امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے مالی سال کے لیے 716 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے دستاویز پر دستخط کر دیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدرنے اس بجٹ کو امریکی تاریخ کی اہم ترین سرمایہ کاری قرار دیاجبکہ امریکی سینیٹ نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دفاعی بجٹ کی منظوری دی تھی۔

امریکہ نے رواں برس دفاعی بجٹ میں کافی تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے دفاعی بجٹ کو ’نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ‘ کے نام سے بل کی صورت میں سینیٹ میں پیش کیا گیا اور یہ بل 10 کے مقابلے میں 87 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا تھا۔

امریکا کا یہ دفاعی بجٹ محض دفاعی ضروریات کو پورا نہیں کرتا بلکہ خطے کی اہم دفاعی پالیسیوں کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔

اس بار دفاعی بجٹ میں امریکا نے پاکستان کے لیے فوجی امداد کی مد میں مختص رقم 75 کروڑ ڈالر میں کمی کرتے ہوئے 15 کروڑ ڈالر کر دی، دفاعی پالیسیوں میں امریکا کا بھارت کی جانب جھکاؤ واضح نظر آ رہا ہے۔

دفاعی بجٹ میں امریکی فوج کے پرانے ٹینکوں، جنگی طیاروں اور پرانے بحری جہازوں کی جگہ زیادہ جدید ماڈلز کی تیاری کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں 2.6 فیصد اضافے کے علاوہ فوجی دستوں میں اضافہ کرتے ہوئے 15 ہزار 6 سو نئے فوجیوں کو شامل کیا جائے گا

SHARE

LEAVE A REPLY