مئی پندرہ 1744 لوئس پندرہ نے برطانیہ سے جنگ کا اعلان کیا

0
61

یورپ کی تاریخ میں دو عظیم جنگوں کے علاوہ رونما ہونے والا سب سے بڑا واقعہ انقلابِ فرانس ہے۔ جس کا آغاز 1789 میں ہوا ۔ اور جس کا بیج روسو جیسے مفکرّوں نے عوام کے دلوں میں غلامی سے نجات حاصل کرنے اور آزادی سے ہمکنار ہونے کا جذبہ بیدار کرکے بویا تھا۔ جس کے نتیجے میں پِسے ہوئے بے زبان عوام نے بغاوت کرکے بادشاہوں کے تاج اچھال دیے تخت گرادیے اور شہنشاہیت کو جڑ سے اکھاڑ دیا ۔ جدید تاریخ کا یہ سب سے بڑا انقلاب کیسے رونما ہوا؟ پسے ہوئے انسان اپنے حقوق کے لیے کیسے اٹھ کھڑے ہوئے ؟ انھی سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے میں تاریخ کے صفحات سے نکل کر پیرس اور ورسیلز کے گلی کوچوں میں آپہنچا تھا۔
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں باقی یورپ کیطرح فرانس پر بھی بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی اٹھارہویں صدی کے اختتام تک شاہِ فرانس لوئیس 14 اور اس کے پیشرؤںکی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کے باعث خزانہ خالی ہونے کو تھا۔ دو دہائیوں سے فصل کی پیداوار ناقص رہی تھی، روٹی کی قیمتیں بے تحاشا چڑھ گئیں۔
ملک میں قحط سالی کی ایسی آندھی چلی جس نے غریبوں او رکسانوں کے دلوں میں بے چینی اور نفرت کو جنم دیا، ظالم حکمرانوں نے غریب عوام پر مزید ٹیکس لگادیے جس کے جواب میں عوام کے مختلف گروہوں کی طرف سے پر تشدّد ہنگامے اور لو ٹ مار کے واقعات شروع ہوگئے۔ 1786 میں فرانس کے کنٹرولر جنرل الیگزینڈر نے حالات پر قابو پانے کے لیے مالی اصلاحات نافذ کیں جس کے مطابق جاگیردار بھی ٹیکس سے مستثنیٰ نہ رہے۔
ان اصلاحات کو سبوتاژ کرنے کے لیے بادشاہ (لوئیس xiv)نے 05مئی کو بااثر پادریوں نوابوں اور جاگیرداروں پر مشتمل اُن اتحادیوں کا اجلاس بلالیا جو دو فیصد ہونے کے باوجود اٹھانویں فیصد عوام پر حکومت کررہے تھے مگر اجلاس میں اکثریت کے نمائیندے بھی پہنچ گئے جنہوں نے مالی اور عدالتی نظام میں اصلاحات کے علاوہ ہر شہری کے لیے ووٹ کا حق مانگ لیااور ایک نمایندہ جمہوری حکومت کا مطالبہ کردیا۔
ورسیلز میں ہونے والایہ اجلاس بے نتیجہ رہا، ملک کے طول و عرض میں عوامی جذبات زیادہ بپھرنے لگے تو عوامی امنگوں کی نمائیندگی کرنے والے گروپ نے 17 جون کو ٹینس کورٹ میں ہی اپنی ’اسمبلی‘ کا اجلاس منعقد کر لیا اور عہد کیا کہ آئین میں عوامی امنگوں کے مطابق اصلاحات کرائے بغیر یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ 27جون کو بادشاہ نے بپھرے ہوئے عوامی جذبات کو بھانپ کران کے مطالبات تسلیم کرلیے۔
ادھر دارلحکومت پیرس میں بلوے اور تشدد کی کارروائیاں شروع ہوگئیں ۔ 11جولائی کو عوام کے ایک بپھرے ہوئے گروہ نے باسٹلے کے قلعے پر حملہ کرکے اسلحہ اور گولہ بارود پر قبضہ کرلیا جس سے عملی انقلاب کا آغاز ہوگیا۔ اسی بناء پر اس دن کو فرانس میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے ۔انقلابی جوش و جنون کی لہر پورے ملک میں پھیلنے لگی۔ عوام نے ظالم استحصالی ٹولے کے خلاف پرتشدّد کاروائیاں شروع کردیں۔
بے زمین کسانوں نے محکمہ مال کے افسروں اور جاگیرداروں کے گھر جلادیے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی نے باقاعدہ طور پر 14اگست کو جاگیرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کردی۔ جسے Death certificate of old order کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسی روز انسانی اور شہری حقوق کا چارٹر منظور کرلیا گیا ۔3ستمبر 1791 کو آئینی بادشاہت قائم رکھنے کی کوشش کی گئی جومیکسمیلین روبس پیرے ڈیسمولنز اور جارج ڈینٹن جیسے ریڈیکل انقلابیوں نے ناکام بنادی اور مکمل جمہوری نظام قائم کرنے اور بادشاہ پر مقدمہ چلانے کے لیے حمایت حاصل کرنا شرو ع کردی۔ 10اگست1792 کو انقلابیوں کے ایک انتہا پسندٹولے نے پیرس میں شاہی محل پر حملہ کرکے بادشاہ کو گرفتار کرلیا۔
لیجیسلیٹو اسمبلی کی جگہ نیشنل کنونشن نے لے لی اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے جمہوری نظام کی بنیاد رکھدی گئی۔ صرف چند ماہ بعد21جنوری1793 کو بادشاہ کو پھانسی دے دی گئی۔ اس کے نو مہینے بعد ملکہ میری انٹونیٹ کو بھی موت کے گھاٹ اناردیا گیا۔ جون 1793میں انقلابیوں نے مزید انتہاپسندانہ اقدامات اٹھائے اور عیسائیت کے خاتمے کا اعلان کرکے نیا کیلینڈر جاری کردیا ۔ دس مہینوں میں انقلابیوں نے سترہ ہزار افراد کو پھانسی دے دی اور اس سے کئی گنا زیادہ اشخاص کو مقدمہ چلائے بغیر قتل کردیا گیا۔
22 اگست 1795 کو نیشنل کنونشن نے نیا آئین منظور کیا جس کے مطابق دو ایوانی پارلیمنٹ قائم کی گئی اور انتظامی اختیارات پارلیمنٹ کی مقرر کردہ پانچ رکنی ڈائرکٹری نے سنبھال لیے۔ شاہ پسندوں اور انتہا پسندوں ۔ دونوں نے اس نئے سیٹ اپ کے خلاف احتجاج کیا لیکن فوج نے مداخلت کی اور نوجوان جرنیل نپولین بوناپارٹ کی قیادت میں انھیں خاموش کرادیا۔ ڈائریکٹری نے چار سال حکومت کی، ان کی نااہلی اور کرپشن کے باعث ملک مالی بحران کا شکار ہوگیا۔ جب ہرطرف بے چینی اور اضطراب بڑھنے لگا تو بالآخر9نومبر 1799کو نپولین نے انھیںفارغ کرکے حکومت خود سنبھال لی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY