اپوزیشن ہر بات پر یہ ہی کہہ رہی ہے کہ حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں تھا اپنی رٹ کرنے کا اور کاروبار حکومت چلانے کا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت ملک کی خدمت کے لیے نہیں ہے؟ بلکہ وہ صر ف حزب اختلاف کو کھیلنے کے لیئے قوم نے ایک کھلونا دیدیا ہے تا کہ وہ اسمبلی کے اندر اور باہر اس سے کھلتی رہے؟ جبکہ حزب ِ اختلاف کو اس نے اس لیے چنا ہے کہ ستر بہتر سال کی پارلیمانی اقدار کو روندتی رہے اور دنیا میں ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بنی رہی۔اس نے سابقہ انتخاب کو سلیکشن کانام دیا ہے اور وزیر آعظم کو وہ بجائے منتخب وزیر اعظم کہنے کہ سلیکٹیڈ وزیر اعظم کہتی ہے۔ جبکہ وہ خود کو منتخب اراکین اسمبلی اور حزب اختلاف کہتی ہے۔ ہمیں اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک صاحب غلطی سے سوتے ہوئی ٹرین میں لاہور کراس کرگئے، تب آگے جاکر انکی آنکھ کھلی اوپر والے مسافر سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟اس نے بتایا میں امرتسر جا رہا ہوں؟تو بجائے وہ اپنی غلطی کا ادراک کرنے کے کہنے لگے کہ یہ ہیں سائنس کرشمے!کہ سوتے ہوئے مسافر لاہور جارہے ہیں اور جاگتے ہوئے امرتسر جارہے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ لطیفہ کیسے یہاں فٹ ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے کہ موجودہ حزب اختلاف اسی انتخاب سے گزری ہے جس سے کہ وزیر اعظم گزرے ہیں وہی الیکشن کمیشن ہے وہی بلیٹ پیپر ہیں وہی سب کچھ ہے لیکن حزب اختلاف منتخب ہے اور حکومت غیر منتخب ہے یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ سائنس نے ایسی کو ئی مشین ایجاد کرلی ہو کہ نصف سلیکٹیڈ ہوں اور نصف الیکٹیڈ ہوں؟ اگر انتخاب میں دھاندلی ہوئی ہے تو اس کا فائدہ تو دونوں نے ہی اٹھا یا ہوگا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی طرز انتخاب سے منتخب ہونے والے لوگ کچھ منتخب ہوں کچھ غیر منتخب؟
ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر حزب اختلاف اتنی ہی معصوم اور مظلوم تھی تو وہ نتائج ماننے سے انکار کر دیتی اور اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیتی اور جہاں اسے اکثریت حاصل تھی وہاں بھی صوبے میں حکومت نہ بنا تی؟ مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا؟ صرف یہ کرتی رہی کہ پارلیمان میں ہنگامہ آرائی کرتی رہی اور تنخواہیں بھی لیتی رہتی مراعات بھی لیتی رہی؟ اور حکومت کوقانون سازی بھی نہ کرنے دی اور ہنگامے کر کے اپنے لیڈروں کی چمڑی بچاتی رہی؟ جبکہ حکومتی پارٹی اس وعدے کے ساتھ آئی تھی کہ وہ ملک سے بد عنوانی ختم کرے گی۔چونکہ ایسی صورتحال میں حکومت چل ہی نہیں سکتی ہے۔صدر جمہوریہ پاکستان کو چاہیئے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے وہ ایک آرڈینس کے ذریعہ سب شر پسند اراکین کا چاہیں دستور میں گنجائش ہو نہ ہو ان کا امپیچ منٹ کرکے پارلیمان سے باہر کردیں جو نہ کام کر رہے ہیں نہ کرنے دے رہے ہیں؟ پھراس صورت میں ان لوگوں کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا کہ وہ کورٹ کے پاس جائیں اور ہمیشہ کی طرح عدالت کوئی حل دریافت کر کے قوم کو دے دے؟ اس لیے کہ حکومت تو ہر معاملہ میں انہیں سہولتیں دے دے کر تھک گئی ہے؟ مگر وہ من کر ہی نہیں دیتے ہیں بلکہ اور پھیلتے جاتے ہیں؟ ایسی صورتحال پاکستان کی تاریخ میں اسوقت آئی تھی جبکہ جنرل ایوب خان کا آخری دور تھا انہوں نے معاملات کو طے کرنے کے لیے ایک راونڈ ٹیبل کا نفرنس بنالی اس میں اسوقت حزب اختلاف یہ ہی کردار کاادا کر رہی تھی کہ حزب اختلاف کے لیڈر اصغر خانصاحب اور بھٹو صاحب بار بار کانفرنس سے اٹھ کر باہر چلے آتے دوسرے اراکین ان کے پیچھے دوڑتے اور مناکر واپس لے جاتے وہ پھر چلے جاتے؟آخر تنگ آکر جنرل ایوب خان نے استعفیٰ دیدیا ملک میں مارشل لا ء لگ گیا؟ اور جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھال لیا؟ نتیجہ میںملک آدھا رہ گیا بھٹو صاحب تھوڑے عرصے حکومت کر نےکے بعد پھانسی چڑ ھ گئے؟ خدا نہ کرے کہ تاریخ خود کو دہرانے لگے؟ کیونکہ ابھی تک تو حزب اختلاف پارلیمان کے اندر ہنگامےکرتی تھی یا اس کے لیڈر جب کرمنل مقدمات کا سامنا کرنے جاتے تو وہ انہیں پھول ہار پہنانے جاتے تھے؟ اب ان کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ حکومت نے شاید سوچا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت کی وجہ سے دفعہ 144 لگی ہوئی ہے لہذاوہ مہذب قوموں کی طرح اس کا احترام کریں گے جو انہوں نے نہیں کیا؟ تو مجبوراً انہیں منتشر کرنے کے لیے کاروائی کرنا پڑی اس پر ایک سابق وزیر داخلہ کا بیان دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ یہ کاروائی بلا جواز تھی اور حکومت کو ایسا کرنے کاکوئی حق نہیں تھا؟













