اری باری سہاگنیں مہندی لگاتیں اور پھر لڑکے والے دوسرے دن بھی بغیر کچھ کھائے پئے رخصت ہو جاتے اس کے بعد لڑکی والے لڑکے کو مہندی لگانے جاتے ۔خوب ہلا گلا کرنے کے بعد لڑکے کو شہہ بالے کے ساتھ اندر لایا جاتا اورشاہ ہڈ )کی رسم ادا کی جاتی ۔دلہن کی بہن انگلی پر مہندی لگا کر گوٹے سے سجی رومال سی باندھ دیتی ۔دودھ پلا،مٹھائی کھلا کر پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا خوب نوک جھونک ہوتی ۔آخر کوئی بزرگ آکرفیصلہ کروا دیتا ۔چلیں جی اب لڑکی والے بھی بغیر کچھ کھائے پئے رخصت ہو گئے ۔بارات بینڈ باجوں کے ساتھ روانہ ہوتی
بارات اورولیمے کے لیے دولہا کے لئے کپڑے اورمتفرق سامان دلہن کے گھر سے آتا ۔بارات کے لئے دولہا کالباس دوگھوڑابوسکی (اس زمانے کامہنگا کپڑا)کی کریم رنگ کی قمیض، سفید لٹھے کی شلوار اور قراقلی ٹوپی پر مشتمل ہوتا ۔ولیمے کے لئے تھری پیس سوٹ سلوایا جاتا ۔اس زمانے میں مردوں کیا عورتوں کے لیے بھی کوئی بیوٹی پارلر نہیں تھے دولہا دلہن کے چہرے پر قدرتی ایسا روپ آتا کہ نگاہ نہ ٹہرتی ۔خیر بارات کے ساتھ دولہا کے دوست ناچتے گاتے دلہن کے گھر پہنچتے ۔اور یہاں دولہا کو سلامی ملتی اور ایک دو رسموں کے بعد رخصتی کردی جاتی ۔نکاح عموما”ایک دودن پہلے کرلیا جاتا ۔نکاح کے موقع پر لڈوؤں کے لفافے بنے ہوتے جو ہر فرد کو الگ الگ ملتے نکاح کی رسم بھی بڑی دل چسپ ہوتی ۔مردانے سے ایک دونکاح کے وکیل لڑکی کی مرضی معلوم کرنے آتے ۔تو گوٹھ میں بیٹھی لڑکی اورسکھیاں اپنے اوپر چادر تان کر پردہ کر لیتیں اب وہ لڑکی کی رضا معلوم کرنے کے لیے مخصوص جملے دہراتے کہ فلاں قبول ہے اب سب لڑکیاں ککڑوں کوں ککڑوں کوں کورس کے انداز میں بآواز بلند کہتیں وہ تین چار پوچھتے ۔ککڑوں کوں ککڑوں کوں یہی جواب ملتا ۔اب مصنوعی غصے سے لڑکیوں کو چپ کراتے اورکان لگا کر مریل سی ہاں سن کر واپس جاتے ۔
اور مبارک سلامت کا شور مچ جاتا ۔چونکہ عموما”نکاح پہلے کرلیتے ۔تو رخصتی بہت جلد ہو جاتی ۔کیونکہ بارات کے کھانے کا بھی کوئی تصور نہیں تھا ۔اس وقت یہ بات عجیب لگتی کہ گا بجا کر رسمیں کر کے سوکھے منہ واپس آجاتے ہیں۔مگر اب احساس ہوتا ہے کہ اس میں لڑکی والوں کے کتنی آسانی تھی نہ مہندی کا کھانا نہ بارات کا امراءوغربا کا ایک ہی رواج ودستور تھا ۔اب تو کیا پشاور کی رسمیں کیا کوہاٹ کی سب ایک ہی رنگ میں رنگے گئے پشاور کی مہندی میں ماش پلاو اور کوفتے، بارات میں خوانچہ روٹی، مہندی کی رات گرماگرم دودھ چوہارے،
کوہاٹ کےی دیگی لذیذ چاول
سادگی تکلف وتصنع سے پاک
اب تو میرج ہال ہیں مہندی بارات کے پرتکلف کھانے لڑکی والوں پر لاد دیے گئے ۔اب تو سٹار پلس کے ڈراموں اور میڈیا کے زیر اثر یکسانیت لئے ہوے شادیاں ہیں ۔
وہ تنوع رنگارنگی سادگی وخلوص قصہ پارینہ ہوے ۔شادی کی تقریب کے لئے محلے کے بڑے گھر میں شادی کی تقریب منعقد کرنا سارےلوگوں کا مل جل کر کام کرنا بھاگ دوڑ ہلا گلا
چلتے چلتے یاد کے کچھ اور جگنو سے چمکے ہیں ۔جنہیں گرفت میں لاے بغیر اورآپکو انکی جھلملاہٹ میں شریک نہ کیا ٹو زیادتی ہوگی
بہت بچپن میں پارا چنار میں ایک شادی میں شرکت کا موقع ملا ۔باقی واقعات تو یاد نہیں بس اتنا یاد ہے ۔کہ خوب صورت چشموں و کہساروں کے اس شہر میں سرد ابر آلود سادن تھا ۔دلہن نے قبائلی طرز کی ویلوٹ کی گھیردار فراک پہن رکھی تھی جس پر جگہ جگہ چاندی کے سکے اور پونڈ ٹکے ہوے تھے ۔باریک ڈوری،تلے اورموتیوں سے سجا عروسی لباس دلہن قدرتی حسن میں چار چاند لگا رہاتھا ۔پھر کھانا لگنے کی صدا آئی بڑے بڑے چپر کھاٹ (بڑی سی چارپائی )پر بیٹھی خواتین فورا “دائرے کی شکل میں بیٹھ گییں اوران کے درمیان بڑے بڑے تھال شولے (صوبہ سرحد کے تمام علاقوں کامخصوص کھانا جو موٹے چاولوں سے بنتا ہے اور پارا چنار کے چاول سب سے بہترین سمجھے جاتے ہیں )کے رکھ دیے گئے ۔یوں کہ بیچ میں گڑھا سا بنا ہوا ۔اب کچھ اور خواتین کے ہاتھوں میں بڑے بڑے لوٹے پکڑے ہوئے اور دیسی گھی سے بھرے ان لوٹوں سے وہ آکر ان گڑھوں کو بھر دیتیں ہمارے سامنے بیٹھی خواتین شولے کا گولہ سا بناتیں اورپھر درمیان کے گھی کے گڑھے میں ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں ۔انکی تقلید میں ہم نے بھی ایسا ہی کیا ۔چند لقمے لئے ہی تھے۔کہ ہائیں یہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔گھی ہماری کہنیوں سے ٹپک رہا تھا۔اور نئ فراک کا حشر کر دیاتھا ۔
ایک اورشادی کی یادآی ہمارے ہمسائے میں شادی تھی ۔بارات آئی لڑکے کو اندر لاے چارپائی پر بیٹھایا جوچارلوگوں نے اوپر پکڑی ہوئی تھی ۔لڑکی والوں نے اسے وہ جوڑا پکڑایا جو انہوں نے اس کے لئے بنایا تھا ۔اوردولہا نے سب کے سامنے چارپائی پر کھڑے کھڑے ۔۔ ۔۔۔۔جوڑے کے اوپر دوسرا جوڑا پہن لیا ۔پھر جن لوگوں نے چارپائی اٹھائی ہوئی تھی انہوں نے اس انداز سے چارپائی اٹھائی اورفضا میں بلند کی کہ لڑکا اچھل کر اوپر جاتا اورپھر آکر گرتا اس عمل کو بار دہرایا گیا ۔اوراس پر خوب فائرنگ کی گئی پٹاخے چھوڑے گئے ۔خوشی کا اظہار کیا گیا گانے ٹپے جو اس رسم کے ساتھ جڑے تھے گاے گئے ۔برسوں گزر گئے اس واقعے کو کہ کچھ سال پیشتر ہماری ایک دوست کہ جو کافی ماڈرن ہیں کے بیٹے کی شادی تھی اسلام آباد سرینہ ہوٹل میں اورحیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ چار پائی اندر لاے
اور اس روایت ورسم کو نبھایا ۔اس طرح اچھالا نہیں گیا دولہا کو بہرحال رسم نبھائی گئ ۔
رسم و رواج وثقافتی تنوع ایک بہت وسیع موضوع ہے ۔یہاں میرا مقصد موازنہ و تفصیل نہیں صرف پرانی یادوں کو تازہ کرنا ہے سو ابھی لکھتے لکھتے ایبٹ آباد کی ایک شادی یاد آگئی کاکول روڈ پر ایک پڑھے لکھے ومتمول خاندان کی شادی میں شرکت کی ۔شام کو دلہن لےکر گھر آئے ہم منتظر کہ اب وہ اس موقع پر جو رسمیں کی جاتی ہیں ۔وہ کریں ۔مگر وہاں تو نکاح کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ہکا بکا رہ گئے لو جی لڑکی کو گھر لے آئے بغیر نکاح کیے ۔بغیر نکاح کئے کیسے والدین نے اپنی بیٹی دے دی ہم نےسوالات کی بوچھاڑ کر دی مگر ان کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ ہمارے ہاں کی ریت رواج ہے خیر دنیا حیرت کدہ ہے۔اور حیرانگی تو اس وقت شدید تھی ۔جب 84 85میں کافرستان گئے تھے ۔تب وہاں تابوت کھلے پڑے تھے مردوں کی ہڈیاں وزیورات صاف دکھائی دے رہے تھے ۔انکے تنگ وتاریک گھر، رقص گاہیں، عورتوں کے لیے مختص چاردیواری قدم قدم پر حیرت سرا تھی ۔اورجو کچھ ان کا کونسلر (جس کو اردو آتی تھی)بتارہاتھاوہ مزید ششدر کئے دے رہا تھا کہ یہاں سالانہ جشن کے موقع پر رقص و سرود کی تقاریب میں لڑکی جس کو پسند کرلے ماں باپ بغیر کسی حیل وحجت کے مان جاتے ہیں بس لڑکے کو انکے مطالبات ماننے پڑتےہیں جو کہ عموما “لڑکا مان لیتا ہے پھر اگلے سالانہ جشن کے موقع پر لڑکی کسی اور کو پسند کر لیتی ہے اور اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے تو پہلا شوہر ہنسی خوشی بیوی کو جانے دیتا ہے مگر اس نے جو پہلے رقم اس کے والدین کو دی تھی وہ ادا کردے تو تب
یوں لڑکی کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔کونسلر کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات ہنسی خوشی آرام سے طے پاتے ہیں نہ کوئی بدمزگی نہ لڑائی جھگڑا ۔یہاں کے لوگ بہت پرامن اورصلح جو کہ کسی تھانے کا وجود تک نہیں
کوہاٹ میں بھی تقسیم سے پہلے ھندوکثیر تعداد میں موجود تھے اکٹھے رہنے کی وجہ سے اکثرہندوانہ چھاپ دکھائی دیتی ہے ۔مثلا”دلہن کے گھر میں داخل ہونے کے وقت بکرا زبح کرنا قرآن پاک پڑھنا وغیرہ تو عام رسوم جو سب کرتے ہیں ۔خاص کیا ہے وہ یہ کہ دولہا دلہن کو چارپائی پر بیٹھا دیتے (آج کل صوفوں پر )ہیں ۔اب خاندان کی سب سے خوش قسمت بھاگوان عورت سوئی دھاگہ لے کر ان دونوں کو ٹک “اس رسم کوبھی ٹک لگانا کہتے ہیں ۔دھاگے کو گانٹھ نہیں لگائی جاتی ۔ٹک لگانے والی عورت پشت پر کھڑے ہو کر ایک دولہا کی شیروانی اور دلہن کی بنارسی کو ٹانکا لگاتی ہے
اب دولہا سے کہا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہو وہ کھڑا ہوتا ہے دھاگہ نکل جاتا ہے اب دوبارہ بیٹھ جاتا ہے اوربھاگوان خاتون دوبارہ دونوں کو ایک ٹانکے سے جوڑتی ہے دولہا کو پھر کھڑا کیا جاتا ہے ایک شور تالیاں نعرے اور جوش و جذبے کی لہر آس پاس کھڑے تمام لوگوں میں دوڑ جاتی ہے سہ بارہ اسی عمل کو دہرایا جاتا ہے ۔
تالیوں کی گونج میں یہ رسم پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے اب دولہا کو کہا جاتا ہے کہ وہ تشریف لے جاے ۔مگر ٹہریے یہاں ایک اور رسم ادا کرتے ہوے جانا ہے فرش پر چینی کی ایک پلیٹ الٹی کر کے رکھی ہوئی ہے دولہا نے اترتے ہوئے پاوں پلیٹ پر ایسے رکھنا ہے کہ پاوں کی ایک ہی دھمک سےپلیٹ چھناکے سے ٹوٹ جائے ۔سو دولہا میاں اپنی پوری قوت سے پلیٹ پر پاوں دھرتے ہوے باہر تشریف لے جاتے ہیں تالیاں، نعرے شور و شاباشی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ۔
اب سنہری خوب صورت چنگیر میں پھلیاں، خشک میوہ جات، ٹافیاں رکھی ہیں دلہن کو کھڑا کرکےچنگیر اس کے آگے کردی جاتی ہے دلہن گھونگھٹ نکالے اپنے حنائی ہاتھوں سے مٹھیاں بھر بھر کر اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں پھینکی ہے چاروں طرف کھڑے مہمان ان چیزوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔آخر میں جب تھوڑے سے بچ جاتے ہیں تو چنگیر کو اپنے سر کے اوپر سے لے جاتے ہوئے پھینک دیتی ہے ۔ہر ہر رسم پر حاضرین محفل کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے ۔اب سب دلہن دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک بار پھر اسے کھڑا کرکے گھونگھٹ اٹھا کر چاروں طرف رخ پھیر کر منہ دکھایا جاتا ہے دلہن شرم سے آنکھیں بند کر لیتی ہے تعریف وتوصیف مبارک سلامت کے ساتھ ان رسوم کا اختتام ہوتا ہے
ایک بہت اہم یادپشاور کی ایک شادی کی جو حافظے سے محو نہیں ہوتی ۔کچھ یوں ہے کہ میں غالبا”دوسری یاتیسری جماعت میں تھی کہ شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ۔لڑکی والوں کی طرف سے سب لوگ لڑکے کو مہندی لگانے گئے ۔شروع کی کچھ رسومات کے بعد انہوں نے کہا کہ دلہن کے قریبی رشتےدار ادھر دالان میں آجائیں ۔وہاں درمیان میں ایک چوکی پر بڑا سا تھال یا سینی دھری تھی ۔اس پر طرح طرح کی مٹھائیاں، پیسٹری، رس گلے، گلاب جامن یوں سجائے گئے تھے کہ ان کے نیچے زردہ نظر نہیں آتا تھا ۔پھر خالہ کو بھی بلا کر لے گئے کہ آو”چوبا”کھاو۔خالہ ان کے ساتھ چوبا کھانے یوں گئی کہ مجھے بھول ہی گئیں ۔تمام قریبی لوگوں نے اوپر کی تمام مٹھائیاں اورتھوڑا سا زردہ لیا ۔
اسکے بعد پشاور کی کئی شادیوں میں شرکت کا موقع ملا نگاہیں چوبا تلاش کرتی رہیں مگر پھر کبھی نہ اسے دیکھا نہ کھانے کی حسرت پوری ہوئی ۔ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ۔۔۔۔
نصرت نسیم














آپ نے تو، ایک ساتھ کئ شادیوں میں شرکت کرادی ۔نت نئے رسم و رواج اور متنوع ثقافت۔۔۔بھانت بھانت کے پکوان۔۔اللہ آپ کے، قلم کی روانی قائم رکھے۔۔۔۔سفر نامے کی طرف آئیں اب اس کے بعد۔۔۔۔