اسلام آباد میں معروف قانون دان اکرم شیخ کے گھر ڈکیتی کی واردات کے بعد ان کے باورچی نے تھانے میں مقدے کی درخواست جمع کرادی ہے۔

اکرم شیخ کے باورچی کی جانب سے مقدمے کے اندارج کے لیے تھانہ کھنہ میں درخواست جمع کروادی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملزم نے ٹی وی لاؤنج میں اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا اور مجھے پستول دکھا کر اکرم شیخ کے کمرے میں لے کر جانے کا کہا۔

پولیس کو دی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اہلخانہ کو یرغمال بنایا، 6 لاکھ 15ہزار روپے، چار گھڑیاں اور زیورات لوٹے جبکہ واردات کے بعد ملزمان اکرم شیخ کی گاڑی میں فرار ہوئے۔

درخواست میں کہا گیا کہ واردات کے بعد ملزمان ڈھوک کالا خان پل پر ڈرائیور اور گاڑی کو چھوڑ کرنکل گئے جبکہ ملزمان نے اکرم شیخ سے کیسز کی فائلیں مانگیں تھیں۔

………………………..

معروف قانو ن دان اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ گھر میں ڈکیتی کی واردات کے لیے آنے والے ڈاکوؤں نے ان سے عجیب سوالا ت کیے تھے ۔

اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ ڈاکو بندوق کی نوک پر میرے مقدمات کی فائلوں کا پوچھتے رہے، دستانے پہنے اور چہرے پر ماسک چڑھائے ڈاکو پہلے میر ے بیٹے کے کمرے میں گئے تھے۔

ماہر قانون کا کہنا ہے کہ میں نے صبح پانچ بج کر پانچ منٹ پر ون فائیو پر اطلاع دی تھی، جبکہ ڈاکوؤں نے دو گھنٹے پچیس منٹ تک ہمیں یرغمال بنائے رکھا۔

اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ میں نے ڈاکو سے کہا تہجد کا وقت ہے وضو کرکے نماز ادا کرنے دو، جس پر ایک ڈاکو نے کہا ہم اجازت دیتے ہیں لیکن ہمارے لیے بددعا نہیں کرنا۔

ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین سید نے اکرم شیخ کے دفتر پہنچ کر ان سے ڈکیتی کے بارے میں معلومات لے لی ہیں۔

واضح رہے کہ معروف قانون دان اکرم شیخ کے گھر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں نے اکرم شیخ اور اہلخانہ کو دو گھنٹوں تک گن پوائنٹ پر یرغمال بنائے رکھا۔

ذرائع کے مطابق قانون دان اکرم شیخ کے گھر ڈکیتی کی واردات گزشتہ شب شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں ہوئی، جہاں پولیس دو گھنٹے بعد پہنچی۔

اسلام آباد پولیس نےمعروف قانون دان اکرم شیخ کےگھر ڈکیتی کا مقدمہ جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد درج کرلیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیےتکنیکی بنیادوں پر ٹریس کررہی ہیں، ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق دو افغانی ملزمان گھر سے 5 لاکھ روپے نقدی، 2 گھڑیاں لے گئے، اطلاع موصول ہوتے ہی پولیس موقع واردات پر پہنچ گئی تھی۔

سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے، ایس پی رورل ملک نعیم اقبال کی زیرنگرانی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY