الفا ظ کا جا دو چلا تا ہے کہ لو گ اس (ص)کے مطیع ہو جا تے ہیں، تم بہت اچھے آدمی ہو اس سے بچ کر رہنا اور ہا ں بیٹا ! تمہا را نا م کیا ہے ؟ حضو ر (ص)فر ما تے ہیں محمد (ص)، اور وہ ایما ن لے آتی ہے ۔ دوسرا واقعہ سنئے کہ ایک بو ڑھی جب حضور(ص) وہاں سے گز ر تے ہیں تو انتظا ر میں رہتی ہے اور ان(ص) کے اوپر روزانہ کو ڑا پھینکتی ، ایک دن وہ نظر نہیں آتی ہے تو حضور(ص) اس کے دروازے پردستک فر ما تے ہیں ۔ وہ پو چھتی ہے کو ن ہو کیسے آئے ہو ؟ تو حضو ر (ص)فر ما تے ہیں میں محمد (ص)ہوں آج تم نظر نہیں آئیں تو تمہاری خیریت پو چھنے آیا ہوں۔ اس نے بتا یا کہ میں بیما ر ہوں۔ اس وجہ سے نہ آسکی اور وہ شرمندہ ہوکرایما ن لے آتی ہے ۔ حضور(ص) کے قتل کے منصو بے بن رہے ہیں مگر لو گ اپنی اما نتیں اب بھی ان ہی کے پا س رکھتے ہیں۔حضو ر(ص) انتقام میں انہیں غصب نہیں فر ما تے ہیں۔ حتیٰ کہ جس را ت ہجرت فر ما تے ہیں ان اما نتو ں کو سپرد کر نے کے لیئے اپنے سب سے زیا دہ چہیتے چچا زاد علی ؓ کو خطر ے میں ڈا لد یتے ہیں ۔جب کہ اِس کی تا ریخ میں ایک اور مثا ل بھی مو جو د تھی کہ پرانی امتوں میں سے ایک نے ترک َ وطن کیا تو امانتیں ساتھ لے آئے تھے ؟اس کے بعد جب ایک عرصہ کی جلا وطنی کے بعد بطو ر فا تح حضور(ص) مکہ میں دا خل ہو تے ہیں ۔دس ہزا ر جا نثا ر فو ج ہم رکا ب ہے ۔ اب وہ لو گ لر ز رہے ہیں جنہو ں نے حضو ر(ص) اور مسلما نو ںؓ کی زند گی اجیرن کیئے رکھی ،حج اور عمرہ جس سے کسی کو بھی رو کنے کا رواج نہ تھا، وہ بھی نہیں کر نے دیا ۔ حضرت بلا لؓ کو ریت پر تپا نے وا لے غلا مو ں کو اس خطا پر مار نے وا لے کہ انہو ں نے اسلام قبو ل کیوں کیا۔ حضو ر(ص) پر کئی سا ل تک دا نہ پا نی بند کر نے وا لے سب خا ئف ہیں اور پر یشا ن ہیں کہ دیکھیں اب کیا ہو تا ہے؟ کہ ایک منا دی کرنے والا اعلان کر تا ہے کہ جو حرم میں ہو وہ محفو ظ ہے، جو اپنے گھر میں بیٹھا رہے وہ محفو ظ ہے۔ حتیٰ کہ جو حضور(ص) پر اور حضرت بلا لؓ پر ظلم ڈھا نے والے کے گھر میں پنا ہ لے وہ بھی محفو ظ ہے ۔ حضو ر (ص) حرم میں دا خل ہو کر فر ما تے ہیں کہ آج کے دن کو ئی انتقام نہیں ہے ،میں (ص) سب کو معا ف کر تا ہو ں ۔لو گ جو ق در جو ق بیعت کے لیئے حا ضر ہو رہے ہیں ان میں ابو سفیا نؓ کی بیو ی ہندہ بھی ہے ۔ جس نے حضو ر(ص)کے چچا حضرت حمزہ ؓ کاکلیجہ نکا ل کر چبا یا تھا ۔ وہ جا تے ہو ئے ڈرتی ہے منہ چھپا تی ہے مگر معا فی لے کر نکلتی ہے ۔ عکرمہ بن ابو جہل کی بیوؓ ی آکر کہتی ہیں جو خود مسلمانؓ ہیں اور مدینہ ہجرت کر چکی ہیں۔ کہ عکر مہ اور صفوان بن امیہ بھا گ گئے ہیں اگر آپ انہیں معا ف کر دیں۔ تو میں انہیں لے آؤ ں حضو ر(ص)فر ما تے ہیں لے آؤ معا فی ہے ۔ یہ دو نو ں وہ تھے جو کہ اس دن بھی جنگ سے بعض نہ آئے اور حضرت خا لدؓ بن ولید سے بھڑ گئے، اور جب شکست کھا ئی تو فرار ہو گئے ۔ عکر مہ بھا گ جا تا ہے مگر صفوان کو جہا ز نہیں ملتا ہے لہذا وہ انؓ کو مل جا تا ہے اس کو معا فی کا یقین نہیں آتا مگر ان کے یقین دلا نے پر چلد یتا ہے جب در با رِ رسا لت میں پہو نچتا ہے تو کہتا ہے کہ میں ایما ن دو ما ہ بعد لا ؤنگا اگر میرا دل چا ہا تو حضو ر(ص) فر ما تے ہیں تمہیں دو ما ہ نہیں چا ر ما ہ کی مہلت ہے ۔وہؓ ایک ما ہ کے بعد ہی غزوہ حنین میں مدد کر تے ہیں اورایما ن لے آتے ہیں ۔ جبکہ عکر مہؓ، مدینہ میں آکر مشرف بہ اسلام ہو تے ہیں ۔ حبشی جس نے حضر ت حمزہؓ کودھو کے سے اپنے حر بہ مارکر شہید کیا تھا چھپتا پھر رہا ہے کیو نکہ اب پو را عرب اسلام میں دا خل ہو چکا ہے اس وقت کو ئی اسے مشو رہ دیتا ہے کہ کمبخت رحمت سے نا امید کیو ں ہے ؟ وہ(ص) تو رحمت ِ عا لم ہیں ۔جا اور جا کر ان (ص)کے سا منے کلمہ پڑھے لے وہ جا تا ہے اس حا لت میں کہ کلمہ اس کی زبا ن پر ہے حضو ر(ص) اس کو بھی معا ف فرمادیتے ہیں ۔اس ہدا یت کے سا تھ کہ آئندہ میرے (ص) سا منے نہیں آ نا کہ میں بھی انسا ن ہو ں اور میرے منہ سے مبا دا کو ئی تیرے لیے کوئی غلط با ت نکل جا ئے ۔ حضور (ص) کا اپنا آبائی مکان ابو لہب کی اولاد کے قبضہ میں ہے، حضرت خدیجہؓ والا مکان ابو سفیانؓ کے قبضے میں ہے، اس کا قبضہ واپس لینا چاہیئے تھا، مگر وہ(ص) انہیں کو بخش دیتے ہیں اور جب صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ حضور(ص) ہمارے مکان تودلوا دیجئے جو انہوں نے ہجرت کرنے کے جرم میں چھینے تھے۔ مگر حضور (ص) فرما تے ہیں کہ کیا تم جنت میں اس کے بدلے میں اس سے بہتر مکان نہیں چاہتے ؟وہ بھی سب اپنے دعوے سے دستبردار ہو جاتے ہیں ؟کیا ایسا انسان اور وہ بھی فاتح، دنیا نے کو ئی اوردیکھا ؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اسی لیئے حق تعا لیٰ نے فر ما یا۔ وما ارسلٰنک الارحمت اللعا لمین ( اے محمد)“ہم نے آپ کو تمام جہا نو ں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے“(سورہ آلِ عمران آیت 107 )

SHARE

LEAVE A REPLY