محبتوں کی امین سفیر نیلم احمد بشیر کے لیئے،شاہین اشرف علی

0
1263

گلابوں والی گلی میں قیام رکھتی ہیں

ہوں چار چاند یہی اہتمام رکھتی ہیں

فلک سے لیتی ہیں نیلاہٹیں ہنر کے لیے

یوں رنگ و نور کا بھی اہتمام رکھتی ہیں

ہیں خانوادہء علم و ہنر سے وابستہ

درخشاں فکر ہے دلکش بہت ہیں شائستہ

ہے انکے فکر کے آنگن میں تتلیاں رقصاں

ہوں جیسے بربط ہستی پہ انگلیاں رقصاں

سلیقہ حرف برتنے کا گفتگو کا ہنر

کہ جیسے دامنِ قرطاس پہ ہوں لعل و گہر

ہو ان کے دجلہ افکار کو بہم وسعت

ہوا ہے برگِ قلم سرخ رو بہر صورت

ہاں نور فکر سے روشن رہیں یہ بام و در

تمام زندگی ہمراہ چلے جو فتح ظفر

نہ وسوسہ ہے کوئی اسمیں اور نہ کوئی قیاس

لکھے ہیں دل سے جو شاہین نے یہ حرف سپاس

شاہین اشرف علی

LEAVE A REPLY