وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کالعدم جماعت کے معاملے پر ارکان کو گفتگو کرنے سے منع کردیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے، اسٹیئرنگ کمیٹی بنادی ہے اور وہی تمام معاملہ دیکھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کے معاملے پر وفاقی وزراء کو ہدایات دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فواد چوہدری اور اعظم سواتی کے ہمراہ وزراء الیکشن کمیشن جائیں۔
وزیراعظم نے تمام وزراء کو یک زبان ہونے کی بھی ہدایت کی۔
…………………………
وفاقی کابینہ نے مثبت معاشی اشاریوں کو ملک کے اقتصادی استحکام کی علامت قرار دیا اور کہا ہے کہ ہم صحت مند معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں7 نکاتی ایجنڈے کی منظوری کے ساتھ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 اور 8 نومبر کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دی۔
انہوں نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنےسے متعلق فیصلے پر کہا کہ ایک وی آئی پی قیدی کے لیے سب بہت پریشان ہیں، کابینہ کی اکثریت نے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے دینے کی رائے دی۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ آج شہباز شریف نے ایک درخواست وزارت داخلہ کو دی تھی، حکومت نے اس پر نیب اور میڈیکل بورڈ سےجواب مانگا تھا، جو رپورٹ آئی وہ وزیر قانون فروغ نسیم نے کابینہ اجلاس میں پیش کی۔
فردوس اعوان نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے وکلا، میڈیکل بورڈ اور نیب نے جو جواب دیا، وزیر اعظم عمران خان نے اس بنا پر معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے بعض اراکین کو تحفظات تھے، 14 رکنی کمیٹی نے سفارشات اجلاس میں پیش کی، سب نے اتفاق کیا کہ غیر مشروط ضمانت نہ دی جائے۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ ایک بار کا فیور ہونا چاہیے وہ بھی محدود مدت کے لیے، وزیر قانون نے اجلاس کو بتایا کہ شہباز شریف اور ان کے وکیل کو تحفظات بتادیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کی رائے لی گئی، اس کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ووٹنگ ہوئی اور نا صرف اکثریت نے نواز شریف کے جانے کے حق میں رائے دی بلکہ کچھ نے تو دونوں ہاتھ بھی کھڑے کیے۔
فردوس اعوان نے کہا کہ ساڑھے 9 بجے ذیلی کمیٹی کی میٹنگ ہے، جس میں یہ ساری چیزیں طے ہوں گی، اگر یہ ساری گارنٹی اور سیکیورٹی بانڈز دیتے ہیں تو حکومت رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
ملکی معیشت پر کابینہ کے فیصلے
ملکی معیشت پر ڈاکٹر فردوس اعوان نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر کے معاشی اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشیر خزانہ نے کابینہ کو معاشی کارکردگی سمیت تمام شعبوں کے اہداف پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ معاشی کارکردگی تمام ہی شعبہ جات میں ہدف سے زیادہ رہی ہے۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ معاشی بہتری اور استحکام کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پارہا ہے، معیشت مشکل حالات سے نکل آئی ہے، عالمی ادارے بہتری کے معترف ہیں، اس استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔
فردوس اعوان نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومت کی مثبت پالیسیوں کی مظہرہے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، ان سے ماہانہ کارکردگی رپورٹ مانگی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھیت سےعام خریدار تک پہنچنے میں نرخوں میں 40 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے، دیہات کی نسبت شہری علاقوں میں عوام کی ضروریات مختلف ہیں۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو عوام کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 6 ارب روپے دیئے گئے ہیں، سبسڈی سے استفادے پر نظر رکھ رہے ہیں، اس حوالے سے جدید طریقے اپنائیں گے۔












