آج کل بہت اچھی اچھی خبریں آرہی ہیں ،پڑھ کر لگتا ہے کہ شاید جو خواب ہم نے دیکھے تھے اُنکی تعبیر ملنے کو ہے وقت لگے گا مگر کہیں کہیں روشنی کی کرن بہت تیزی سے چمکتی محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ہم نے پچھلے دنوں پی پی پی کی یومِ تاسیس کی تقریب دیکھی جس میں زرداری صاحب نے اپنے فرزندِ ارجمند کو عوام کے حوالے کیا جس طرح کوئی باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت لڑکے کے والدین سے کہتا ہے کہ بہت ناز سے پلی بیٹی ہے اس کا آپ خیال رکھئے گا اور غلطیاں معاف کر دیجئے گا ،ہماری سمجھ میں ایسا ہی آیا ویسے ہم نے کبھی عقلمند ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے اگر ہم غلط سمجھے تو قصور ہمارا ہے ۔ہمیں یہ بات سُن کر وہ وقت یاد آیا جب الطاف صاحب ،نواز صاحب اور زرداری صاحب نے اپنے بچوں کے ایک رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور زرداری صاحب تو ہمیشہ ہی کہتے ہیں کہ سب کو چلے جانا ہے ہمیں ہمیشہ رہنا ہے ، اللہ ہمیں معاف کرے یہ وہ باتیں ہیں جو بڑے بول کے زمرے میں آتی ہیں لیکن ہمارے طاقتور حکمران جب حاکم ہوتے ہیں وہ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں ۔آج تینوں پارٹیوں کا جو حال ہے وہ غریبوں کے حق مارنے اور اُن سے جھوٹ بولنے کا ہی خمیازہ ہے ۔اُن غریبوں کے منہ سے روٹی چھین لینے کا شاخسانہ ہے ۔معصوم لوگوں سے گھر کی چھت نوچ لینے کا بدلہ ہے ۔
جس جس طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ پہئیے لگانے والوں کے ساتھ بھی یہ ہی سارے شامل تھے اور بینک بنانے اور اُنہیں ناجائز پیسوں سے بھرنے والے بھی ان ہی کے ساتھی تھے تو سوائے دکھ اور تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا دکھ بھی اُنہیں ہی ہوتا ہے جنہیں اپنے لوگوں سے ہمدردی ہوتی ہے ۔ہم نے ہمیشہ لکھا کہ ہمیں اپنے لوگوں کو برا کھنا یا اُنکی برائیاں کھولنا کبھی اچھا نہیں لگتا مگر ہم مجبور ہیں کہ جو دکھ ہماری عوام کو ان لوگوں کی شاہ خرچیوں اور عیاشیوں کی وجہ سے اُٹھانے پڑے وہ کسی صورت بھی معافی کے قابل نہیں لگتے ۔
نئی حکومت کو بھی نوشتئہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور اپنی وہ باتیں یاد رکھنی چاہئیں جو انہوں نے عوام سے خطابات میں کیں بے شک وقت بہت چاہئے لیکن راستہ اگر سیدھا اختیار کیا جائے، وعدوں کا پاس رکھا جائے تو سب کچھ آسان ہو جاتا ہے ۔جو وزراء پھنس رہے ہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اُن کے لئے حکومت کے کسی رُکن کے دِل میں کوئی ہمدردی نہ ہونی چاہئے کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی ہمدردیاں ہی فرعون بناتی ہیں ،جب غریب پر ظلم کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے یا رعایا کو اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ وہ در گزر کے لائق ہے تو سواتی صاحب جیسے وزیر مَن مانی کرتے ہیں اور انہیں شہہ ملتی ہے اس لئے اگر“ گُربہ کُشتن روزِ اول “تو شاید بہتری کی صورت زیادہ واضح ہوگی ۔
سواتی صاحب کا استعفیٰ ایک اچھی بات ہے ۔وزیرَ اعظم صاحب کو اسے فوری مان لینا چاہئے تاکہ اگلوں کو عقل اآئے ۔ہم سب ہی اچھے لوگوں کی حکومت چاہتے ہیں لیکن یہ دھبے جو حکومتوں پر اپنی وزارتوں کے دوران لگائے جاتے ہیں حکومت پر سارے وقت لگے رہتے ہیں ۔اس لئے یہ تمام وزیروں اور مُشیروں کے لئے احتیاط کو ملحوظ رکھنے اور اختیارات کو بے جااستعمال کرنے سے روکنے کے لئے بھی بیہت ضروری ہے ۔ہمیں یہ احساس ہے کہ ہر کام میں نہ خان صاحب دخل دے سکتے ہیں اور نہ ہی ہر بات پر نظر رکھ سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اول وقت ہی میں صفائی ہو جائے تاکہ آگے کو راستہ آسان بھی ہو جائے اور سیدھا بھی رہے ۔
جو کچھ ہو رہا ہے ،وہ ایسا لگتا ہے کہ برسوں بعد ملک کی قسمت جاگ رہی ہے اپوزیشن کی چیخ و پکار بھی جاری ہے کیونکہ ہر وہ شخص زنجیر کے نیچے لایا جارہا ہے جو کہیں بھی کسی بھی طور عوام کی قسمت سے کھیلنے کا زمہ دار سمجھا جا رہا ہے ۔یہ ہی قوموں کے بننے اور سنورنے کے وقت ہوتے ہیں جب سب ہی ایک ہو کر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہوتے ہیں ملک اور عوام کے لئے ۔عوام ہمیشہ ہی پستے ہیں کیونکہ اُن کے پاس اتنا نہیں ہوتا کہ وہ مہنگائی کی مار کو سہہ سکیں اس لئے اپوزیشن عوام کی دُہائی دے دے کر حکومت کو برا بھلا سناتی اور اپنے مفاد حاصل کرتی ہے لیکن اب لگتا ہے کہ تبدیلی ہوجائیگی ، ہمارے کرداروں میں ہمارے ارادوں میں کیونکہ ہر کوئی تیار ہے قربانی دینے کو کہ اگلی نسلیں خوش رہیں ہم اُن کے سامنے شرمندہ نہ ہوں ۔اس لئے سب ہی متحد ہیں کہ کرپشن زدہ معاشرے کو تبدیل کر کے ایک ایماندار اور سچا معاشرہ بنایا جائے ۔
ہم نہیں سمجھتے کہ وزیرِ اعظم صاحب کو کسی بھی ایسے شخص کی بات پر کوئی رائے دینی چاہئے جو کسی بھی طرح کٹہرے تک پہنچا ہے ۔اور ہم یہ ہی امید بھی رکھتے ہیں کہ اب اگر تبدیلی کا پیغام دیا ہے تو اس کٹھن راہ کو منزل تک پہنچایا بھی جائے گا ۔کیونکہ پچھلے ادوار کی غلطیاں سب کے سامنے ہیں اور اُنکی غلطیوں کو جس طرح موجودہ حکومت میں شامل لوگوں نے عوام تک پہنچایا اب اگر وہ خودبھی مصلحتوں کا شکار ہو کر اُسی ڈگر پر چلے تو کوئی معاف نہیں کرے گا ۔اللہ فرماتا ہے مفہوم “ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں “ اس لئے اگر آپ کے دل میں خوفِ خدا ہے تو ہر اُس بات پر عمل کریں جو آپ کہتے ہیں اور وہ ہی کہیں جو آپ کر سکتے ہیں کیونکہ عوام بہت دھوکے کھائے ہوئے ہے ۔مایوس بھی ہے اور خوفزدہ بھی کیونکہ جو کچھ وہ سہہ چکی ہےاُس سے زیادہ کی شاید اب وہ متحمل نہیں ہوسکے گی ۔اگر اللہ نے آپ کو موقعہ دیا ہے اور اور آپ کی ٹیم میں صلاحیت بھی ہے تو کر گزریں وہ سب کچھ جو ملک اور قوم کے حق میں ہے ۔
ہمارا ایک عاجزانہ مشورہ ہے وزیرِاعظم صاحب کو اگر وہ ایک دِن صبح سے شام تک سارے ٹی وی تجزئے اور ٹاک شوز سُن لیں تو شاید وہ ایسی حسین حکومت چلا سکینگے جس میں صرف اور صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں یا ہمارے تجزیہ نگار ،اینکرز اور اُن کے مہمان ۔ہمیں ان کا مخالف یا ناقد نہ سمجھا جائے ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ جس طرح ایک ایک جملے کو پکڑ کر اور اُس پر اپنی قیمتی رائے دے دے کر پورا وقت بلا وجہ کی بحث میں خرچ کیا جاتا ہے اگر انہیں بھی عوام سے ہمدردی ہے تو چاہئے کہ پاکستان کی بھلائی کے لئے ایسے پروگرام کریں جو کوئی اچھی روایت ڈالیں کہ ہم سب ہی اپنے ملک کو اچھائی کی طرف ترقی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔مایوسی پھیلانے سے بچیں ،کوئی حکومت بھی سو فیصد اچھی نہیں ہو سکتی لیکن مایوسی پیدا کرنے سے ہمتیں ٹوٹتی ہیں اور وہ لوگ بھی یہ ہی کہتے نظر آتے ہیں جو ہمارے میڈیا اور اپوزیشن نے یو ٹرن کی گردان پھیلائی ہے وہ ایک سادہ زہن رکھنے والا سیدھا سادھا شخص بھی اُسے کوئی بہت بڑی برائی سمجھ لیتا ہے ۔
میڈیا کو سوچنا چاہئے کہ وہ زہن بناتا ہے لوگ ہر وقت ایلیکٹرانک میڈیا پر دیکھتے اور سنتے ہیں ۔اس لئے اچھائیاں پھیلائے برائیوں کی نشاندہی کیجئے ،اچھے حل سامنے لائے تاکہ وہ وقت جو آپ میڈیا پر صرف کرتے ہیں عوام کے کچھ کام آسکے حکومت کوئی بھی ہو ہمیں اچھائیوں کا ساتھ دینا چاہئے اور خرابیوں کی بیخ کنی کے لئے اپنا وقت اور کردار ادا کرنا چاہئے ۔کہ اس وقت ملک کو اندھیروں سے نکالنے میں ہم سب کی ہی مجاہدانہ کوشش ہونی چاہئے ۔
جنہیں آزما چکے اُن کواُن کے حال پر چھوڑ دیں جو نئے ہیں اُنہیں اپنی سوچ کی طرف لانے کی کوشش بھی کریں اور ایک اچھا اور صاف ستھرا پاکستان بنانے میں اُنکی مدد بھی کریں تاکہ ہم سب ہی فیضیاب ہو سکیں ۔
اللہ ہمارے خوابوں کو خوبصورت تعبیر عطا فرمائے اور ہمارا ملک ہر قسم کے بحرانوں سے نکل آئے آمین
اک خواب سا دیکھا ہے تعبیر جو مل جائے,عالم آرا
1015
0












