جعل ساز بھی کیسا کیسا کام کرتے ہیں

0
648

بی بی سی اور ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز اس جعلی اکاؤنٹ کو ہٹا دیا گیا تھا جو بی بی سی کے بریکنگ نیوز پیج کی نقل تھی۔ لیکن اس سے پہلے اس اکاؤنٹ سے برطانوی وزیراعظم کی صحت کے بارے میں ایک غلط خبر پھیلا دی گئی۔

یہ جعلی خبر پاکستان کے نجی ٹی وی چینل پر بھی کچھ دیر تک بریکنگ نیوز کے طور پر چلائی گئی۔ بعدازاں چینل کی جانب سے غلطی کا ادارک ہونے پر معذرت بھی کی گئی۔

یہ پہلی بار نہیں کہ کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد بی بی سی کے نام پر جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہو اور اسے فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیا گیا ہو۔

یہ پتہ لگانے کے لیے کہ کوئی اکاؤنٹ اصل ہے یا نہیں آپ کو اکاؤنٹ کے نام کے ساتھ ‘بلیو ٹِک‘ دکھائی دے گا۔ بی بی سی بریکنگ نیوز کا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے (https://twitter.com/BBCBreaking)

لیکن جعلی اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک نہیں ہوتا اور اس کی دوسری نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کے بہت کم فالورز ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں لکھی انگریزی بھی معیاری نہ ہو اور نہ ہی خبر کے ساتھ بی بی سی کی خبر پر جانے کے لیے لنک دیا گیا ہو۔

SHARE

LEAVE A REPLY