پیارے طارق بٹ جیتے رہو – یقین جانو کہ یہ پہلے پانچ الفاظ جو میں ضبط تحریر میں لایا ہوں ان کے لئے مجھے اپنے دل پہ بھاری پتھر رکھنا پڑا ہے اس لئے کہ نہ تو تم پیارے ہو اور نہ ہی تمہارے جینے کی مجھے تمنا ہے جو کچھ تم نے میرے بارے میں لکھا اس کی وجہ سے تم صحافی قسم کے لوگ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے ہم سیاستدانوں کے ہر عمل میں خواہ مخواہ کیڑے نکالتے رہتے ہیں – ہم جو لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے لاکھوں کروڑوں ووٹ لے کر عوام کی خدمت کے لئے اپنا دن رات قربان کرتے ہیں تم جیسے ٹکے ٹکے کے صحافی ہم پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے –
ذرا یاد کرو وہ دن جب 2010 میں سیلاب آیا تھا کیا تم بھول گئے کہ تم جام پور میں داخل ہو رہے تھے اور میں اپنی ٹیم کے ساتھ سیلاب میں پھنسے بہن بھائیوں کی مدد کے بعد شہر سے باہر نکل رہا تھا کیا تم چشم دید گواہ نہیں کہ مظفر گڑھ کے علاقوں قصبہ گجرات ، سنانواں، بصیرہ ، چوک قریشی اور ہیڈ کالو کے سیلاب متاثرین کی میں نے اور میری ٹیم نے کس طرح مدد کی ، افسوس کہ یہ سب کچھ تمہاری نظروں کے سامنے ہوا مگر جب ذکر کرنے کا موقع آیا تو تم نے صحافتی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور میں ہونے والی بارشوں کے دوران میری لانگ شوز پہنے تصاویر کا ذکر تو چسکے لگا لگا کر کیا مگر سیلاب کے دوران میری خدمات کو سرے سے نظر انداز کر دیا –
اپنی گھٹیا صحافت کو چار چاند لگانے کے لئے تم 2008 کی الیکشن مہم کے دوران میری کی جانے والی تقریروں کا بار بار ذکر کرتے رہتے ہو کہ اگر میں نے چھ مہینے میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کر دیا تو میرا نام بدل دینا ، ٹھیک ہے کہ وقت تھوڑا زیادہ لگ گیا مگر کیا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا یا نہیں پانچ سال میں 13 ہزار میگا واٹ بجلی بنی یا نہیں اب تو ہمارے مخالفین نے بھی تسلیم کر لیا ہے مگر تمہارا زنگ آلود قلم ہماری کارکردگی کی تعریف لکھنے سے نہیں معلوم کیوں انکاری ہے کیا وہ وقت بھول گئے جب بیس بیس گھنٹے بجلی جایا کرتی تھی اور سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی دس دس میل لمبی لائن لگی ہوتی تھی یہ ہماری جماعت کی خدمت کی وجہ سے ممکن ہوا کہ گیس اور بجلی ہر ایک کو ملنے لگی مگر تم جیسے نام نہاد صحافیوں نے اپنی آنکھوں پر بغض اور منافقت کا چشمہ لگائے رکھا اور وہی کچھ لکھتے رہے جو ہمارے مخالفین تمہیں لفافہ دے کے لکھواتے رہے- اور تو اور میرا نام بھی شوباز شریف لکھتے رہے-
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو مگر میں ضرور یاد کراوں گا میرے خادم اعلی کی سیٹ سنبھالنے سے پہلے اسکولوں کی کیا حالت تھی آج پورے پنجاب میں گھوم کے دیکھ لو چاردیواریاں بن گئی ہیں جہاں باتھ روم نہیں تھے وہاں باتھ روم بنا کے دے دیئے اور تو اور ہر ہائی اسکول میں کمپیوٹر لیب بنا دی- اچھی کارکردگی دکھانے والے بچوں کو نہ صرف سولر سسٹم دیئے بلکہ کروڑوں اربوں روپے کے نویں نکور لیپ ٹاپ بھی دیئے گئے پڑھے لکھے جوان بچوں اور بچیوں کو میرٹ پر ایجوکیٹر بھرتی کیا یوں صرف نعرے نہیں لگائے بلکہ عملی طور پر نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے صوبے بھر کے اسکولوں میں بچوں کو بالکل مفت کتابیں دیں مگر تمہارے قلم نے جب بھی الفاظ اگلنے شروع کئے ہمیشہ یہی لکھا کہ اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اللہ تم سے پوچھے ان بچوں کو میں نے پیدا کیا تھا جن والدین کی یہ اڑھائی کروڑ بچے اولاد ہیں کیا ان کی اتنی بھی ذمہ داری نہیں بنتی کہ بچوں کی انگلی پکڑیں اور انہیں اسکول چھوڑ آئیں تمہاری خواہش تو یہی ہو گی کہ خادم اعلی گاوں گاوں گلی گلی گھوم کر ایک ایک دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھتا پھرے کوئی بچہ اسکول جانے سے تو نہیں رہ گیا اب خود سوچو اگر خادم اعلی یہی کام کرتا رہتا تو باقی کام کیسے ہوتے ؟-
میرا خیال ہے ابھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی ہو گی اس لئے مزید سنو میں نے جب بھی دل پر بھاری بھر کم پتھر رکھ کر تمہاری زہر آلود تحریر پڑھنے کی کوشش کی اس میں ہمیشہ اسپتالوں کی حالت زار کا دکھڑا ملا ایک ایک بستر پر تین تین مریضوں کی کہانیاں پڑھ کر مجھے تین عورتیں تین کہانیاں یاد آ جاتیں اب کوئی تم سے پوچھے کہ کیا تمہیں ایک بستر پر لیٹے تین مریضوں کے سروں پر لگے نویں نویلے ائیر کنڈیشنر نظر نہیں آئے دواوں سے بھری اسپتالوں کی فارمیسی پہ کبھی تم نے اپنی گناہ گار نظر کیوں نہ ڈالی وہ مریض تمہاری شکرے والی نگاہوں سے کیسے بچ گئے جو دوسرے صوبوں اور آزاد کشمیر سے پنجاب کے اسپتالوں میں علاج کے لئے پہنچ جاتے تھے چاروں صوبوں کے مریض پنجاب کے اسپتالوں میں پہنچ جائیں گے تو ایک ایک بستر پر تین تین چار چار ہی ہوں گے نا یا پھر تمہاری گھٹیا خواہش کے مطابق باقی صوبوں کے مریضوں کے علاج سے انکار کر دیا جاتا اور صوبائی تعصب کو ہوا دی جاتی کبھی تو اللہ کا خوف کر لیا کرو کبھی تو حقائق بھی لکھ دیا کرو-
مزید سنو باقی تینوں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا کسی بھی لحاظ سے پنجاب کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھ لو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں، سڑکوں غرض کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں تعصب کی عینک اتار کے جائزہ لے لو کاموں کے لحاظ سے جن قوم چینی مجھے ایسے ہی پنجاب اسپیڈ اور شہباز اسپیڈ کے خطاب نہیں دیتی بیماری اور لاچاری کے باوجود میں نے کام کیا ہے اور کام بھی ایسا جس کی اغیار بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں-
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے مخالفین کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کھائی ہوئی مرغن غذائیں تمہارے پیٹ میں مروڑ ڈالتی رہتی ہیں اسی لئے تو آج کل پھر تم نے اپنے ترکش کا رخ میری طرف کر رکھا ہے اب اور کچھ نہیں ملا تو اپوزیشن کا اتحاد تمہارے نشانے پر ہے روز طعنے دیتے ہو کہ زرداری کو گھسیٹنے والا اس کا پیٹ چاک کرنے کی باتیں کرنے والا اس سے گلے مل رہا ہے مجھے تمہارے طعنوں کی قطعا کوئی پرواہ نہیں اس لئے کہ تم صحافت کے اناڑی کھلاڑی ہو تمہیں کیا معلوم سیاست کسے کہتے ہیں یاد رکھو سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست اور نہ ہی مستقل دشمن ہوتا ہے سیاست وقت اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا نام ہے تم ہماری فکر چھوڑو اور ان کی فکر کرو جن کی تعریفوں کے پل باندھتے رہتے ہو اس وقت وہی تمہارے اخباری اور میڈیا مالکان سے مل کر تم صحافیوں کو بے روزگار کرنے پر تلے بیٹھے ہیں رہی میری بات تو میں عوام کا خادم تھا ہوں اور رہوں گا بقول شخصے تمہارا اللہ ہی حافظ …!












