سپریم کورٹ نے سکردو ایرپورٹ پر مسافروں کے اس مسلے کا نوٹس لے لیا جسکی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہوئی اور مسافروں سے بہت سلوک نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ نے اڑتالیس گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے

ڈی جی سول ایوی ایشن حسن بیگ جو خود بھی اس ایر سفاری میں شامل تھے اور جنکو منزہ نصر اللہ نامی خاتون نے کھری کھری سنا دیں انکا کہنا ہے کہ طیارہ ایئرسفاری پر لے جانے سے میرا کوئی تعلق نہیں، پی آئی اے کے سی ای اوکی دعوت پر ایئر سفاری کے لیے گیا تھا۔

نانگا پربت کی ایئر سفاری کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل سی اے اے حسن بیگ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ پی آئی اے نے کہا تھا کہ وہ ایئر سفاری شروع کر رہی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ایئر سفاری کے لیے جانے والی پرواز پر میرے کوئی دوست نہیں تھے، اسکردو ایئر پورٹ پر مسافروں کی پریشانی کا نوٹس لیا ہے۔

ڈی جی سی اے اے نے مزید کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی،اسکردو ایئرپورٹ پربد نظمی کی ذمہ دار پی آئی اے انتظامیہ ہے۔

حسن بیگ نے یہ بھی کہا کہ مسافروں سے کہا ہے کہ میں بھی آپ کے احتجاج میں شامل ہوں،خط لکھ کرپی آئی اے انتظامیہ سے وضاحت مانگی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایئر لائنز کو ریگولیٹ اور مسافروں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔

ادھر پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کےباعث فلائٹ میں تاخیر ہوئی، ہوسکتا ہے کہ موسم کی خرابی کا پیغام مسافروں تک پہنچ نہیں سکا ہو۔

ترجمان پی آئی اے نے مزید کہا کہ مسافروں کی دیکھ بھال میں جو کسر رہ گئی ہے اس پرمعذرت خواہ ہیں، تاہم مسافروں کو کسی قسم کا زرِتلافی نہیں ملے گا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ ڈائریکٹر جنرل سی اے ا ے، پی آئی اے اپنے دوستوں کے ہمراہ پی آئی اے کا طیارہ لے کر نانگا پربت کی فضائی سیر کراتے رہے جبکہ اسکردو ایئرپورٹ پر مسافر پرواز کا انتظار کرتے رہے۔

اس خبر کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی جی سی اے اے اور پھر قومی ایئرلائن کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY