مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے کہا ہے کہ نوازشریف کے استقبال کے لئے ہمارے کارکنان پر امن طور پر لاہور ائیر پورٹ جا نا چاہتے ہیں مگر اچانک کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ن لیگی رہنما ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھائیں یا پھر کارکنوں کو رہا کریں۔

رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں حکومت پنجاب اور وزیر اعظم سے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آج دوپہر تک کارکنان کو رہا نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کو کوٹ لکھ پت جیل بھجوا دیا گیا ہے جبکہ بعض کو بھیجنے کی تیاری ہے، حکومت خود اشتعال انگیز کارروائیاں کررہی ہے

پریس کانفرنس کے دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کارکنان کی گرفتاری کا ذمہ دار نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو قرار دیا۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھائیں یا پھر کارکنوں کو رہا کریں۔

واضح رہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا تھا جن میں یوسی چیرمین، وائس چیرمین، کونسلرز اور کارکنان شامل ہیں۔

گرفتاریوں کے خلاف ن لیگ کےکارکنوں نے احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلا ک کر دی۔

SHARE

LEAVE A REPLY