وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے عدالتی فیصلےمیں قانونی سقم اور کوتاہیاں ہیں، سپریم کورٹ پارلیمنٹ کوقانون سازی کرنے یا نہ کرنے یا آئین میں مدت تعین کا نہیں کہہ سکتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت، اپوزیشن، فوج و عدلیہ اپنی حدود متعین کریں ورنہ اختیارات کی جنگ جاری رہے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ میں تجاویز زیر غور ہیں، فوج چاہتی ہے ان کے احتساب عمل کو نہ چھیڑا جائے، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آرٹیکل 243 کو تو بالکل ختم ہی کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا بھی چاہتا ہے اس پرقدغن نہ ہو آزاد چھوڑ دیا جائے، جبکہ پارلیمان کو اعلیٰ اور معتبر ادارہ بنائے جانے تک پاکستان آگے نہیں جا سکتا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ اہمیت کھورہی ہے، عدلیہ اراکین پارلیمنٹ کا احتساب کرتی ہے، جبکہ عدلیہ خود پارلیمانی اکاؤنٹس کمیٹی میں احتساب کے لیے آنے کو تیار نہیں ہے ۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کے کہا کہ حکومت نواز شریف اور آصف زرداری کو جیل میں رکھنے میں خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کی عوام چاہتےہیں کہ بدعنوانی کا پیسہ واپس قومی خزانے میں کیسےبھی لایا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY