نواز شریف کو علاج کیلئے فوری طور پر بیرون ملک بھیجا جائے، چیئرمین سینیٹ

0
464

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک بھیجا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ اجلاس کے میں پوائنٹ آف آرڈر پر سینیٹر جاوید عباسی نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کروانے کی شرط مسترد کی۔

بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان شبلی فراز اور وزیر برائے پارلیمان امور اعظم سواتی کے ذریعے حکومت کو نواز شریف کی صحت سے متعلق فراہم کردہ تمام طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے دونوں فریقین سے کہا کہ وہ نواز شریف کی صحت کے معاملے پر سیاست کرنے گریز کریں۔

جاوید عباسی نے خبردار کیا کہ سیاست میں موجود منفی روایات ملک کے لیے خطرناک ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف وہ واحد شخص ہیں جو 3 مرتبہ وزیراعظم بنے اور پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ نے انہیں علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی تجویز دی ہے کیونکہ ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

جاوید عباسی نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق کچھ ضروری ٹیسٹ کی سہولت پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2 کیسز کا سامنا ہے، ایک کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کردی تھی جبکہ دوسرے کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔

جاوید عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل پر تھا لیکن وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی نے ضمانتی بانڈز جمع کروانے کی شرط عائد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ ملکی تاریخ ایسا کبھی نہیں ہوا ، ای سی ایل کا قانون آج پاس نہیں ہوا’۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف عدالتیں ضمانتی بانڈز کا کہہ سکتی ہیں اور وہ دونوں عدالتوں میں جمع کروائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس وقت نواز شریف ایبٹ آباد میں تھے اور یہ خبر سن کر اپنی تمام تر مصروفیات منسوخ کرکے عمران خان سے ملنے گئے تھے۔

جاوید عباسی نے کہا کہ اسی طرح نواز شریف دھماکے میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے زخمی ہونے کی اطلاع سن کر فورا گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ کیا قانون صرف نواز شریف اور آصف زرداری کے لیے ہے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے جاوید عباسی کے بیان کی تائید کی اور کہا کہ ضمانتی بانڈز کی شرط سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگل کا قانون چل رہا ہے۔

شیری رحمٰن نے کسی سزا کے بغیر مہینوں سے آصف زرداری کو زیر حراست رکھنے کے معاملے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ کسی ٹھوس الزام کے بغیر انہیں یرغمال بنایا گیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے کہا کہ آصف زرداری کے بنیادی حقوق پر قبضہ نہ کریں اور انہیں نجی میڈیکل بورڈ تک رسائی دیں۔

شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY