بیرون دریا کچھ نہیں۔۔۔طارق بٹ

0
121

پاک وطن میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہننا ضروری ہے اور گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ باندھنا بھی۔ مگر ہم ان پابندیوں کو اسی طرح ہوا میں اڑاتے ہیں۔ جس طرح باقی قانونی ضابطوں کو۔ غور کریں تو میرے سیٹ بیلٹ باندھنے یا ہیلمٹ پہننے سے ریاست کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ تمام کا تمام فائدہ میری اپنی ذات اور جان کا ہے۔ مگر یہ میری شان کے خلاف ہے کہ میں سیٹ بیلٹ باندھوں یا اپنے سر کو محفوظ رکھنے کے لیے ہیلمٹ کو استعمال میں لاؤں۔ اس لیے کہ جب تک موٹرسائیکل کے حادثے کی صورت میں سر سڑک سے نہ ٹکرائے اور دماغ کی چولیں نہ ہلیں وہ کام کرنا شروع نہیں کرتا۔ اب آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج شائید میرا دماغ ہل گیا ہے کہ ابتداء ہی میں پابندیوں کا ذکر لے بیٹھا۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ بہت دنوں بعد پھر مجھے اپنے ڈرون کیمرے کا خیال آیا سوچا اس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ذرا حلقے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ڈرون کیمرے کو فضا میں بلند کیا ہی تھا کہ اس سے کوئی چیز آکر ٹکرائی جب جائزہ لینے کے لیے اس کا زاویہ تبدیل کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک کٹی ہوئی پتنگ تھی جو ڈولتی ڈولتی فضا سے زمین کی جانب رواں تھی اور نیچے زمین پر غیر سیاسی بچوں کا ایک پرجوش ہجوم ہاتھوں میں لمبے لمبے ڈنڈے لیے اسے لوٹنے کو تیار تھا ۔ ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اب کہنے کو تو میرے وطن میں سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کی پابندی ہی کی طرح پتنگ بازی پر بھی پابندی ہے مگر اس پابندی کو بھی آپ اکثر ہوا میں اڑتے دیکھ سکتے ہیں۔
کٹی پتنگ اور اس کو لوٹنے کی کوشش میں مگن غیر سیاسی بچوں کو دیکھ کر میرا دھیان سیاسی بڑوں کی طرف چلا گیا۔ جس طرح اچھی پتنگ بنانا اور خاص طور پر دوسرے کی پتنگ کاٹنے اور اپنی کو بچانے کے لیے اسپیشل قسم کی ڈور اور مانجھا تیار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں بالکل ویسے ہی غیر سیاسی بچوں کو سیاست میں لانا اور ان کی سیاسی تربیت کرنا بھی ہر کسی لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ سیاست بچوں کا کھیل نہیں۔ اس لیے ہر کوئی یہ کھیل کھیل بھی نہیں سکتا۔ بقول شاعر
؂ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
عوام میں مقبولیت ہر ایک کا مقدر نہیں بنا کرتی اور عوامی لیڈر بھی روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔ مقبولیت مل بھی جائے تو اسے قائم رکھنا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔ بہت سے رہنما دیکھے جو جب تک ایک مقبول جماعت کا حصہ رہے خود بھی مقبول رہے۔ یعنی ان کی مقبولیت مرہون منت تھی ان کی اپنی سیاسی جماعت کی۔
ایک وقت تھا کہ پورے پنجاب میں غلام مصطفے کھر کا طوطی بولا کرتا تھا۔ پھر وہ اس زعم میں مبتلا ہو گئے کہ وہ پارٹی یا اپنی لیڈر شپ کے محتاج نہیں رہے۔ اور یہی زعم انہیں لے ڈوبا۔ پارٹی چھوڑتے ہی وہ اس کٹی پتنگ کی مانند ہو گئے جو بلندی سے پستی کی جانب آتے ہوئے ادھر سے ادھر ڈولتی ہے اور جب پستی کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو غیر سیاسی بچے لمبے لمبے نوکیلے ڈنڈے لیے موجود ہوتے ہیں اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کٹی پتنگ صحیح سلامت کسی کے ہاتھ آجائے۔ پھٹ جایا کرتی ہے چھینا چھپٹی کے دوران۔
نیشنل پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ فنکشنل اور پھر وہاں سے محمد نواز شریف کا قرب تلاش کرتے کرتے آج غلام مصطفے کھر پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کے قریب ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یوں وہ غلام مصطفے کھر جس کا دبدبہ پورے پنجاب میں سر چڑھ کے بولتا تھا جب اپنی اصل ڈار سے بچھڑا تو پھر دیکھنے والی آنکھوں نے 2014کے دھرنے میں اسے طاہرالقادری کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے بھی دیکھا۔
اب ذرا ذکر ہو جائے ایک اور اہم سیاسی لیڈر کا جو بچپن میں ہی سیاسی ہو گیا تھا۔ اگر آپ بچپن کو نکال کر لڑکپن لگانا چاہیں تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ جناب جاوید ہاشمی کالج اور یونیورسٹی دور میں ہی ایک بہادر آدمی کے نام سے کافی معروف ہو چکے تھے۔ مگر جو عروج انہیں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن میں ملا اس کی مثال نہیں ملتی۔ کہ 2008 کے الیکشن میں جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر چار حلقوں سے حصہ لیا اور ان میں سے تین پر کامیابی حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی نے جاوید ہاشمی کو اسی زعم میں مبتلا کر دیا جو غلام مصطفے کھر میں عود کر آیا تھا انہوں نے اپنی قیادت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں اور بالآخر تمام تر منت سماجت کے باوجود بیگم کلثوم نواز اور خواجہ سعد رفیق کے بار بار سمجھانے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے ۔
پھر وہی ہوا جو اپنے ڈار سے بچھڑی کونج کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ لبدی پھردی ہے سجنوں کو۔ اپنوں سے جدا ہو کر غیروں کے گلے لگ کے پہلے پہلے تو بڑا مزا آتا ہے مگر چند ہی روز میں لگ پتا جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح جاوید ہاشمی کو لگ پتا گیا کہ نئی جماعت میں کیا چل رہا ہے۔ یہاں تو گزارہ مشکل ہے بلکہ ناممکن۔ قطع تعلق کرنا پڑا وہاں سے بھی اور پھر حلقے کے عوام نے بھی ان سے قطع تعلق کر لیا۔ کہاں نواز شریف کے نام پر چار میں سے تین حلقے اپنے نام کئے اور کہاں اپنی اصل کو چھوڑ کر میدان میں اترے اور چاروں شانے چت ہو گئے۔
مثالیں تو ہمارے سامنے اور بھی بہت سی موجود ہیں مگر جگہ کی تنگی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ بات کو طول دیا جائے اس لیے واپس حلقہ این اے52 کی جانب آتے ہیں جہاں ڈرون کیمرہ محو پرواز ہے۔ چودھری نثار علی خان کی نوتشکیل شدہ ٹیم حلقے کی ہر یونین کونسل میں ناراض گروپوں سے رابطے میں مصروف ہے۔ وہ ناراض گروپ جو بلدیاتی الیکشن کے دوران نظر انداز کرنے کی وجہ سے تاحال ناراض ہیں۔ ہنسی آتی ہے سوچ کر کہ وہ لیڈر جو اپنے قائد سے اور اپنی جماعت سے اس بنا پر ناراض ہے کہ اسے مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا۔ خود اس کی حالت یہ ہے کہ جب بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوا تو اس کے حلقہ انتخاب کی ہر یونین کونسل میں تین تین چار چار گروپ اس کی اپنی جماعت میں سے میدان میں آ گئے اور چودھری نثار علی خان جیسے زیرک سیاستدان نے قطعاً یہ کوشش نہ کی کہ ان کے آپس میں معاملات طے کروا دیتے اور باہمی مشاورت سے ہر یونین کونسل سے مسلم لیگ ن کا صرف ایک ہی گروپ سامنے آتا اور باقی سارے مل کر اس کی مدد کرتے۔ اس کے برعکس ہوا یوں کہ چودھری نثار علی خان کے معاونین ان اختلافات کو ہوا دیتے رہے اور یوں مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی چلی گئی۔ ان اختلافات سے جو دراڑ پڑی اس نے پی ٹی آئی کو اندر داخل ہونے کا موقع فراہم کر دیا یوں آج بہت سارے دھڑے پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے۔ اب چڑیوں کے کھیت چگ جانے کے بعد چودھری نثار علی خان دوبارہ سرگرم عمل ہیں کہ اس ٹوٹ پھوٹ کا مداوا کیا جا سکے۔ ہر یونین کونسل کو 75لاکھ کا دانہ ڈالا گیا ہے مگر یہاں بھی ڈنڈی ماری جا رہی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے ناراض گروپوں کو راضی کرنے کے لیے ان کے منصوبوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ جو سراسر زیادتی ہے۔
اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں وثوق کے ساتھ یہ بات گردش کر رہی ہے کہ چودھری نثار علی خان کے معاملات اب نواز شریف کے ساتھ بنتے نظر نہیں آتے حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ خود نواز شریف بھی اب چودھری نثار علی خان کو پہلے جیسی اہمیت دینے پہ آمادہ دکھائی نہیں دیتے اس لیے آئندہ الیکشن چودھری نثار علی خان آزاد امیدوار کی حیثیت میں لڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حلقے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اپنے معاونین کی خصوصی ڈیوٹی لگائی ہے اگر ایسا ہے تو پھر غلام مصطفے کھر اور جاوید ہامشی کی تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دھرائے گی کہ این اے 52 میں بھی اکثریتی ووٹ نواز شریف کا ہے اور یہ ووٹ اسی کو ملے گا جس کے پاس مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ہو گا امید ہے چودھری نثار علی خان جیسا سمجھدار سیاستدان اپنے آپ کو اپنی ڈار سے الگ نہیں کریں گے کہ موج دریا کے اندر تو موج ہے۔ بیرون دریا کچھ نہیں۔۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY