وقار زیدی
پاکستان میں قیامت خیز زلزلہ
آٹھ اکتوبر 2005ء کو اسلام آباد، سرحد، پنجاب اور آزاد کشمیر سمیت قیامت خیز اور ملکی تاریخ کے بدترین زلزلے میں50 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ زلزلہ صبح 8 بجکر 50 منٹ پر آیا، اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلو میٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔ اس زلزلے سے آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور مجموعی طور پر 5 لاکھ 70 ہزار گھرانے متاثر ہوئے۔ زلزلے کے بارے میں اطلاعات جوں ہی ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچیں سیاسی اور سماجی تنظیموں اور سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے متاثرین کے امداد کے لئے اپنے اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ صدر مملکت نے ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے عطیات دیئے۔ زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلے میں بیرون ممالک بھی پیچھے نہیں رہے۔ 11 نومبر 2005ء کو وفاقی حکومت اور عالمی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 57 لاکھ افراد متاثر ہوئے، جن کی تعمیر نو پر 3.5 ارب ڈالر اور ریلیف آپریشن کے لئے 1.5 ارب ڈالر درکار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر الٰہی بخش کی وفات
8 اکتوبر 1975ء کو پاکستان کے نامور سیاست دان اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جناب پیر الٰہی بخش انتقال کرگئے۔
وہ 1897ء میں پیر جو گوٹھ ضلع دادو میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی‘ ابتدا ہی سے انہیں مسلمانان برصغیر کی سیاسی جدوجہد میں فعال حصہ لینے کا شوق تھا انہوں نے اپنے سیاسی زندگی کا آغاز تحریک خلافت سے کیا۔ اس کے بعد سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک چلی تو انہوں نے اس تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا پھر وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔
مئی 1948ء میں جب قائد اعظم نے مختلف اسباب کی بنا پر سندھ وزارت کو برطرف کردیا تو پیر الٰہی بخش سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پرفائز ہوئے۔ پیر الٰہی بخش نے قائد اعظم کے اعتماد کا حق ادا کیا اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے فرائض حسن و خوبی سے انجام دیے۔
ان کی کوششوں سے سندھ میں مختلف تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا جن میں سندھ یونیورسٹی اور اردو کالج کے نام سرفہرست ہیں۔ اسی بنا پر آپ کو سرسید سندھ کے خطاب سے بھی موسوم کیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد جناب پیر الٰہی بخش مہاجروں کی آباد کاری میں بھی پیش پیش رہے۔ کراچی میں پیر الٰہی بخش کالونی مہاجروں کی ان سے خلوص و نیاز مندی کا مظہر ہے۔
قائد اعظم کی وفات کے بعد پیر الٰہی بخش جوڑ توڑ کے باعث نہ صرف یہ کہ سندھ کی وزارت اعلیٰ سے بلکہ مسلم لیگ سے ہی علیحدہ ہوگئے۔کچھ عرصے بعدانہوں نے حسین شہید سہروردی‘ پیر مانکی شریف اور خان افتخار حسین ممدوٹ کی رفاقت میں عوامی مسلم لیگ قائم کی اور ایک فعال حزب اختلاف کی بنیاد رکھی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں وہ سیاست سے کنارہ کش ہوگئے لیکن جب 1967-68ء میں سندھ میں جئے سندھ کی تحریک چلی تو انہوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جی ایم سید کے افکار و نظریات پر ایک کتابچہ ’’ادب کی آڑ میں‘‘ شائع کیا۔
پیرالٰہی بخش کراچی ہی میں اپنے نام سے موسوم بستی کی ایک جامع مسجد میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہیل عباس کا عالمی ریکارڈ
8 اکتوبر 2004ء کو پاکستان کے ہاکی کے نامور کھلاڑی سہیل عباس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والی 8 میچوں کی سیریز کے 7 ویں میچ میں جوامرتسر میں میں کھیلا گیا تھا، اپنے بین الاقوامی ہاکی کیریئر کا 268 واں گول اسکور کرکے ہالینڈ کے معروف کھلاڑی پال لٹجن کا 267 گول کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ پال لٹجن نے اپنے 267 گول 177 میچوں میں گول کئے تھے جبکہ سہیل عباس نے اپنا 268 واں گول 217 ویں میچ میں اسکور کیا۔
سہیل عباس نے اس کے بعد اپنے اس ریکارڈ کو مزید ناقابل تسخیر بنایا اور6 دسمبر 2009ء کو ارجنیٹنا میں منعقد ہونے والے چیمپئنز چیلنج ہاکی کپ ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ، جو ان کا 318واں بین الاقوامی میچ تھا،کینیڈا کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے کیریئر کا 300 واں گول اسکور کیا اور یوں وہ دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے بین الاقوامی ہاکی میں 300 گول اسکور کرنے کا سنگ میل عبور کیا۔ سہیل عباس کے ان 300 گولوں میں ایک ڈبل ہیٹ ٹرک اور 21 ہیٹ ٹرکس شامل تھیں۔
سہیل عباس 9 جون 1977ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 28 فروری 1998ء کو کیا تھا۔













