بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور کھلاڑیوں کے درمیان معاوضوں سمیت دیگر مسائل کو لے کر بحران شدید تر ہو گیا ہے اور بورڈ نے کھلاڑیوں کی جانب سے ہڑتال کو کرکٹ کو غیر مستحکم کرنے کی سازش قرار دے دیا۔
بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے کم معاوضوں سمیت دیگر مسائل کے سبب گزشتہ روز اپنے کرکٹ بورڈ کے خلاف ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 11 مطالبات کی منظوری تک مزید کرکٹ کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
کھلاڑیوں کی جانب سے اس اقدام کے بعد منگل کو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کھلاڑیوں کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے کہا کہ اگر وہ کھیلنا نہیں چاہتے تو نہ کھیلیں، آپ نہ کھیل کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے انہوں نے کھیلنا کیوں چھوڑ دیا ہے۔
بنگلہ دیش نے آئندہ ماہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھارت کا دورہ کرنا ہے لیکن کھلاڑیوں کے احتجاج اور ہڑتال کے سبب یہ دورہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ رواں ماہ شروع ہوئے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جس کے اگلے راؤنڈ کا آغاز جمعرات سے ہونا ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹی 20 ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شکیب الحسن نے کہا کہ جب مطالبات منظور ہو جائیں گے تو ہم اپنی خدمات کی انجام دہی شروع کردیں گے۔












