بیرسٹر فروغ نسیم نے 3 دن بعد دوبارہ وفاقی وزیر کا حلف اٹھا لیا۔
حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر میں ہوئی، جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فروغ نسیم سے حلف لیا۔
فروغ نسیم 3 روز بعد وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل ہو گئے ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیس کی پیروی کرنے کے لیے 26 نومبر کو وفاقی وزیرِ قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
صدر مملکت نے فروغ نسیم کا استعفیٰ اگلے دن (27 نومبر کو) منظور کر لیا تھا۔
گزشتہ روز سابق وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے پاکستان بار کونسل کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد ان کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا گیا تھا۔
ان کے استعفے سے پاکستان بار کونسل سندھ کی ایک نشست خالی ہو گئی تھی جس پر یاسین آزاد ایڈووکیٹ کا تقرر کر دیا گیا۔
وفاقی حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیس کا فیصلہ آنے کے بعد گزشتہ روز بیرسٹر فروغ نسیم کو دوبارہ وفاقی وزیرِ قانون بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی سلسلے میں انہوں نے آج حلف اٹھایا ہے۔
فروغ نسیم کے دوبارہ وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کی کابینہ میں ایک بار پھر 48 ارکان ہوگئے ہیں اور وفاقی وزراء کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔
…………………………
فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سپریم کورٹ میں مدت ملازمت سے متعلق کیس کی پیروی کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور پھر عدالت کا مختصر فیصلہ آنے کے بعد اب ذرایع کے مطابق فیصلہ ہوا ہے کہ فروغ نسیم کو دوبارہ وزیر قانون بنایا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر وہ آج جمعے کو حلف لیں گے ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران آرمی چیف کے وکیل اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم کے لائسنس کا تذکرہ بھی ہوا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے موقع پر گزشتہ روز مستعفی ہونے والے وفاقی وزیر فروغ نسیم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں موجود تھے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کا ان سے مکالمہ بھی ہوا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم صاحب آپ اپنا مسئلہ حل کر کے آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فروغ نسیم صاحب ایسا نہ ہو کہ آپ کے مختار نامے پر سارا دن گزر جائے اور آپ کے وکالت نامے کے چکر میں نقصان فوج کا ہو، ہم سائیڈ ایشو پر دن نہیں گزار سکتے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ میرا لائسنس بحال ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسے ہی نوٹیفکیشن ہوتے رہے تو ہمارے پاس مقدمات کی بھر مار لگ جائے گی، فوج باعزت ادارے کے حوالے سے معاشرے میں پہچانا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فوج کا کام نہیں کہ آکر ڈرافٹ تیار کرے، سمری، ایڈوائس اور نوٹیفکیشن جس طرح بنائے گئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وزارت قانون نے بہت ہی محنت سے یہ کام خراب کیا ہے۔












