سن 2008ء کی بات ہے ‘پرویز مشرف کے اقتدار کاسورج ‘ڈوبنے کے قریب تھا’ شریف برادران وطن پدھارچکے تھے تاہم اس وقت بھی زیرعتاب تھے’ پیپلزپارٹی اقتدار سنبھال چکی تھی’ اسی دوران پنجاب میں ن لیگ اکثریت سے کامیابی کے باوجود وزارت اعلیٰ کے ا میدوار شہبازشریف پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی تھی عدالتی پراسیس بھی جاری تھی اور مشرفیانہ کوششیں بھی’ ایسے میں پنجاب کے دور افتادہ’ پسماندہ ضلع بھکر کے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے سب سے بڑے سیاسی دھڑے نوانی گروپ کے قائد اور پنجاب کے سینئرپارلیمنٹرین سعیداکبرخان نے پی پی 48 دریاخان کی سیٹ خالی چھوڑ دی(چونکہ وہ دو نشستوں پرکامیاب ہوئے تھے) ایسے میں انہوں نے شہبازشریف کے سامنے تجویز رکھی چونکہ صدر آپ کو اسمبلیوں سے باہر رکھناچاہتاہے مگر ہماری تجویز ہے کہ آپ دریاخان کی نشست سے الیکشن لڑیں ہماری طرف سے کوئی امیدوارآپ کے مقابل نہیں آئے گا ‘آپ کی جماعت بھی ظاہر ہے کہ کوئی اورامیدوار نہیں لائے گی (نوانی گروپ ن لیگ کے امیدوار وں کو شکست دیکرچھ میں سے پانچ نشستیں جیت کر اسمبلیوں میں پہنچاتھا اس طرح آپ بلامقابلہ کامیاب ہوجائیںگے ۔اس وقت ق لیگ کی طرف سے بھرپور کوشش کی گئی کہ کسی نہ کسی طرح بلامقابلہ کامیابی کوروکا جائے تاہم نوانی گروپ کی کوششوں سے شہباز شریف بلامقابلہ (بھکرکادورہ کئے بنا) صوبائی اسمبلی کے ممبر بن گئے اوراسی بنیاد پرانہوں نے محض کچھ ہی دنوں بعد وزارت اعلیٰ کاعہدہ سنبھال کر حلف اٹھابھی لیا۔ اب بھکر کے باسی خوش تھے کہ شاید انہیں ”بلامقابلہ کامیابی” پر انعام میں ترقیاتی کاموں اوربنیادی سہولیات سے نوازا جائیگا مگر تخت لاہور کی طرف سے ”شکریہ ” کالفظ تک ادا نہ ہوا۔ پھر عدلیہ کی تحریک’ گورنر راج ‘پھربحالی ‘ عدالتی معاملات کے بعد جونہی پرویز مشرف کرسی سے اتر ے تو شریف برادران کے مسائل ‘مصائب بھی ختم ہوگئے مگرپھر بھی بلامقابلہ کامیاب کرانے والے محرومی کا شکار رہے۔ 2013کے انتخابات میں ن لیگ واضح اکثریت سے کامیابی کے بعد آج وفاق اور پنجاب میں حاکم ہے مگر یہ ضلع ویسے کاویسا پسماندہ ہی رہا

آج 2016 اپنے انجام کو پہنچے والا ہے تو موجودہ حکومت کے پاس محض ڈیڑھ سال باقی رہ گیا ہے۔ایسے میں یہاں کے باسیوں کو کوئی امیدنہیں کہ ان پر حکومتی ”من وسلویٰ” کی برسات ہوگی تاہم بے توقیری کا طوق آج بھی اس ضلع کے ماتھے پر سجا ہوا ہے۔ اس پر ستم بالائے ستم وزیراعلیٰ کامختصر دورہ بھی رہا۔ اس حوالے سے مزید بات کرنے سے قبل شریف برادران کے سیاسی روئیے کی بات کرلی جائے تو بہترہوگا۔ عام تاثر یہ پایاجاتا ہے کہ دونوں بھائی ممبران اسمبلی کو بھی ملنا گوارہ نہیں کرتے چہ جائیکہ کوئی عام آدمی ان سے ہاتھ ملاسکے ۔ نو’د س سالہ طویل جلاوطنی کے بعد ماہرین سیاست کو امید تھی کہ شایددونوں بھائیوں کے روئیے میں بہتری واقع ہوگی مگر حالات نے ثابت کردیا کہ ان پر نہ توپہلے کوئی اثر ہوا ہے اورنہ ہی اب کوئی فرق نظرآرہا ہے۔

خیر عرض کررہے تھے کہ چند ہی دن قبل قطری شہزادے حمد بن جاسم اوران کی کمپنی کی طرف سے ضلع بھکر کے آخری شہر حیدر آباد میں پچاس بستر پر مشتمل ہسپتال کے سنگ بنیاد کیلئے شہبازشریف تشریف لائے’ ان کایہ دورہ قطری شہزادے کی درخواست پرہی ہوا ‘ مگر اس سے قبل قطری شہزادوں کی آمد اوران کے تلور کے شکار کے شو ق میں تھل کے کاشتکاروں کی واحد امید چنے کی فصل کی تباہی پر میڈیامیں چیخ وپکار ہوتی رہی ‘کاشتکار اپنی بربادی کانوحہ لیکر احتجاج پر مجبورہوئے اور ماہنی کے قریب قطری شہزادوں کے کیمپ کے باہر احتجاج کیلئے روانہ ہوئے تو پولیس نے ان پردھاوا بول دیا اور پھر ڈی پی او کی طر ف سے نقصان کے ازالہ کی یقین دہانی پر یہ احتجاج ختم ہوا ۔ امید تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب یہاں آمد کے بعد ان مجبور کاشتکاروں کیلئے دلاسے کے ‘دوچار لفظ ضرور بولیں گے مگر انہوں نے کاشتکاروں کو تو کجا چھ ممبران اسمبلی ‘ایک سنیٹر کو گھاس تک نہیں ڈالی۔ موصوف حسب سابق بھاگم بھاگ ہیلی کاپٹر سے اترتے ہی قطری شہزادوں کے خیموں میں پہنچے ‘ تلور اوردیگر لوازمات پرمشتمل کھانا کھایا اورپھر وہیں سے حکم جاری ہوا کہ ممبران اسمبلی فوراً سنگ بنیاد کے مقام پر پہنچیں۔ وزیراعلیٰ پھربھاگم بھاگ پہنچے ‘سنگ بنیاد رکھا اورسٹیج پر محض آٹھ دس منٹ کیلئے تشریف لائے’ عوام ‘انتظامیہ’ ممبران اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ قطری شہزادوں سے تعاون کریں ۔ عوام کا رونا کون روتا کیونکہ ممبران اسمبلی اپنی بے توقیری پر آنسو بہار ہے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چار ممبران صوبائی اسمبلی ‘دو ایم این ایز کے علاوہ ایک بزرگ سینٹر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے مگر مختصر دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے ان ساتوں سے ایک بار بھی مصافحہ کی زحمت گوارہ نہ کی ۔تھل کے عوام اورمحرومی کاشکار کاشتکاروں کو امید تھی کہ شاید وہ ان کی محرومیوں کے ازالہ کے حوالے سے کوئی خاص اعلان کرینگے مگر الٹا قطری شہزادوں کا خیال رکھنے کی ہدایت گلے پڑگئی۔
قطری شہزادوں کی آمد ‘شکار کے بعد وزیراعلیٰ کادورہ تو خیر مضحکہ خیز رہاہی مگر اس حوالے سے طرح طرح کی داستانیں الگ سنائی دیتی رہیں ‘معصوم بچیوں کی چیخوں کی کہانیاں’ قطری شہزادوں کی دل پشوری کیلئے انتظامیہ کی کاوشوں کی کہانیاں’ مگر سنتاکون کیونکہ ممبران اسمبلی کو اپنی بے توقیری کااحسا س تھا تو انتظامیہ کی کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی تھی۔

یہاں کے عوام سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وزیراعلیٰ کے دورے سے عوام کو کیا ملا؟ کیا پچاس بستروں پر مشتمل نان فنگشنل ہسپتال کی تعمیر سے یہاں کی محرومیوں کا ازالہ ہوجائیگا ؟ سوال یہ بھی اٹھایاجارہا ہے کہ کہیں شریف برادران نے سپریم کورٹ میںپیش کئے جانیوالے خط کا احسا ن اتارنے کیلئے اپنے علاوہ عوام کو بھی تج دینے کا ٹھیکہ تو نہیں اٹھالیا؟ کیونکہ 2008کے بلامقابلہ انتخاب پر شریف برادران کی بے رخی کے بعد کم ازکم یہاں کے عوام کو ان سے ”خیر” کی امید نہیں رہی مگر چند دن پہلے جیسی ”اچھل کود” ان کی محرومیوں’ مایوسیوں کا باعث ضرور بنتی ہے

محمدثقلین رضا

SHARE

LEAVE A REPLY