پھرایسا ہوا جوامریکہ کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1317

دنیا میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہوا تھا جس پر دنیا کی تفرقہ اور نسل پرستی کے زہر سے ڈسی ہوئی عوام کی رائے ایک ہو جاتی ۔۔ اورامریکہ کو اپنی  12 ریاستوں میں سیاہ فام کے ساتھ سفید فام کے پُر تشدد احتجاج پر نیشنل گارڈز طلب کرنے پڑے ۔۔ لیکن دنیا نے دیکھا ، دنیا میں سب سے زیادہ امن امن چلانے والی حکومت کے سربراہ صدر ڈونلڈ‌ ٹرمپ جنہوں نے کئی ملکوں کے امن تباہ کر رکھے ہیں ، انہیں‌ ایسے اقدامات کرنے پڑے جو پہلے کبھی امریکہ میں نہیں ہو ئے ۔۔۔

آخر ایسا کیا ہوا تھا ۔۔ ؟‌

 مئی 25بروز پیر کی رات ، پولیس کو پڑوس کے ایک گروسری سٹورسے فون آتا ہے ۔۔ جس میں یہ الزام لگایا گیاکہ “‌ جارج فلوئیڈ “‌ نامی شخص‌نے جعلی 20 ڈالر کے نوٹ کے ساتھ بل کی ادائیگی کی ہے۔ پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں اور جارج فلایئڈ‌کو گرفتار کر لیتے ہیں ۔۔ اور وین میں ڈالنے لگتے ہیں ۔۔ جس پر فلویئڈ‌ کہتے ہیں “‌ انہیں بند جگہوں سے خوف آتا ہے ، وہ وین میں نہیں بیٹھ سکیں گے “‌ جس پر پولیس انہیں مزاحمت کے الزام میں ہتھکڑی لگاتی ہے اور زمین پر گرا دیتی ہے ۔۔۔ سفید فام پولیس آفیسر مسٹر چاؤن نے اپنا گھٹنہ جارج فلویئڈ‌ کی گردن پر رکھ دیا اور پوری طاقت سے دباؤ ڈالتے رہے ۔۔۔ جارج فلوئیڈ کہتا رہا کو”‌ پلیز میں سانس نہیں لے پا رہا اور پھر46 سالہ جارج فلویئڈ‌ آخری جملہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے خامو ش ہو گئے “‌مجھے مت مارو۔”‌

کاؤنٹی کے طبّی معائنہ کار کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے مسٹر فلوئیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنہ ٹیکا تھے۔ اس دوران تقریباً تین منٹ بعد مسٹر فلوئیڈ بے سدھ ہو گئے تھے۔ مسٹر چاؤن کے گھٹنا ہٹانے سے تقریباً دو منٹ قبل دوسرے افسران نے فلوئیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا اور وہ بھی اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا اور ایک گھنٹے بعد انہیں مردہ قرار دیا گیا۔

اس پورے واقعے کے چشم دید گواہوں نے نا صرف وڈیو بنائی بلکہ اسی وقت وائرل بھی کر دی۔ یوں برقی میڈیا پر امریکی پولیس کی ہمدردیوں اور غیرجانبداری کی پول کھول دی ۔ اس دن سے لے کر امریکہ کی 12 ریستوں میں احتجاج جاری ہے ۔اس پرتشدد احتجاج کے دوران ریاست مینیسوٹا کے اس شہر میں جہاں جارج فلویئڈ‌کو قتل کیا گیا جمعرات کو مشتعل مظاہرین نے سولہ عمارات اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

پھرایسا ہوا جوامریکہ کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا ۔۔۔

1۔ پولیس آفیسر مسٹر ڈیرک چاؤن پر قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی اور انہیں پیر پہلی جون کو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
2۔ نیشنل گارڈ کے سینکڑوں فوجی جو ایک ریزرو فوج جسے امریکی صدر یا ریاستی گورنرز ہنگامی صورتحال میں مداخلت کرنے کے لیے طلب کئے جاتے ہیں ۔ ان میں سے تیرہ ہزار گارڈز کو امریکہ کی تاریخ‌ میں پہلی بار پُر تشدد احتجاج پرطلب کر لیا گیا ہے
3۔ واشنگٹن ڈی سی ، لاس اینجلس سمیت 12مزید شہروں میں کرفیولگا دیا گیا ہے۔
4۔ واشنگٹن ڈی سی میں مشتعل مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرلیا، صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سیکریٹ سروس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہلخانہ کو وائٹ ہاؤس کے بنکرمیں منتقل کردیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایسے خفیہ بنکر کا آخری بار استعمال سن 2001 میں اس وقت کیا گیا تھا جب نائن الیون یعنی ٹوین ٹاور پر حملہ ہوا تھا۔ اس وقت نائب صدر ڈک چینی اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو بنکر میں لے جایا گیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد ایک اور حیرت ناک بات ہوئی جس پر یقین کرنے کے لئے انسانیت کو سب سے اہم جاننا ہوگا  اور ظالم کو ظالم نہ صرف کہنا ہوگا بلکہ سمجھنا بھی ہوگا ۔۔ قاتل پولیس آفیسر مسٹر ڈیرک چاؤن کی بیوی نے شوہر سے طلاق کا کیس فائل کر دیا ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کے لئے زندگی میں صحیح اور غلط کا معیار، ظالم اور مظلوم کا تصور، اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے زیادہ اہم ہے۔۔۔۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ایک نسل پرستانہ اور سفاکانہ عمل کرنے والے شخص کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتیں۔

امریکہ میں عدم مساوات کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔امریکہ کے معروف مورخ اور جنگ مخالف دانشور ہاورڈزن اپنی کتاب امریکی خواب یعنی “نئی نسل کے لئے امریکی تاریخ میں” امریکہ میں مقامی باشندوں اور سرخ فاموں کے قتل عام اور ان سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے بار ے میں لکھتے ہیں ۔امریکہ کے پرائمری سے لیکر ہائی اسکول تک کے تعلیمی نصاب مین اس بات کا کوئی زکر نہیں ملتا کہ کولمبس کا اس نئی دنیا میں آنا ہسپانیہ کے مقامی باشندوں کے قتل عام کے مترادف تھا۔

جس وقت یورپی سامراج نے براعظم امریکہ پر قبضے کا سلسلہ شروع کیا اس وقت غلاموں کو کھیتی باڑی اور نئی معدنی کانوں کی کھدائی کے لئے افریقہ سے امریکہ لے جایا جاتا تھا ۔بردہ فروشی کا کاروبار کرنے والے تاجروں نے 1500 سے 1800 عیسوی تک کے عرصے میں پندرہ ملین سے زیادہ سیاہ فام افریقیوں کو امریکہ منتقل کیا ۔1865 میں امریکی آئین میں تیرھویں ترمیم کے نتیجے میں بردہ داری کے نظام کا خاتمہ کردیا گیا لیکن اس ترمیم کے باوجود امریکی معاشرے سے نسل پرستی کا خاتمہ نہ ہوسکا۔امریکہ میں سیاہ فاموں کی ایک بڑی تعداد غربت و افلاس میں زندگی گزارتی تھی اور ان کے بچوں کو سفید فاموں کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی۔سیاہ فام بہت سے شہری حقوق سے محروم تھے ۔

دوسری عالمی جنگ میں سیاہ فاموں نے جب اتحادی افواج کے خلاف جنگ میں شرکت کی تو ان کے دلوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی کہ اب انہیں سفید فاموں کے برابر حقوق مل جائیں گے لیکن یہ امید بھی سراب ثابت ہوئی ۔وہ ریاستیں جہاں نسلی امتیاز کے خلاف مذاحمت تھی اور ماضی میں بردہ داری کا نظام بھی موجود تھا وہاں یہ سلسلہ ایک اور طریقے سے جاری رہا۔سیاہ فاموں پر سفید فاموں کے ہوٹلوں اور کلبوں میں داخلے پر بدستور پابندی رہی حتی جنوبی امریکہ کے بعض علاقوں مین سیاہ فاموں کو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفید فاموں کے لئے مخصوص سیٹوں پر بیٹھنے کی اجازت نہ تھی ۔ایک سیاہ فام خاتون” روا پارکس” کو ایک سفید فام کے لئے کرسی خالی نہ کرنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا ۔اس واقعے نے مارٹن لوتھر کنگ کو شدید متاثر کیا اور اس واقعے کو سامنے رکھ کر انہوں نے سیاہ فاموں کے حقوق کے لئے تحریک شروع کی جو 1942 سے 1968 تک جاری رہی ۔لوتھر کنگ کی تحریک کامیاب رہی اور اس تحریک کی وجہ سے سیاہ فاموں کو کئی قانونی جقوق ملے لیکن امریکی معاشرے میں سیاہ فاموں کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک بدستور جاری رہا ۔سیاہ فاموں کے ایک رہنما مالم ایکس جو شہری حقوق کے لئے سرگرم عمل تھے انہیں 1965 میں قتل کردیا گیا۔مارتھن لوتھر بھی 1968 میں قتل کردئے گئے تاہم انہیں انسان دوستی پر مبنی خدمات کی بنیاد پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

سیاہ فاموں کی آذادی کی تحریکوں کے نتیجے میں بالآخر 1964 میں شہری قوانین میں اقلیتوں کے خلاف نسلی امتیاز کے خاتمے کا قانون منظور ہوا تاہم ٹھوس ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ انسانی کرامت اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعووں کے باوجود اب بھی ان ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں پر نسل پرستی اور امتیازی رویے بدستور موجود ہین۔ سیاہ فاموں میں بے روزگاری کی شرح چودہ اعشاریہ چار ہے ۔

نسل پرستی کی یہ برائی امریکہ کے تعلیمی نظام تک رسوخ کرچکی ہے امریکہ کے اعداد وشمار کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 33 فیصد سفید فام اعلی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ سیاہ فاموں کی تعداد بیس فیصد سے بھی کم ہے ۔جولائی 2012 میں روئیٹر کی ویب سائیٹ پر جو تجزیہ کیا گیا تھا اس کے مطابق امریکی پولیس سفید فاموں کے ساتھ ب نسبت سیاہ فام نرم رویہ رکھتی ہے ۔

ڈیٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ورنیلا رینڈل کا کہنا ہے کہ 2014 کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی پولیس اور عدالتیں سیاہ فاموں کے خلاف متحد ہیں اور تشدد یا ظلم کا نشانہ بنانے والوں کو کسی قسم کی سزا نہیں دی جاتی ۔ امریکہ کے غیر سرکاری اور عوامی حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار تیس سیاہ فام امریکی پولیس کے تشد د کا نشانہ بنے ۔ اسی سال میں دو سیاہ فاموں مائیکل براون اوراریگ گارنر کے قتل کے ردعمل میں امریکہ کی مختلف ریاستوں منجملہ میسوری،کیلییفورنیا اور واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ امریکی پولیس کا سیاہ فاموں کے خلاف ایسا رویہ تھا کہ امریکہ کے سیاہ فام صدر باراک اوباما بھی امریکہ میں نسل پرستی کی موجودگی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

یہ سلسہ بڑھتا رہا اور 2020 تک آ پہنچا ۔۔

فروری کے آخر میں 25 سالہ سیاہ فام آدمی ، احمود آربیری ایک دوپہر جارجیا کے شہر ، برونسک میں سیر و تفریح ​​کے لئے نکلے اور کبھی گھر نہ پہنچ پائے ۔ انہیں 64 سالہ گریگوری میک میکل اور اس کا بیٹا ، 34 ، ٹریوس میک میکائیل ، جو دونوں سفید فام ہیں ، انہوں نے غلطی سے احمود پر گولیاں چلا دیں کہ وہ سمجھے تھے کہ احمود چوری کی نیت سے آیا تھا۔ اسی برس 13 مارچ کو ، ایک 26 سالہ افریقی امریکی خاتون بریونا ٹیلر کو لوئس ول میٹرو پولیس ڈیپارٹمنٹ (ایل ایم پی ڈی) کے اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ لیکن دونوں واقعات کے ملزمان پر قتل کا کوئی مقدمہ نہیں ہوا بلکہ کھلم کھلا ابھی بھی پھر رہے ہیں ۔ پھر جب اسی برس مئی کی 25 تاریخ کو جارج فلویئڈ کو سرعام قتل کیا گیا تو سیاموں کے صبر کاپیمانہ لبریز ہو گیا اور ایسے ہنگامے پھوٹ پڑے کہ امریکہ کے شہر شام اور عراق کے شہر لگ رہے ہیں ۔۔ جس طرح صدام حسین نے غار میں پناہ لہ تھی اسی طرح ٹرمپ بنکر میں چھپے بیٹھے ہیں ۔

تازہ ترین صورت حال کے مطابق امریکہ میں پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور 40 شہروں میں کرفیونافذ ہے ۔ حالات پر قابو پانے اور مقامی پولیس کی مدد کے لیے واشنگٹن سمیت 15 ریاستوں میں تقریبا پانچ ہزار نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویڈیوز وائرل ہورہے ہیں جس میں پولیس حکام کو مظاہرین کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی کیسز میں مظاہرین کو سڑک پر دھکیلتے، گھسیٹتے اور ان پر ربڑ کی گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کے ساتھ پولیس کے اس سخت رویے پر ہر جانب سے شدید نکتہ چینی ہورہی ہے۔

اور ۔۔ ہمیشہ کی طرح امریکہ نے تشدد کے ذمہ دار دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کو ٹھہرا دیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ گروپوں نے اس واقعہ کو ہوا دی ہے۔ امریکہ میں پولیس کی زیادتیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ، لندن و جرمنی میں بھی ان کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیاہے۔

ابھی جانے یہ پرتشدد مظاہرے کب تک ہوتے رہیں گے ۔۔ کب تک دایئں بازو والے مورد الزام رہیں گے ۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کل کورونا کی دوسری لہر آنے کا بہانہ بنا کر سب کو جبرا گھر بھیج دیا جائے ۔۔ لیکن ۔۔ صاحبو !
ایسی تحریکیں کبھی نہیں مرتیں ۔۔
نسل پرستی ، ظلم و ستم اور عدم مساوات کے شکار عوام کے پاس لٹانے کو کچھ باقی نہیں بچا ہوتا جس کی محبت میں وہ یہ سب سہہ جایئں ۔۔ سو وہ جان کی بازی لگانے پھر آ جایئں گے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY