بغداد سے جب ھم عراق میں اپنا زیارات کا سفر شروع کرتے ھیں تو سب سے قریب ھمیں امام موسی کاظم ع ۔ س کا مزار ھی پڑتا ھے بہتر ھے ھم ادھر ھی حاضری دے لیں ویسے اگر آپ نجف اشرف میں اگر ایر پورٹ پر اترے ھیں تو آپ مولا کائنات حضر ت علی ع ، س کے قدموں میں حاضری دے کر بھی اپنی آگے کی زیارات کریں – بہر حال یہ آپ پر ھی ھے کے آپ کس شہر میں پہلے جانا چاھتے ھیں نجف شہر میں رہائش زرا مھنگی ھے وہاں اگر حرم کے قریب آپ ھوٹل میں کمرہ لینا چاھیں تو آپکو 15 ڈالر میں ایک بیڈ ملے گا اگر دور کے ھوٹل میں کمرہ لیں تو وہ زرا کم قیمت ھوگا 10 ڈالر یا 12، ڈالر ، اور نجف میں آپ کم سے کم تین دین کا پروگرام ضرور رکھیں کیونکہ شہر کوفہ میں جو بھی زیارات ھیں وہ بھی آپ اپنے نجف میں رھنے کے دوران ھی کریں کوفہ اور نجف کا فاصلہ بہت کم ھے آپ ٹیکسی پر جا کر بھی زیارات کر سکتے ھیں مسجد حنانہ مولا علی علیہ السلام کا گھر ، مسجد حیلہ وادی سلام حضرت میثم تمار ، حضرت مسلم بن عقیل ، یہ زیارات ادھر ھی ھیں کاظمین میں بھی اگر آپ جارہے ھیں تو وہاں بھی حرم حضرت موسی کاظم کے ساتھ ساتھ ھوٹل کی لمبی تعداد ھے آپ ایک دن دو دن جتنا چاھے رکیں اور امام کی زیا رت سے دل کو سکون پہنچائیں ادر بھی ھوٹل کے کرائے کربلا کی نسبت زرا زیادہ ھیں وھی 12 ڈالر ،15 ڈالر کمرے کے حساب سے کہ کتنا بیڈ والا کمرہ آپ لینا چاھتے ھیں

بہتر یہی ھے آپ ادھر ھی دو دن رکنے کا پروفرام بنائیں اور سامرہ جانے کے لئے ادھر سے ھی اپنا سفر کریں کیونکہ صبح صبح آپ روانی ھوں تو آپ ڈھائی گھنٹہ میں سامرہ پہنچ جائیں گے وہاں امام حسن عسکری امام محمد تقی ع۔ س کے حرم میں سارا دن گزار کر واپس آجائیں اگر رکنا ھے تو اپنی سواری ٹیکسی ویگن جو ھے اس کو چھوڑ دیں واپسی پر اور سواری کا انتظام کریں لیکن رکنا چاھتے ھیں رات رھنا چاھتا ھے تو اپنے بستر کو انٹطام ساتھ ضرور کر کے جائیں کیوں کہ ممکن ھے وہاں آپ کو بستر نا میسر آسکیں ویسے جاتے ھیں کسی سے پوچھ لیں وہاں بستر وغیرہ امام حسن عسکری ع ۔س کے مزار مبارک میں متولی سے بات کر کے لئے جا سکتے ھیں لیکن اگر آپ ھوٹل کا سوچ رھے ھیں تو اسکا سامرہ میں کوئی انتظام نھیں ھے داعش کی طرف سے حملوں میں جو شہر سب سے زیادہ متاثر ھوا ھے وہ یہ سامرہ ھی ھے وہاں جاکر تباہی اور جنگ کی شدت کے آثار دیکھے جا سکتے ھیں ہر طرف عمارات تباھی و بربادی کا نقشہ پیش کر رھی ھیں ، خود امام ع س کا روضہ بھی پھر سے تعمیر کے مراحل میں ھے – لیکن عراقی عوام کی محبت و عقیدت اور امام کی کرامات ادھر بھی واضع ھے کہ وسیع لنگر کا ادھر بھی انتظام ھوتا ھے اور ہر آنے والا زائر پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا ھے –

سامرہ میں جاتے ھوئے راستہ میں محمد شاہ کا مزار مبارک بھی ھے جو امام زادہ ھیں امام تقی علیہ السلام کے بیٹے ھیں وہاں بھی زیارت کریں اور خود کو سکون پہنچاتے ھوئے اپنا روحانیت کا سفر جاری رکھیں – بہتر ھے آپ عراق کا سفر کریں تو پہلے تمام زیارات کی معلومات کر لیں جا اپنے ھی علاقہ کے کسی عالم سے بھی لی جاسکتی ھیں اور ان لوگوں سے بھی جو کئی بار عراق کا سفر کر چکے ھوں ، لیکن ہر سفر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ آپ کسی ایجنٹ کے ھتھے نا چڑھیں یہ کاروباری حضرات انکا دین ایمان صرف پیسہ ھوتا ھے یہ اپنے لالچ کی وجہ سے ہر طرح کی پریشانی دیتے ھیں صرف ایک ھی انکا مقصد ھوتا ھے کسی طرح زیادہ سے زیادہ پیسے بچائے جائیں اس میں یہ لوگ رہائش لینے میں بھی کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ھیں اچھے صاف ستھری رہائش نھیں لیتے
ھمارے قافلہ والے نے تو اسقدر ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ،5 5 یا 6، 6 گھنٹے ہر شہر میں سڑک پر بٹھائے رکھتا پھر جاکر ھوٹل میں کمرے لیتا اگر کوئی آواز آتھاتا تو لڑنے لگتا ساتھ رشتہ دار بھی تھے وہ بھی جھگڑا شروع کر دیتے بڑے چھوٹے کو لحاظ کئے بغیر بد کلامی شروع کر دیتے ایک بار تو یہاں تک کہا زیادہ بحث کی تو آپکے پاسپورٹ دے کر قافلہ سے الگ کر دونگا اصل بات یہ کے پیسے بھی ایڈوانس لے چکے ھوتے ھیں لاکھوں کے حساب سے پھر ملک میں دوسرا ھوتا ھے یوں اپنے طور سے بے بس کر کے انتہائی نامناسب رویہ اپناتے ھیں کہ اگر کوئی تنگ آکر قافلہ کو چھؤر بھی جائے تو اپنا ھی نقصان کرے گا وہ تو لاکھوں روپیہ بندے سے پہلے ھی وصول کر چکے ھیں اب اگر کوئی قافلہ چھوڑ کر جاتا ھے تو اسے خود سے مزید پیسے ٹکٹ رہائش کھانے کے لگانے ھونگے جو یقینا کوئی اتنی بڑی رقم نھیں لے کر جاتا ھوگا –

لہذا عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ھوئے اپنے رشتہ دار دوست احباب سب مل کر خود ھی اپنے طور پر جانے کا سوچیں بغیر کیسی جھنجھٹ اور پریشانی کے – اب اس موذوں کی طرف آتے ھیں امام حسن عسکری وہ مظلوم امام ھیں جو صرف 28 سال کی عمر میں شہید کئے گئے عباسی خلیفہ ان سے خائف رھتے تھے انھوں نے امام ع ، س پر پہرے بٹھائے ھوئے تھے ، کسی سے مل نھیں سکتے تھے کوئی انکا عقیدت مند انکو نھیں مل سکتا تھا نا ان کے گھر آسکتا تھا ان کی زندگی اسیری کی سی تھی وہ اپنی دعوت حق کی تبلیغ بھی بہت مشکل سے کیا کرتے تھے انکے گھر سے باہر آنے جانے پر بھی پابندی لگا دی جاتی تھی اس پر بھی ظالم عباسی خلیفہ کو تسلی نا ھوتی تھی اس نے انکے کھانے میں زہر ملوا دیا اور آپ کی شہادت ھو گئی ، نوجوانی میں ھی آپ کی المناک موت ھوئی ، یہ مظلوم امام ادھر محلہ عسکریہ میں دفن کئے گئے آج کے دور میں بھی آپکا مزار ظالموں کے ظلم سے محفوظ نھیں ھے ابھی اک سال پہلے ھی داعش نے سامرہ شہر پر قبضہ کیا تھا اور قبضہ کے فوری بعد امام مظلوم کے مزار کی بے حرمتی کی آپ ع س کے مزار کا گبند بھی گرا دیا اور مزار بھی گرانے کی ناپاک جسارت کی ، لیکن اب اللحمد اللہ یہ مزار عراق کے قبضہ میں ھے آور آل سعود سے محبت رکھنے والے اور ان کے حمایتی اب اس علاقہ سے نکالے جا چکے ھیں اللہ نیست و نابود کرے ایسے ظالموں کو آمین
رافیعہ گیلانی۔ راجن پور













