پاکستان بار کونسل ( پی بی سی) نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں دائرہ اختیار سے تجاوز پر سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل(ایس جے سی) سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بار کونسل نے حالیہ درخواست میں استدعا کی کہ فل کورٹ، سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو کم از کم تمام ریفرنسز دائر کرنے، سماعت کے لیے مقرر کرنے کی تاریخوں اور ہر ریفرنس میں ملنے والی شواہد سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرے۔

اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ می درخواست دائر کی تھی جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ان میں سے کوئی بھی تفصیلات سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں رازداری کے لیے محفوظ نہیں کی گئں تھیں۔

عدالت عظمیٰ میں سپریم کورٹ رولز 1980 کے تحت 2 صفحات پر مشتمل درخواست میں پاکستان بار کونسل نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار کے خلاف صدارتی ریفرنسز دائر کرنے، خارج کیے جانے والے ریفرنسز کے مندرجات شائع نہ کرنے اور کونسل میں بیٹھنے والے پاکستان بار کونسل کے اراکین جن کے خلاف مبینہ ریفرنسز زیر التوا ہوسکنے ہیں یہ قانون اور آئین کی کئی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔

دیگر ریفرنسز کے نتائج کی مکمل معلومات سے متعلق درخواست اس سے قبل پاکستان بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن (ایس سی بی اے) کے نمائندگان کے مطالبات اور ایس جی سی کی جانب سے اعلان کے بعد کی گئی تھی۔

15 جون کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جب جسٹس قاضی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی مقرر کی گئی تھی اس وقت یہ وضاحت کی گئی تھی ایس جی سی کو 426 شکایات یا ریفرنسز موصول ہے اور سب پر کارروائی جاری ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ 398 کیسز نمٹا دیےگئے تھے او 2 صدارتی ریفرنسز سمیت 28 مقدمات سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا میں ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ ‘ ایسے تمام مقدمات زیر التوا ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نمٹادیے جائیں گے‘۔

گزشتہ ماہ نئے عدالتی سال 20-2019 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ صدارتی ریفرنسز دائر کرنے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو موصول ہونے والی 3 شکایات پر پیش رفت ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے سے متعلق کوئی بھی معاملات عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ہوگا۔

حالیہ درخواست میں پاکستان بار کونسل نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے سپریم کورٹ میں متعلقہ ڈیٹا اور ریکارڈ کے ساتھ تفصیلی جواب جمع کروایا جائے گا۔

پاکستان بار کونسل نے کہا کہ یہ تفصیلات سماعت اور سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر فیصلے کے لیے بہت اہم ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY