الیکشن مداخلت کیس: سابق صدر ٹرمپ کے خلاف نئی فردِ جرم دائر

0
688

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 2020 کے صدارتی الیکشن میں نتائج پلٹنے کی کوششوں سے متعلق ایک نئی فردِ جرم دائر کر دی گئی ہے۔

اسپیشل کونسل جیک اسمتھ کی جانب سے دائر کی گئی فردِ جرم میں وہی مجرمانہ الزامات موجود ہیں جو اس سے قبل دائر کردہ فردِ جرم میں تھے۔ البتہ سپریم کورٹ کی جانب سے امریکی صدور کو حاصل استثناٰ سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد نئی فردِ جرم میں ٹرمپ کے خلاف الزامات کو کم کیا گیا ہے۔

نئی فردِ جرم میں ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتائج پلٹنے کے لیے محکمۂ انصاف کے اختیارات استعمال کرنے کے الزام کو ہٹا دیا گیا ہے۔

مذکورہ الزامات سے متعلق سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے ٹرمپ کی ایک درخواست پر گزشتہ ماہ رائے دی تھی کہ سابق صدور کے سرکاری حیثیت میں کیے گئے اقدامات کو عدالتی کارروائی سے مکمل استثناٰ حاصل ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی یہ رائے 3-6 پر مشتمل تھی۔

اسپیشل کونسل کی جانب سے دائر نئی فردِ جرم اس ڈیڈ لائن سے محض تین روز قبل دائر کی گئی ہے جس میں استغاثہ اور وکلا صفائی کی جانب سے مذکورہ کیس کے جج کو یہ بتانا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں کیس کو کس طرح آگے بڑھایا جائے۔

فریقین آئندہ ہفتے عدالت کے روبرو پیش ہو کر دلائل دیں گے۔ اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر سے یہ کیس منجمد چلا آ رہا ہے جس کی وجہ ٹرمپ کی جانب سے دائر ہونے والی استثناٰ کی اپیل تھی۔

سابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ‘ٹرتھ’ پر اسپیشل کونسل کی جانب سے نئی فردِ جرم کو ‘مایوسی میں اُٹھایا جانے والا’ قدم قرار دیا ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک طرح سے ‘مردہ وچ ہنٹ’ اور پرانی فردِ جرم میں شامل کیے گئے تمام الزامات ہیں جنہیں فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

دوسری جانب اسپیشل کونسل کے دفتر نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں دائر نئی فردِ جرم ایک گرینڈ جیوری کی طرف سے جاری کی گئی تھی جس نے پہلے اس کیس میں شواہد نہیں دیکھے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY