ہم ایک دشمنی نبھانے کے لیے پورے ملک اور عوام کو داو پر لگا دیتے ہیں، اپنی انا کو فوقیت دینے والے لوگ ریوڑ ہوتے ہیں کہ جدھر ہانک دیا جائے چل پڑتے ہیں،
یہ وہ ملک بن چکا ہے جہاں پہ ہر بات پہ قتل ہو سکتا ہے اگر کوئی یہ کہ دے کہ دوسرے انسانوں کیساتھ متحد ہو کر انسانی اصولوں کی بنیاد پر تہزیب اور مثبت طریقے سے رہے تو اسی سے اس کا عقیدہ پوچھا جاتا ہے یعنی اگر میں ایک پاکستانی
یہ کہ دیتی ہوں کے دوسری اقلیتوں کیساتھ جیسے کریسچن، ہندو، سکھ، احمدی ہیں تو سب کے ساتھ اتحاد اور امن کیساتھ رہنا چاہییے تو میرا یہ بات کہنا مجھے مسلمان ہونے ہی سے خارج کر دے گا ۔ ۔ ۔
اور مجھے میرے مسلمان ہونے کا سٹیٹس لگان پڑے گا یا اعلان کرنا پڑے گا کہ میرا یقین ہے کہ حضرت محمد ص اللہ کے آخری نبی ہیں اور میں قادیانی نہیں مسلمان ہوں اور میرے بیٹے کا نام بھی محمد ہے دس بیس جزباتی جوان ارد گرد کھڑے ہو کر مجھے پوچھنے لگیں کہ کہ بتاو اپکا عقیدہ کیا ہے؟
آپ مسلمان ہو؟
محمد نام رکھنے سے آپ مسلمان نہیں ہو جاتیں؟
آپ نے قادیانی کا زکر کیوں کیا؟
یعنی اب جو مسلمان نہیں ہے اس کو جینے کا حق نہیں یا کہ میری پاکیزہ دھرتی پہ رہنے جینے کا حق نہیں؟
مجھے اپنے عقیدے کی گواہی کی ضرورت کیوں ہے جب کہ میرا رب مجھے بہتر جانتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیا آپکے جزباتی پن سے میرے ایمان میں اضافہ ہو جائے گا جب کہ دین تو تحمل، بردباری، محبت، برداشت، احساس اور انسان کی عزت کرنا سکھاتا ہے
آپ سے کیوں نہ یہ سوال کیا جائے کہ آپ کس دین کے ماننے والے ہو کہ ایک انسان جو اتحاد، امن، سکون اور سب کے جائز حقوق کی پاسداری کی بات کرے اور ان میں قادیانیوں کا نام آجائے تو آپ اسکے دیندار ہونے پہ شک کرنے لگو؟
جب کہ دین تو خوش گمانی سکھاتا ہے یہ کہتا ہے کہ کسی کے لیے 70بوجوہات اچھا سوچنے کی ہوں تو آپ اچھا سوچو منافق کا پتہ بھی ہو تو الجھو نہیں فتنہ مت بناو نفرت انتشار قتل و غارت مت کرو امن رکھو نہیں معلوم یہ ہراساں کر کے، گھیر کر کسی سے اس کے عقیدے پوچھنے والوں کو یہ حق کس نے دیا ہے؟
کیا قرآن نے دیا ہے؟ رسول خدا نے دیا ہے؟
ایین اور قانون نے دیا ہے؟
کہ کسی کے مثبت بیان مثبت بات کو آپ پکڑ کے اس کے ایمان دینداری اور مسلمانیت پہ شک کرو یہ روایت کس نے چلائ ہے اور کیوں؟
کیا یہ دین پہ ظلم نہیں کہ یہاں بات کرنے والے کو ہی قابل قتل تصور کر لیا جاتا ہے زاتی مفروضوں اور زاتی نا سمجھی کے باعث کیوں کیا حق یہ نہیں کہ سب انسان امن میں ہوں؟
کسی کی عزت، جان مال کو کسی انسان سے خوف نہ ہو بلا تفریق رنگ، مزہب، فرقہ، گروہ سب پاکستانی ہیں اور سب پاکستانیوں کو ایک محفوظ زندگی کا مکمل حق ہے اگر کوئی قادیانی ہے تو وہ پاکستانی بھی تو ہے آپ اس کو بنا کسی جواز کے کیسے قتل کر سکتے ہیں کیا آپ کی اس روش سے رسول خدا خوش ہونگے؟
یا رب کی زات فخر کرے گی اگر آپ کو جیتنا ہے تو کردار، علم، تحقیق، اخلاقیات درست الہی و دینی اصولوں پر دوسرے انسانوں کو دین سے قریب کیجیے نہ کہ ایک قابل اچھے بہترین انسان کے گلے پڑ جاییے کہ آپ کا عقیدہ کءا ہے کہ آپ نے سب کے یکساں انسانی حقوق اور امن کی بات جو کر دی ہے آخر اتنی تنگ دلی، تنگ نظری، تنگ فکری کیوں؟
اب مجھ سے بھی پوچھیے گا میرا عقیدہ کیا ہے نہیں تو واجب القتل قرار دیکر قتل کردیجیے گا کیا یہ دین اسلام ہے؟
دوسری اقوام کیساتھ محبت اتفاق احساس اور عزت کیساتھ رہنا تو دین کا پہلا درس ہے کیا رسول خدا کے سامنے منافقین نہیں تھے؟
کیا دوسرے مزاہب کے لوگوں کی انہوں نے مدد نہیں کی کیا تلور لیکر سر کاٹے انہوں نے دین پھیلانے کے لیے؟
انہوں نے تو فتح مکہ کے موقعہ پر تمام کھلے ظاہر دشمنوں تک کو معاف کر دیا تھا انکا اس عورت کو برداشت کرنا جسے ہندہ کہتے ہیں اور وہ تمام لوگ جنہوں نے ظلم و ستم ڈھائے تھے ان کو موجود پاکر بھی سب کیساتھ امن میں رہنے کی روش بتائ
انکے اصول تو امن احترام برداشت اور احساس سکھاتے ہیں نہ جانے ہم کس کی سیرت پہ چل رہے ہیں کہ محبت کے دعویدار بننا اور بات ہے اور سیرت اور اسوہ رسول خدا صلی اللہ و علیہ وسلم کو عملا اپنانا اور بات ہے جب تک میرے قول و فعل کا تضاد ختم نہیں ہوتا میری محبت، عشق، علم کے سب دعوے بیکار ہیں اگر میری موجودگی دے دوسرے انسان کے چہرے پہ پریشانی کی دھیمی سی شکن بھی اجاتی ہے تو مجھے اپنے مسلمان ہونے پہ سوال اٹھانا چاہییے نہ کہ دوسرے کے عقیدے اور مسلمانیت کی تفتیش پہ لگ جانا چاہییے ۔ ۔
افسوس کی ہمارے یہاں سب الٹ ہے پر جب اس الٹ نے سب الٹ دیا تب پھر اصلاح کا موقعہ نہیں رہے گا نہ وقت اور نہ ہی افسوس سے کوئی فائدہ ہوگا بے علم اور کم علم اور جزباتوں کے غلام کہ جنکی جزباتیات کی باعث دوسرے خوہف اور ہراس کا شکار ہوجایین آپکے بیسٹ مسلمان ہونے کی ہر گز بھی دلیل نہیں ہے افسوس کی آج کے مسلمان کو مسلمان ہی سے پہلا خطرہ ہے ۔ ۔ ۔
اور اہل ایمان کی برُھان معرفت، علم، اور دلیل ہوا کرتی ہے نہ کہ خنجر، تیر، تلوار، خونریزی ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













