ملک میں سیاسی ، معاشی اور عدا لتی بحران ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ عدالت عظمی کے ججز میں کٹی ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹرار نےایک سرکلر کے ذریعہ سینیئر جج اور آئندہ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ۔

ہم مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ہم یہ دعوی کرکے بھی نازاں ہیں کہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلام ہیں.
لیکن اچھی اور اصولوں پر ممبنی اور سنہری حروف سے لکھی جانےوالی کہانیاں اغیار سے سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری جب وزیر ریلوے تھے تو ایک ٹرین حادثہ ہوا جس میں بہت سارے مسافر جا ں بحق ہوگئے ، لال بہادر شاستری نے فوری طور پر یہ کہہ کر کہ” وہ بطور وزیر ریلوے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکا” وزارت سے استعفی دیدیا ۔اس نے ہمارے وزراء کیطرح یہ نہیں کہا کہ وہ انجن ڈرائیور نہیں تھے کہ استعفی دیں۔

آج کل ہماری اعلی اور ماتحت عدلیہ اپنے ماضی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتی دیکھائی دیتی ہے اور پلک جھپکنے سے قبل انصاف فراہم کیا جا رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ تلافی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کیسز تک محدود ہے۔

ہمارے ازلی دشمن بھارت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق انڈین ریاست مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے جج جسٹس اتل سریدھرن نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے درخواست کی ہے کہ انکا تبادلہ کسی اور ریاستی ہائیکورٹ میں کردیا جائے۔ وجہ یہ بیان کی ہے کہ آئندہ سال انکی بڑی بیٹی اسی ریاست کی ڈسٹرکٹ و ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کر رہی ہے۔ انکا بطور جج اسی ریاست میں رہنا مفادات کا ٹکروا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے یہ استدعا منظور کرتے انکا تبادلہ جموں وکشمیرہائیکورٹ کردیا ۔
جبکہ ہمارے ہاں ججز کے متعصب ہونا روز روشن کی طرح عیاں بھی ہو جائے تو بھی ہمارے ججز خود مقدمات کی سماعت سے معذرت کرکے بنچز سے الگ نہیں ہوتے بےشک مدعی ان ججز پر اعتراض اور عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہیں۔

گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے پوچھا کہ انہیں بنچ پر اعتماد ہے کہ نہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے واضح جواب تو نہیں دیا البتہ محض اسی بات پر اکتفا کیا کہ وہ کمرۂ عدالت میں تو موجود ہیں۔

عدالت نے تینوں جماعتوں کے وکلا سے کہا کہ وہ تحریری طور پر اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں۔ لیکن سماعت ختم ہونے تک ان جماعتوں کی طرف سے عدالت کو کوئی تحریری یقین دہانی نہیں کروائی گئی

تازہ ترین مثال پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کے لیے دائر تحریک انصاف کے راہنماوں کی درخواستوں کی سماعت کرنے والے ججز صاحبان کی ہے۔ ممکن ہے ان درخواستوں پر ان سطور کی اشاعت تک فیصلہ آچکا ہو۔
چیف جسٹس صاحب کے عہد میں متعلق یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ جسٹس منیر ککے زئی کی تاریخ دہرا رہی ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو
گا کہ نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ جیسا کئی کئی ہفتے آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوتا۔ جو آرڈر آف دی کورٹ جاری ہوا ہے اس اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کی جانب سے بار بار کی گئی فل کورٹ کی استدعا کھلی عدا لت میں تو مسترد کر دی گئی مگر آرڈر آف دی کورٹ میں اسکا ذکر نہیں اور نہ ہی جسٹس جمال خان مندوخیل کے بنچ سے ا لگ ہونے اور انکے فیصلے کو بھی آرڈر آف دی کورٹ کا حصہ بنانا بھی نامناسب سمجھا گیا۔
آخر میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے الفاظ پر اختتام کرتا ہوں کہ ” اللہ ہم پر رحم فرمائے”

SHARE

LEAVE A REPLY