اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف پنشن میں اضافہ نا منظور۔ سید قائم عباس۔

0
1226

اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف پنشن میں اضافہ نا منظور۔ سید قائم عباس۔
ملک اسلم اعوان نمائندہ عالمی اخبار
اسلام آباد-پاکستان
آل پاکستان پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا خصوصی ہنگامی اجلاس زیر صدارت مرکزی صدر سید قائم عباس منعقد ہوا جس میں حالیہ بجٹ میں پنشنرز کیلئے سات فیصد اضافے کو اونٹ کے منہ زیرہ کے مترادف قرار دیا اور اس اضافے کو ناکافی قرار دیا۔ اجلاس میں سید قائم عباس، تاج محمد اعوان، اور ملک اسلم اعوان نے شرکت کی جبکہ دیگر ممبران جن میں آصف سجاد بنگش، سید جاوید عباس شاہ، شجر عباس اور ڈاکٹر پروفیسر نعمت اللہ خان نے آن لائنز/زوم کے ذریعہ شرکت کی۔ اور وزیراعظم پاکستان اور وزیر خزانہ سے
پر زورمطالبہ کیا کہ پنشن میں فوری طور پر پچاس فیصد اضافہ کیا جائے۔ ملازمین کے لئے %6 اور پنشنرز کیلئے %7 اضافے کو اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل ہی ملازمین کیلئے اضافے کی رقم کو %10 کر دیا جو کہ پنشنرز کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو ڈی آر اے کی مد میں %30 مزید اضافہ دیا گیاہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ریاست نے اپنے بزرگ شہریوں، ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ نا انصافی کی تو وہ نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی بلکہ سیاسی زوال کا بھی سبب بنی۔
پنشنرز کیلئے میڈیکل الاؤنس جو کہ جولائی 2015 کی سطح پر منجمد ہے اس میں فوری طور پر سو فیصد اضافہ کیا جائے۔ ملک اسلم اعوان جائنٹ سیکرٹری اپوا نے اقتدار میں شامل ہم خیال جماعتوں اور خصوصی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور خورشید شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پچاس فیصد کا آپنا وعدہ پورا کریں۔
حکومت نے پارلیمنٹیرینز، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، وزراء اور دیگر اہم شخصیات کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں دو سو سے چھ سو فیصد تک اضافہ کیا جبکہ یہ اضافہ جنوری 2025 سے نافذ العمل ہو گا۔ یہ بے حس اور ظالم اشرافیہ کی کار گزاری ہے۔ عجب بات ہے کہ اس ظالمانہ فیصلے پر آئی ایم ایف کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔
صدر قائم عباس نے اس خسارے کے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ٹیکسوں کی بھر مار نے غریب سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ افراط زر کی شرح %30 کو عبور کر چکا ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ مزدور کی کم از کم اجرت پچاس ہزار مقرر کی جائے۔ ای او بی آئی کے پنشنرز کی پنشن میں بھی اضافہ کیا جائے۔ای او بی آئی کے پنشنرز وفاقی حکومت کے ذریعے پنشن حاصل کرتے ہیں ان کے اضافے کو بجٹ سے منسلک کیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY