فیصلہ ہے، کہ مروّت نہیں ہونے والی
اب عدالت میں سیاست نہیں ہونے والی
شیر سمجھا تھا، کہ جنگل میں “وہی” ہے قانون
اور اس نکتے پہ۔۔۔ حجّت نہیں ہونے والی
آج، تلوار، ترازو کے گلے پر دیکھی
پھر بھی توہین عدالت نہیں ہونے والی
ایسا ماحول ہے، قاتل کے بری ہونے پر
اب کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونے والی
گر ہے قانون، کھلونا، کسی طاقتور کا
پھر تو قانون کی عزت نہیں ہونے والی
قتل ہر بار مرا، میرے محافظ نے کیا
اور مقدمے کی سماعت نہیں ہونے والی
قتل کے بعد دہائی دی اسی خنجر نے
آستیں سے جسے نسبت نہیں ہونے والی
اس دفعہ کاٹ دو خنجر کو، گلے سے، بڑھ کر
ظلم کے خوف سے بیعت نہیں ہونے والی
ہے تو شمشیر ترے ہاتھ میں اونچی لیکن
اس سے اونچی تری قامت نہیں ہونے والی
اپنے ہی سینے پہ ہر بار چلاتے ہیں چھری
“آپ” جیسی تو شجاعت نہیں ہونے والی
بھوک و افلاس کے موضوع پہ مقدمات سنے
کیا کوئی ایسی عدالت نہیں ہونے والی؟؟؟
جعفر رضوی













