فوری انصاف مل گیا، مظلوم کو نہیں، ظالم کو۔ ماہ پارہ صفدر

0
734

کون کہتا ہے کہ پاکستان میں فوری انصاف نہیں ملتا۔اسلام آباد کی ایک عدالت نے صرف پانچ دن میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے والی ایک مقامی جج کی اہلیہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دس سالہ زخمی تشدد کا نشانہ بننے والی ملازمہ طیبہ کو اپنے والد کے ساتھ بھیج دیا۔اللہ اللہ خیر صلیٰ

اس سے پہلے ملازمہ کے والد نے جج اور ان کی اہلیہ کو ‘معاف’ کرتے ہوئے یہ تحریری بیان حلفی جمع کروائے کہ ‘انھوں نے کسی دباؤ کے بغیر راضی نامہ کیا ہے اور یہ بھی کہ وہ مقدمہ میں نامزد جج کو فی سبیل اللہ معاف کرتے ہیں، عدالت جج یا ان کی اہلیہ کو بری کرے یا ضمانت دے انھیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس پوری کاروائی میں دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت کے جج نے اسے من و عن تسلیم کرلیا۔ واہ کیا عدل ہے۔

شائد کسی کو حیرانی ہوئی ہو مگر کم از کم مجھے عدالت میں پیش کیے جانے والےاس صلح نامے اور غریب کو انصاف نہ ملنے پر اچنبھے کی کوئی بات نظر نہیں آتی۔

طیبہ کا تعلق پاکستان کے ان لاکھوں بچوں میں سے ہے جنھیں سکول بھیجنے کے بجائےان سے مشقت کروائی جاتی ہے۔ غریب خاندان اپنے قرضوں کی ادائیگی یا گھر کے اخراجات کے لیے اپنے معصوم بچوں کو فیکٹریوں، کھیتوں یا متمول گھرانوں میں گھریلو کام کاج کے لیے چھوڑ جاتے ہیں، جیسے طیبہ صرف آٹھ برس کی تھی جب اس کے والد جج کے گھر ملازم رکھوا گئے۔

عمومی طور پر گھریلو ملازمین کو زر خرید غلام سمجھا جاتا ہے اور اکثر گھروں میں جسمانی تشدد ایک عام روایت ہے، سماجی سطح پر اسے معمول کی کاروائی سمجھا جاتا ہے، اس تشدد کی رپورٹ تک نہیں ہوتی۔ اور اگر کبھی کبھار ایک آدھ کیس سامنے آ بھی جائے تو غریب ملازمین کے عزیز اقارب کی جانب سے اس قسم کے صلح نامے ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ معاشرے میں قانون پر عملداری نہیں بلکہ اس قسم کے رویوں کی بالواسطہ یا بلاوسطہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس میں صاحب زر اور اختیار قانون سے بچ نکلیں۔

کون نہیں جانتا اس قسم کے صلح نامے کیسے ہوجاتے ہیں۔ غریب کا منہ کیسے بند کردیا جاتا ہے۔ چند سکوں کے عوض کیسے خریدا جاتا ہے اورکیا غریب انصاف کے لیے کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔

اگر قانون کی پاسداری ہو تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جنھوں نے ایڈیشنل جج کی اہلیہ کی طرف سے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور حبس بیجا میں رکھنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہونے اور راولپنڈی میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے رپورٹ درج کروانے کے واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا، انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے قانون کے محافظ جج سے کم از کم یہ تو پوچھتے کہ دس سالہ بچی کو تو سکول میں ہونا چاہیے تھا وہ آپ کے گھر میں برتن اور جھاڑو کیوں کررہی تھی۔کم از کم جج صاحب کو انصاف کی کرسی سے تو اٹھا دیا جاتا۔مگر ایسا کچھ تو در کنار ابھی تک اس واقعے کی تحقیقات کی رپورٹ بھی عام نہیں کی گئی۔

ویسے پولیس اہلکار نے تسلی دی ہے کہ ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے اس مقدمے کی پیروی کرے گی۔ مگر کیا کبھی ماضی میں کسی غریب پر ظلم کرنے والےکو سزا ہوئی جو اب ایسی کسی خوش امیدی میں رہا جائے۔

مظلوم بچی کے والدین نے اللہ کے نام پر ظالمین کو معاف کردیا تو عدالت نے بھی اللہ کے نام پر معاف کردیا، اب اگر عدل ملکی قانون کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ کے نام پر ہونا ہے تو پھر عدالت کی بھی کیا ضرورت ہے۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY