حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔

0
716

وقار زیدی ۔ کراچی

حسن ناصر کی وفات
پاکستان کے نامور انقلابی رہنما حسن ناصر کی تاریخ پیدائش 2 / اگست1928ء ہے۔

جناب حسن ناصر کا تعلق حیدر آباد (دکن) کے ایک ممتاز قوم پرست گھرانے سے تھا ۔ انہوں نے حیدرآباد سے سینئر کیمبرج کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

قیام پاکستان کے بعد حسن ناصر کراچی چلے آئے جہاں وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور 1955ء میں ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا بھی برداشت کی۔ 1956ء میں وہ جلا وطنی کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ پاکستان چلے آئے اور پارٹی کی ہدایت پر نیشنل عوامی پارٹی کے تنظیمی کاموں میں مصروف ہوگئے۔
1958ء میں ملک میں مارشل لا نافذ ہوا تو ملک کے طول و عرض میں جبر و تشدد کا بھرپور دور شروع ہوگیا چنانچہ حسن ناصر انڈر گرائونڈ ہوگئے لیکن بالآخر ایک غدار کی مخبری پر9 / اگست 1960ء کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں شاہی قلعہ لاہور کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں قید رکھا گیا حتیٰ کہ انہی اذیتوں کے ہاتھوں حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔

حسن ناصر کی شہادت کو پولیس نے حسب روایت خودکشی قرار دیا لیکن بائیں بازو کے مشہور سیاسی رہنما میجر (ر) اسحق محمد نے نامور وکیل محمود علی قصوری کے ذریعے مغربی پاکستان ہائی کورٹ میں‘ جس کے سربراہ جسٹس ایم آر کیانی مرحوم تھے‘ حسن ناصر کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست دائر کردی۔ جسٹس کیانی نے اس درخواست کو فوری طور پر سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا مگر جب پولیس شہید حسن ناصر کو عدالت میں پیش کرنے سے قاصر رہی تو سارے زمانے کو پتا چل گیا کہ حسن ناصر کو شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں اذیتیں دے کر شہید کردیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر مرزا کی پیدائش اور وفات
پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل اور پہلے صدر سکند مرزا میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔ ان کے پر دادا میر جعفر نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔

پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل اسکندر مرزا 13/ نومبر 1899ء کو پیدا ہوئے تھے ۔ انہوں الفنسٹن کالج بمبئی میں تعلیم پائی۔ کالج کی تعلیمی زندگی میں ہی رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ میں داخلہ مل گیا۔ وہاں سے کامیاب ہو کر 1919 ء میں واپس ہندوستان آئے۔ 1921ء میں کوہاٹ کے مقام پر دوسری سکاٹش رائفل رجمنٹ میں شریک ہوئے اور خداداد خیل میں لڑائی میں حصہ لیا۔ 1924ء میں وزیرستان کی لڑائی میں شریک ہوئے۔ 1922 سے 1924ء تک پونا ہارس رجمنٹ میں رہے جس کا صدر مقام جھانسی تھا۔ 1926ء میں انڈین پولیٹیکل سروس کے لیے منتخب ہوئے اور ایبٹ آباد ، بنوں ، نوشہرہ اور ٹانک میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کام کیا۔ 1931ء سے 1936ء تک ہزارہ اور مردان میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ 1938ء میں خیبر میں پولیٹکل ایجنٹ مامور ہوئے۔ انتظامی قابلیت اور قبائلی امور میں تجربے کے باعث 1940ء میں پشاور کے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔ یہاں 1945ء تک رہے۔ پھر ان کا تبادلہ اڑیسہ کر دیا گیا۔ 1942ء میں حکومت ہند کی وزارت دفاع میں جوائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد سکندر مرزاحکومت پاکستان کی وزارت دفاع کے پہلے سیکرٹری نامزد ہوئے ۔ مئی 1954 میں مشرقی پاکستان کے گورنر بنائے گئے، پھر وزیر داخلہ بنے۔ ریاستوں اور قبائلی علاقوں کے محکمے بھی ان کے سپرد کیے گئے۔ ملک غلام محمد کی صحت کی خرابی کی بنا پر 6 اگست 1955 کو قائم مقام گورنر بن گئے۔ 5 مارچ 1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

اور 23مارچ 1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کے منصب پر فائز ہوئے ۔ سیاسی بحران کے سبب 7 / اکتوبر 1958ء کو پہلا ملک گیر مارشل لاء نافذ کیا۔بیس دن بعد 27 / اکتوبر1958ء کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریڑ فیلڈ مارشل ایوب خان نے انہیں برطرف کرکے جلا وطن کردیا جس کے بعد سکندر مرزا نے اپنی زندگی کے باقی ایام لندن میں گزارے۔
ایوب خان کی معزولی کے بعد سکندر مرزا نے وطن واپس آنے کی کوشش کی لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں ملی ۔ بالآخر 13/ نومبر 1969ء کو ان کی سترویں سالگرہ کے دن لندن ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ 15 / نومبر 1969ء کو انہیں پورے سرکاری اعزازات کے ساتھ تہران میں دفن کردیا گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی اماں کی وفات

تیرہ / نومبر1924ء کو جدوجہد آزادی کی مشہور خاتون رہنما بی اماں وفات پاگئیں۔

بی اماں کا اصل نام آبادی بیگم اور وہ 1852ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی شادی رام پور کی ایک معزز شخصیت عبدالعلی خان سے ہوئی۔ ان کے صاحبزادگان میں مولانا شوکت علی اور مولانامحمد علی جوہرنے تحریک پاکستان میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور علی برادران کے نام سے مشہور ہوئے۔

1921ء میں جب علی برادران کو قید و بند کی صعوبت کا سامنا کرنا پڑا تو بی اماں نے یہ زمانہ بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ گزارا۔ وہ ہندوستان کے گوشے گوشے میں گئیں اور اپنی تحریروں سے مسلمانوں کا جذبہ بلند کرتی رہیں۔ اسی زمانے میں اقبال سہارن پوری کی ایک نظم صدائے خاتون ہندوستان بھر کی مقبول ترین نظم بن گئی۔ جس کا شعر تھا:

بولی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو
13 / نومبر 1924ء کو بی اماں کا انتقال ہوگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عطا شاد کی پیدائش

اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 13 / نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔

عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔

ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔

 تیرہ فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY