قسط انسٹھ
حضرت امام حسین علیہ السلام
اپنے اصحاب اور اہل بیت کے لاشے اکھٹے کر تے رہے
آپ نے اپنے لختِ جگر حضرت علی اکبر کا لاشا اُٹھایا
اپنے بھتیجے حضرت قاسم کا لاشا اُٹھایا
اور۔۔۔ با آواز بلند فرمایا
کہ
حسین غریب ہو گیا
آپ کو
کربلا میں موجود بیبیوں کی فکر تھی
تبھی آپ نے تمام خیمے اس طرح لگوائے تھی
کہ
خواتین کے خیمے درمیان میں رہیں
اور
شہنشاہ وفا
علمدار لشکر حسینی علیہ السلام
قمر بنی ہاشم
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام
خیموں کے محافظ تھے
ان کا خیمہ سب سے آگے تھا
کئی بار
حضرت عباس ؑنے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت چاہی
ہر بار
امام علیہ السلام نے یہ کہہ کر
کہ
بھیا تو میرے فوج کا علمدار ہے
اگر تو جائے گا
تو
میری فوج کا کیا بنے گا؟
امام علیہ السلام جانتے تھے
خیام حسینی میں موجود مخدرات عصمت و طہارت ع
اور چھو ٹے معصوم بچوں کی ڈھارس عباس ع تھے
جب تک عباس ع زندہ تھے ان کی امیدیں بھی زندہ تھیں
پیاسے بچوں کی ڈوبتی چیخیں اور سسکیاں ماحول کو پر آشوب بنا رہی تھیں
حضرت امام حسین ع کی 4 سالہ بیٹی
حضرت بی بی سکینہ سلام اللہ پیاس سے نڈھال تھیں
انہوں نے اپنے چچا عباس ع سے پانی لانے کے لئے اصرار کیا
حضرت عباس علمدار نے ان سے کہا
اپنے بابا سے اجازت لے دیجئے
سیدہ سکینہ سلام اللہ علہیا نے اپنے بابا حسین ع سے کہا
امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی عباس ع سے کہا
خیموں میں
چھوٹے بچے تشنہ لب ہیں
ان کے لیے کچھ پانی کا بندوبست کرو
حضرت عباس ع نے اپنے بھائی حسین ع کے ماتھے کو چوما
اور ۔۔ ۔۔۔

بی بی سکینہ س اور حضرت علی اصغر ع کے لئے پانی لینے نکلے
آپ کے ایک ہاتھ میں علم تھا
اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی
آپ نے مشکیزہ اپنی پشت پر لٹکایا
اور امام حسین ع کی اجازت سے پانی لینے روانہ ہو گئے
یزیدی دشمن گھاٹ لگائے بیٹھے تھے
علی ذادے کی ہیبت اتنی تھی
کہ
کوئی سامنے آنے کی جرات نہیں کرتا تھا
یزیدی فوج کو پیچھے دھکیلتے اور روندتے ہوئے
حضرت عباس ع پانی تک پہنچ گئے
آپ نے مشکیزہ پانی سے بھرا اور گھوڑے پر اپنے سامنے رکھ لیا
حضرت عباس ع تیزی سے خیموں کی طرف گھوڑا دوڑا رہے تھے
کہ
کسی تیر انداز نے
ایک تیر مشکیزہ پر مارا پانی ضائع ہو نے لگا
آپ نے اپنے امام حسین ع کا علم نیچے نہیں کیا
اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر
تلوار والا ہاتھ
مشکیزے کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے استعمال کیا
اور علم بلند رکھا
تلوار ہاتھ میں نہ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے
زیند بن ورقا
جو درخت کی اوڑھ میں چھپا ہوا تھا
تلوار سے ایک زور دار وار کیا
اور علمدار عباس کے جس ہاتھ میں علم تھا وہ بازو شہید کر دیا
حضرت عباس علیہ السلام نے
درد کی شدت کے باوجود علم دوسرے ہاتھ میں تھام لیا
چند تیر اور مشکیزے پر لگے
پانی تیزی کے ساتھ ضائع ہونے لگا
اس اثنا میں
حکیم ابن طفیل نے
آپ کا دوسرے بازو بھی شہید کر دیا گیا
اور علی ذادے کو بے دردی سے زخمی کر دیا گیا تھا
آپ کے دونوں بازو شہید ہو چکے تھے
لیکن آپ حیات تھے ۔۔غازی تھے
ایک بدبخت نے
پیچھے سے
آپ کے سر مبارک پر برچھی کی ضرب لگائی
جاری ہے













