امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی عہدے داروں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بات اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ قبل ازیں انھوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرسکتے ہیں جبکہ صدر روحانی نے ایران پر عاید امریکی پابندیوں کے خاتمے تک ان سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان سے قبل آج ہی ایرانی صدر نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں علاقائی تعاون پر مبنی امن منصوبہ پیش کریں گے۔انھوں نے کہا کہ غیرملکی فوجوں کی موجودگی کے نتیجے میں خلیج میں ’’عدم سلامتی‘‘ پیدا ہورہی ہے۔
انھوں نے ایرانی فوج کی سالانہ پریڈ کے موقع پرنشری خطاب میں کہا کہ ’’غیرملکی فوجوں سے ہمارے عوام اور ہمارے خطے کے لیے مسائل اور غیر سلامتی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔‘‘
ایران اور امریکا کے درمیان چودہ ستمبر کو سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔امریکا اور سعودی عرب نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا ہے جبکہ ایران نے اس کی تردید کی ہے۔













