یکم دسمبر کو ایڈز کا عالمی دن منانے کا سلسلہ 1987ء سے جاری ہے۔ اس دن ایچ آئی وی انفیکشن سے پھیلنے والی ایڈز کی وبا کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے خصوصی تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے اور اس سے مرنے والوں کو یاد کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں حکومتیں، صحت پر کام کرنے والے ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور افراد ایڈز سے تحفظ اور اس کے کنٹرول کے حوالے سے مختلف سرگرمیاں منظم کر کے یہ دن مناتے ہیں۔

اس مرتبہ ایڈز کی روک تھام کے لیے کمیونٹیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایڈز کے عالمی دن کا موضوع یا تھیم ’’کمیونٹیز میک دی ڈفرنس‘‘ یعنی کمیونٹی کی شمولیت سے فرق پڑتا ہے، رکھا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کمیونٹیاں ایڈز کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کی ایک وجہ دنیا میں صحت اور فلاح کے شعبے میں فنڈنگ کی کمی کا پیدا ہونا بھی ہے۔کے دیگر انفیکشنز میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہو گیا۔

ایڈز کا عالمی دن دنیا بھر میں پہلی مرتبہ 1987 میں منایا گیا ۔ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب تک لاکھوں افراد ایڈز کی بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد ہی ایڈز سے متاثر ہ ہیں۔

ایچ آئی وی ’’ہیومن ایمونوڈیفی شنسی وائرس‘‘ کا مخفف ہے جو نظام مدافعت کے خلیوں کو ہدف بناتا ہے۔ انہیں سی ڈی 4 خلیے کہا جاتا ہے جو کسی انفیکشن کی صورت میں جسمانی ردعمل میں معاونت کرتے ہیں۔

سی ڈی 4 خلیوں کے اندر ایچ آئی وی اپنی نقول بناتے ہیں جس سے ان خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کے امتزاج سے اگر موثر علاج نہ کیا جائے تو قوت مدافعت کا نظام اس حد تک کمزور ہو جاتا ہے کہ وہ انفیکشن اور بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

ا پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے خیال رہے کہ ایڈز کا مرض ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے، جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے، ایسی حالت میں کوئی بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے اس جراثیم کو ایچ آئی وی کہتے ہیں اور یہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہلاتا ہے، ماہرین کے مطابق صرف احتیاط کے ذریعے ہی اس بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے چند دن بعد 85 فیصد لوگوں کو انفیکشن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جس کا بروقت علاج مرض کو جان لیوا ہونے سے بچا سکتا ہے۔ یاد رہے ایڈز خطرناک ہے اور احتیاط اس کو روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔

ایچ آئی وی اور ایڈز میں فرق ہے۔ ’’ایکوائرڈ ایمونوڈیفی شنسی سینڈروم‘‘ (ایڈز) وہ اصطلاح ہے جو ایچ آئی وی کے آخری مرحلے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب قوتِ مدافعت کی کمی کے باعث زندگی ختم کرنے والے کینسر یا فوراً ہو جانے والی انفیکشنز مریض کو گھیر لیتی ہیں۔

شروع میں جب ایچ آئی وی پھیلا تو ایڈز عام تھی کیونکہ تب اینٹی ریٹرووائرل تھراپی (اے آر ٹی) دستیاب نہیں تھی۔ اب اس تھراپی کی وجہ سے ایچ آئی وی میں مبتلا زیادہ تر افراد ایڈز کے مرحلے تک نہیں جاتے۔

ایڈز انہیں ہوتی ہے جن میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص بہت تاخیر سے ہو یا وہ اے آر ٹی کے استعمال سے گریز کریں۔ اگر ایچ آئی وی انفیکشن ہو جائے اور اس کا پتا نہ چلے یا اے آر ٹی استعمال نہ کی جائے تو ایچ آئی وی سے متعلقہ بیماریوں کے ظاہر ہونے میں پانچ سے 10 سال کا عرصہ لگتا ہے۔

بعض اوقات عرصہ اس سے کم ہوتا ہے۔ ایچ آئی وی کی انفیکشن کے بعد ایڈز کا مرحلہ آنے میں 10 سے 15 برس کا عرصہ لگتا ہے۔ بعض افراد میں اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے بہت سے سیال مادوں میں پایا جاتا ہے۔ ان میں خون، مادہ منویہ، مبہلی و مستقیمی سیال اور چھاتی کا دودھ شامل ہیں۔ ایچ آئی وی غیر محفوظ ملاپ، خون کے انتقال ( سرنج، آلاتِ جراحی، بلیڈ وغیرہ کے ذریعے) اور متاثرہ ماں سے بچے کو ( دورانِ حمل، دوران پیدائش یا اپنا دودھ پلانے سے) ہو سکتی ہے۔

اگرچہ ایچ آئی وی کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہو سکا لیکن اینٹی ریٹرو وائرل ادویات، جو وائرس کی نقول بننے یا افزائش کے عمل کو روکتی ہیں، اسے دبا دیتی ہیں۔

اے آر ٹی سے وائرس کی سطح جسم میں اتنی کم ہو جاتی ہے کہ قوتِ مدافعت کا نظام اپنے افعال درست طور پر انجام دینے لگتا ہے۔ یوں ایچ آئی وی میں مبتلا افراد صحت مند زندگی گزارنے لگتا ہے۔

تھراپی یا علاج کرانے والے افراد میں ایچ آئی وی انفیکشن دوسروں کو منتقل کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اے آر ٹی سے فرد کا قوت مدافعت کا نظام مضبوط ہو جاتا ہے لیکن ایچ آئی وی میں مبتلا افراد ماہرین کی مشاورت اور نفسیاتی معاونت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاکہ وہ اچھی زندگی بسر کر سکیں۔

ایچ آئی وی زندگی بھر رہتی ہے، یہ امر ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اچھی زندگی گزارنے کے لیے اچھی غذا، صاف پانی اور ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور صحت مندانہ طرزِزندگی اپنانا چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY