اس تصویر میں کشور دائیں سے دوسرے نمبر پر ہے یہ لوگ ریڈیو میں 1988 میں آئے

کل سارا دن یونہی چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اور پھر واپس پرانی جگہ ہر رکھتی رہی کیونکہ دماغ میں چلنے والی ریل بار بار رول بیک کر رہی تھی اور میری آنکھ کے پردے پر ایک چہرہ بار بار آکر رک رہا تھا دو آنکھیں تھیں اور ان میں ان کہی کہانیاں تھیں۔۔۔

اس چہرے کو میں نہ تو دوست کہہ سکتی ہوں بلکہ شاید ساتھی بھی نہیں لیکن اس کی موجودگی میرے کئی سالوں پر محیط رہی ہے وہ کشور سلطانہ سے کشور ارشاد کب اور کیسے بنی میں نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی بس ایک احساس اکٹھے کام کرتے ہوئے ضرور رہا کہ کبھی ضرورت پڑی تو اس دھیمی مسکراہٹ اور سبک رفتار لڑکی کو آزمایا جا سکتا ہے ۔۔

ایسا موقع تو نہ آیا لیکن ہمارا خاموش رشتہ وقت کے ساتھ مظبوط ہوتا رہا ۔آج سینکڑوں میل دور سے آنے والی صدائیں بتا رہی ہیں کہ تم چلی گئ ہو شاید اوپر والے کو بھی کسی خاموش ورکر کی ضرورت پڑ گئ ہو۔۔۔لیکن میں کیا کروں میرے اندر کا کہانی کار تم سے تمہاری کہانی نہ سننے کا ملال دور نہیں کر پا رہا کاش میں نے وقت نکال کر اپنے اور تمہارے درمیان یہ خاموشی توڑی ہوتی شاید دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا تو وہ یوں اچانک دھڑکنا بند تو نہ کر دیتا۔۔۔۔

کاش ہم دل بند ہو جانے سے پہلے دلوں تک پہنچ پایا کریں۔۔۔لیکن ہم تو ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں محبت دینے میں پیار بانٹنے میں۔۔اور ہھر پچتھاوں کے سائے میں منہ چھپائے پھرتے ہیں۔۔۔۔کشور جہاں رہو خوش رہو۔۔

نباہت علی

SHARE

LEAVE A REPLY