وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید کی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شریک شخصیت نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے دہرایا کہ اداروں کے تصادم کے توقع رکھنے والے اور مافیاز سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہوئے۔
علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی رہنماؤں کو کوئی مخصوص ہدایات نہیں کیں اور زیادہ تر وقت آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کیس کی 3 روز تک ہونے والی سماعت کے احوال پر بات کرتے ہوئے گزارا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی اور کہا کہ عدلیہ نے کبھی آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع جیسے معاملے کو نہیں اٹھایا تھا۔
اجلاس میں شریک شخصیت نے بتایا کہ حکومت کی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن حکومت کی قانونی ٹیم نے قابلِ ذکر کام کیا‘۔
بعدازاں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے کے ساتھ آرمی چیف کی تعیناتی اور عہدے کی مدت سے متعلق قانون پاس کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گے، وزیراعظم عمران خان نے سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مطلوبہ قانون سازی کا معاملہ دیکھے گی‘۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ قوم کا فخر ہیں اسی لیے کوئی نہیں یہاں تک کہ اپوزیشن میں کوئی ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت نہیں کرے گا۔












