انور عباس انور, پانچ جولائی 1977اور جنرل ضیا ء الحق اور جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں

0
1063

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی سیاست اور سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔ بھولے بھالے عوام کو ملکی معاملات سے بیگانہ کرنے کی اس مکروہ سازش اور عزائم کی تکمیل کے لیے باقاعدہ پلاننگ کی گئی اور مرحلہ وار اس سازش کو آگے بڑھایا گیا۔
اس سازش کے تحت سیاست اور سیاستدانوں کو اس ملک میں پائی جانے والی ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ عوام کو باور کرایا گیا کہ جمہوریت خلاف اسلام چیز ہے۔ اور یہ دھندا (جمہوریت) محض سیاستدانوں کے لوٹ مار کا ذریعہ ہے۔ جمہوریت سے ملکی معیشت اور مفادات کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت اور تحریک پاکستان کے راہنماؤں کی حکومتوں (1952 سے 1957 تک) کی اکھاڑ پچھاڑ اور بیوروکریٹس غلام محمد اور سکندر مرزا کے برسر اقتدار آنے کے پس پردہ یہی ”سیاست اور سیاستدانوں ” کو ناپسندیدہ چیزیں ثابت کرنے کی خواہش کارفرما تھی۔
جنرل ایوب خان کا اقتدار پر قبضہ کرنا اور جمہوریت پر شب خون مارنا اسی سازش کا حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایوب خان نے آتے ہی سیاستدانوں کو ایبڈو کے تحت نااہل قرار دے دیا۔ ایوب خان نے دس سال سے زائد عرصہ اس ملک پر حکمرانی کی۔
ایوبی دور ہی میں اپنی مرضی کے اور اپنی سوچ کے حامل اور وفادار سیاستدان پیدا کرنے کی نرسری لگائی گئی۔ بنیادی جمہوریت، لوکل گورنمنٹ اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے مختلف تجربات اس سازش کا نتیجہ ہیں۔
قیام پاکستان کے ساتھ ہی غیر سیاسی نظام حکومت کو ملک کے لیے سودمند ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ سیاسی جماعتوں اور جمہوریت میں سو سو کیڑے نکالے گئے۔
1971 کا سانحہ سقوط ڈھاکہ جمہوری اور غیر سیاسی قوتوں کے درمیان کھینچا تانی کا نتیجہ قرار دیا گیا کیونکہ غیر جمہوری قوتوں نے سیاستدانوں کو اقتدار سونپنے سے اس لیے انکار کیا کہ مشرقی پاکستان کے سیاستدان ان کے کہنے پر چلنے پر آمادہ نہیں تھے۔ مشرقی پاکستان سے اکثریتی جماعت عوامی لیگ اس وقت کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یحیی خان کی صدارت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس کے جو نتائج نکلے وہ سب کے سامنے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھر آیا جسے بنگلہ دیش کہتے ہیں۔
ملک کے دو لخت ہونے کے باوجود غیر جمہوری قوتوں نے کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہی خواہش روز بروز پہلے سے زیادہ قوی ہوتی گئی۔
سیاسی قیادت نے بڑی سنجیدگی اور تگ و دو کے بعد 1956 میں آئین بنایا جسے 1956 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ آئین پارلیمانی نظام حکومت کی بنیاد پر تھا۔
1970 کے انتخابات کے نتائج کو قبول نہ کرنے سے مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو باقی ماندہ پاکستان کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اقوام متحدہ سے بلایا گیا اور اقتدار انہیں سونپ دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے لیے یہ حکومت پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر کی حثیت رکھتا تھا۔ انہیں کمینے دشمن بھارت کی قید سے قریبا ایک لاکھ فوجی اور سول قیدیوں کو واپس لانے، بھارت ہی کے قبضہ میں پاکستان کا پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ واگزار کرانے سمیت بہت سے دیگر چیلنجز درپیش تھے۔ بے آئین زمین کے لیے ایک آئین کی تیاری، اور پاکستان اور افواج پاکستان کا مورال اور دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے کا بیڑا بھی انہیں اٹھانا تھا سو بھٹو صاحب نے اپنی صلاحیتوں،تدبر فہم و فراست کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی قیدی سے چھڑایا، پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ بھی واپس لیا۔
پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے متفقہ آئین منظور کیا اور ذوالفقار علی بھٹو نے بار بار لگنے والے مارشل لائکا راستہ روکنے کے لیے آئینی بندوبست بھی کیا۔ اس بندوبست کے تحت مارشل لاء کے نفاذ کو آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت قرار دیا گیا۔
لیکن آئین 1973 مارشل لاء کا راستہ تو نہ روک پایا ہاں اتنا ضرور ہوا کہ فوجی طالع آزما آئین کو منسوخ کرنے کی جرات نہ کر پائے۔ جنرل ضیائالحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء اور ایمرجنسی اس کے ثبوت ہیں۔
پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیائالحق نے آئین 1973 کے بندوبست کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان پر مارشل لاء مسلط کر دیا۔ یہ مارشل لاء بظاہر 90 روز کے لیے لگایا گیا تھا۔ جنرل ضیائالحق نے مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں، وہ 90 روز میں نئے انتخابات منعقد کروا کر اقتدار منتخب جماعت کو سونپ دیں گے اور واپس بیرکوں میں چلے جائیں گے،لیکن جنرل ضیائالحق کے 90 روزہ وعدہ گیارہ سالوں پر پھیل گیا۔ بالآخر قدرت نے انگڑائی لی اور پاکستان کے عوام کو مارشل لاء سے نجات دلائی۔ جنرل ضیائالحق کے دور میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا قبلہ درست کرنے کی کوشش میں لاکھوں سیاسی کارکنان کو پابند سلاسل کیا گیا۔ عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے لوگوں کو سرعام کوڑے مارے گئے۔ لوگوں کو پھانسی دی گئی.
ضیائالحق کے گیارہ سالہ دور میں نہ اسلام نافذ کیا جا سکا اور نہ ہی پاکستان کو اقوام عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ سوائے اس کے کہ پاکستان امریکہ کے لیے کرائے کا قاتل بن کر رہ گیا۔
یہ اعزاز جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی حاصل رہا۔ جنرل ضیائالحق اور جنرل پرویز مشرف دونوں نے افغانستان کے حوالے سے امریکہ کو اپنی خدمات پیش کیں اور اپنے اپنے اقتدار کو دوام اور استحکام دینے کے لیے ملک کو ترقی کو منجمد کر دیا اور معاشی بحران کے سپرد بھی کیا گیا۔ ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں چلا گیا۔ اس جنگ میں پاکستان کے لاکھوں افراد کے جنازے اٹھانا پڑے۔ ان مارشل لاء کے نتائج پاکستان اور عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔
”پاکستان کے اقتدار اعلی پر کس کا حق ہے ” اس مسلے پر آج بھی پاکستانی قوم منقسم اور نبرد آزما ہے۔
کہنے کو تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے اور عوام کی منتخب حکومت برسر اقتدار ہے لیکن بادی النظر میں منتخب حکومتوں کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل نہیں۔ منتخب حکومتوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے، فون ٹیپ ہوتے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقتدرہ قوتوں کو فیصلہ کن کردار حاصل ہے۔
یہ صورتحال زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ بنگلہ دیش کی معیشت ہم سے بہتر ہے۔ بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسی کی قدر ہمارے روپے کے مقابلے میں مضبوط کیوں ہے۔ دونوں ممالک ہم سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کی تقدیر کے مالکوں سوچئے ضرور سوچئے، اسی میں ہم سب کا اور پاکستان کی بھلائی ہے۔اسی میں ترقی ہے اسی میں عزت و وقار ہے۔مارشل لاء کا نفاذ کوئی فخر کی بات نہیں اور نہ ہی کسی اعزاز کی بات ہے۔آج جنرل ضیائالحق اور جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں؟
دو رمضان المبارک کو مجھے دو نوجوان صحافیوں رضوان حیدر اور محمد ظفراقبال کے ہمراہ اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، پی آئی ڈی اسلام آباد میں کام سے فراغت پاکر ہم فیصل مسجد دیکھنے چلے گئے، مسجد واقعی دیکھنے کے لالائق ہے، مجھے فیصل مسجد دیکھنے کا پہلی بار اتفاق ہوا،وہاں ظہر اور عصر کی نمازیں بھی ادا کیں۔ فنی تعمیر کے شاہکار فیصل مسجد کو دیکھتے ہوئے میری نگاہوں کو کسی اور کی تلاش تھی۔ میں پاکستان کے سب سے طویل حکمرانی کرنے والے جنرل ضیاء الحق کی قبرکا متلاشی تھا،میری نگاہیں بھی آمر مطلق کی قبرکو دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں، اپنے طور پر ناکام ہونے پر میں نے باہر نکلتے ہوئے شخص سے قبر کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ مسجد کے باہر وہ جو کمرہ دکھائی دے ہے وہ جنرل ضیا ئالحق کی قبر ہے۔ نشاندہی ہونے پر میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا، کوئی ویرانی سی ویرانی تھی، نہ کوئی بندہ نہ بندے دی ذات۔یہ ہے آمر کی آخری آرام گاہ۔۔۔۔۔۔ اس کے برعکس قائد اعظم کے مزار پر چلے جائیں یا سندھ کے دور افتادہ چھوٹے سے گاؤں گڑھی خدا بخش بھٹو تو وہاں ذوالفقار علی بھٹو کی قبر پر رونق لگی ملتی ہے،کچھ لوگوں کو فاتحہ خوانی کرتے پائیں گے اور کچھ تلاوت قران میں مصروف ہونگے

SHARE

LEAVE A REPLY