اسلام اور حقوق العباد (69)۔۔سخاوت اور بخل ۔۔۔شمس جیلانی

0
877

ہم نے رمضان کو صلہ رحمی کا مہینے قرار دیا تھا کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمان سب سے زیادہ راہ ِخدا میں اپناما ل خرچ کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہر نیکی اجر سات سو گناہ یا “ بغیر ِحساب “ تک بڑھ سکتا ہے جو کہ بندے کے اپنے خلوص پر منحصر ہے۔ جبکہ ا حادیث میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو دینے سے اس کااجر دو گنا ہوجاتا ہے۔ چونکہ ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ مشورہ دیتے ہوئے وہ اپنے بھائی کی خیر خواہی کرے؟ لہذا ہم نے بھائیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس مہینہ میں سب زیادہ اپنوں پر خرچ کریں اور اس طرح اس ماہ کو“ صلہ رحمی کامہینہ بنا لیں اور زیادہ سے زیادہ سے زیادہ اجر بھی حاصل کریں“ مگر ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہو ئی کہ گزشتہ صدی کے ایک مفسر نے یہ لکھا ہے۔ “ شعب ابی طالب میں بنو ہاشم نے اس لیے حضور (ص)کا ساتھ دیا تھاکہ یہ عہد ِ جہالیہ کی رسم تھی کہ ہر ایک اپنے خاندان کی حمایت کرتا تھا“ جس میں ماضی کا صیغہ “ تھا “ استعمال کرنے کی بنا پریہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ اب اسلام نے آکرخدا نخواستہ اس کوترک کردیا ہے؟ جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ احادیث تک ہی منحصر نہیں بلکہ قرآن کی آیتیں بھی اس فعل کےحق میں ہے؟ لہذااس سے پیدا ہونے والے ا مکان کے ازالے کے لیے ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ اس پر دوبارہ بات کریں؟کیونکہ اسلام میں نہ صرف یہ ابتک باقی ہے بلکہ حضور (ص) نے تو یہاں تک فر مادیا کہ“ قطع رحمی کرنے والا( جو کہ صلہ رحمی کی ضد ہے،جنت کی خوشبو تک بھی نہیں سونگھے گا “یہ پرو پیگنڈوں ایک دور تھا جوکہ پچھلی دیڑھ صدی میں پھیلایا گیا تھا، جوکہ ا ب تقریبا ً ختم ہوچکا ہے جس میں اس قسم کی باتیں جان کر پھیلائی گئیں تھیں یہ سوچے بغیر کہ اس کے نتائج کیا مرتب ہونگے؟ جو دنیا نے بعد میں بھگتے اور ابھی تک بھگت رہی ہے جبکہ وہ جانتی بھی ہے اور کہہ بھی رہی ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جبکہ نہ جانے ا بھی اور کب تک وہ مصیبت جھیلے گی؟اس غلط فہمی کو دور کرنے کے بعد اب آگے بڑھتے ہیں؟
زمانے جہالیت سے لیکر ہر معاشرہ میں سخاوت کو بہت ہی زیادہ اہمیت حاصل رہی اور ابھی تک ہے؟ اس میں نہ صرف مردوں کے نام ہیں، بلکہ خواتین نے بھی اس میں نام پیدا کیا ہے جیسے کہ حضور(ص) کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کا لقب سخات کی وجہ سے خیر النساء تھا۔ یا حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ تھیں جو اپنی ایک ایک پائی راہ َخدا میں خرچ کرکے اسلام اور انسانیت کی محسنہ بنیں۔ جبکہ مردوں میں بہت سے ہو گزرےہیں جن میں کہ حضور(ص) کے دور سے کچھ ہی پہلے زمانہ جہالیہ میں حاطم طائی تھے۔جن کا حضور (ص) نے اس وقت بھی خیال فرمایا جبکہ ان کے صاحبزادے نے حضور (ص) کے خلاف لڑائی میں حصہ لیااور شکست کھاکر راہ ِ فرار اختیارکی۔ان کی ہمشیرہ گرفتار ہوکر حضور(ص) کے دربار میں بطور لونڈی پیش ہوئیں اور اپنے والد کے نام کی دوہائی دی کہ “میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں، میرا بھائی مجھے چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے۔ اب میرا کوئی نہیں ہے جو کہ مجھے رہائی دلائے، آپ میرے اوپر رحم فرمائیں“ حضور (ص) نے پوچھا کہ تم کیا چاہتی ہو؟ اپنے بھائی کے پاس جانا چاہتی ہو، یا یہاں رہنا ؟ تو انہوں نے بھائی کے پاس جانا پسند کیا۔ حضور(ص) نے ان کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ فرمایا جس کی ا نہوں نے بھائی سے جاکر اتنی تعریف کی کہ وہ بھائی جو باغی تھے، حضور (ص) قدموں میں آگرے اور بعد میں جید صحابیوں میں بھی شامل ہوئے؟
اس کی ضد بخل ہے؟جن میں سے ایک بنی اسرئیل میں سے مشہور شخص قارون تھا۔ جوکہ اپنی بخالت کی کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہوا؟ احادیث میں حضور (ص) نے بخالت کی سخت مذمت فرمائی ہے،یہ فرما کر کے کہ “ بخیل مسلمان نہیں ہوسکتا“جبکہ قرآن میں بہت سی آیات میں بخالت کی شدید مذمت آئی ہے۔ چونکہ اسلام ہر فعل میں توازن قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے اس لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فرماکر رہنمائی فرمائی ہے کہ “ نہ اتنے مخیر بنو کہ خود ہی فقیربن جاؤ اور نہ ہی ا تنے بخیل بنو!کہ ہاتھ گردن سے باندھ لو؟ آج کے دور میں سخاوت میں ایک تیسری قسم بھی شامل ہوگئی ہے کہ مال بناتے ہوئے یہ مت سوچو کہ حرام ہے یاحلال بعد میں اسی سے حاجت مندوں کونواز و، بھوکوں کے لیے لنگر کھولکر نام پیدا کرو؟ مسجدیں بناؤ؟ جس کی اللہ سبحانہ نے سخت مذمت فرمائی ہے۔ کہ ایسے لوگو ں کو اپنی بد عوانیوں کی کڑی سزا بھگتنا پڑے گی کہ اللہ مال حرام سے کی ہوئی خیرات کوبھی حرام قرار دیتا ہے یہ صرف مال حلال ِ سے خرچ کرنے والوں کیلیے باعث اجر ہے؟وہی مال ِ حرام کمانے والوں کے لیئے شدید عذاب کا باعث بھی ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY