انور عباس انور ”آرمی چیف کی توسیع ،حکومت کیا سوچ رہی ہے

0
609

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون سازی کرنے کا حکومتی فیصلہ قابل تحسین ہے، قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بلائے جا چکے ہیں، وفاقی کابینہ نے پہلے ہی توسیع کے قانونی مسودہ کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہوئی ہے۔اس کمیٹی میں پرویز خٹک کے علاوہ علی محمد خاں،اعظم سواتی سمیت ادیگر وزراء شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے گزشتہ روز مسلم لیگ نواز کے راہنماؤں سے ملاقات کرکے سیاسی جماعتوں سے تعاون کے لیے رابطوں کا آغاز بھی کردیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے جن راہنماؤں سے حکومتی ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے ان راہنماؤں کے حوالے سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ”مسلم لیگ نواز کی قیادت نے اس حوالے سے قانون سازی کے عمل میں بھرپور تعاون کا عندیہ دیا ہے“
حکومتی ٹیم اب دوسری جماعتوں کی قیادت سے بھی رابطہ کرے گی۔ ان سطور کی اشاعت تک ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی سے بھی مذاکرات ہو چکے ہوں۔ عام تاثر یہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت موجود حالات میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کرنے کی پوزیشن مین نہین ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ یا مقتدرہ قوتوں کا سامنا کرنا اب ان سیاسی جماعتوں کے لیے آسان ہدف نہیں رہا۔
اپوزیشن کا آرمی چیف کو توسیع دینے کے لیے قانون سازی کرنے میں تعاون کرنے کا اعلان خوش آئند ہے اور لائق تحسین بھی۔ اپوزیشن کے طرز عمل سے یہ بات عیاں ہوتی ہت کہ ہماری اپوزیشن مین بالغ نطری آ گئی ہے اور وہ حساس معاملات پر مثبت مثبت سوچنے لگی ہے۔
ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل بھی دائر کررکھی ہے جو سماعت کے لیے مقرر بھی ہوگئی ہے، اپنی اسی نظرثانی کی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے ”حکم امتناعی“ کے لیے بھی استدعا کر رکھی ہے اور پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی کر نے جارہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے دماغ میں کچھ نہ کچھ چل رہا ہے اور وہ ایسا کیا چل رہا ہے؟ اس کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق”نئی حکومتی درخواست آنے کے بعد عوامی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت ایک ہی وقت میں دو متضاد اقدامات کیوں کر رہی ہے۔ ایک جانب سپریم کورٹ کے مشروط توسیع کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اور حکم امتناع کی درخواستیں دائر ہو چکی ہیں مگر دوسری جانب فیصلے کی روشنی میں قانون سازی کے لیے بھی تگ و دو ہو رہی ہے۔“
”جمعرات کو دائر ہونے والی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے ابتدائی فیصلے کو اس وقت تک معطل رکھنے کا حکم دے جب تک حکومت کی جانب سے اسی حوالے سے کی جانے والی حکومتی نظر ثانی اپیل پر فیصلہ نہیں آ جاتا۔“
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو مختلف سمتوں میں حکومت کے سفر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی مشیران میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ اپوزیشن تو حکومت سے تعاون کے لیے رضامند ہے اس کے باوجود حکومت حکم امتناع کیوں لینا چاہتی ہے؟ اس سلسلہ میں ایک خیال یہ ہے کہ حکومت کے ذہن میں ہوگا کہ کہیں عدالتی کارروائی اس قدر طول نہ پکڑ جائے کہ پھر عدالتی فیصلہ کے مطابق قانون سازی کے لیے وقت ہی نہ بچے؟
عوامی سطح پر بحث ہورہی ہے کہ آخر حکومت آرمی چیف کو توسیع دینے پر اس لیے بضد ہے کہ پیپلز پارٹی نے جنرل اشفاق پرویز کیا نی کو توسیع دیکر اپنی مدت پانچ سال باآسانی پوری کرلی تھی اس بناء پر وزیر اعظم عمران خاں اور انکے قریبی رفقاء کا خیال ہے کہ جنرل باجوہ کو توسیع دیکر پی ٹی آئی حکومت اپنے پانچ سال مکمل کر لے گی۔
جب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ چھڑا ہے عوامی سطح پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ کہ اس طرح تو ہر برسراقتدار حکمران آرمی چیف کو توسیع دیکر اپنی حکومت کو محفوظ بنانے کی روش چل نکلے گی حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینے چاہیے۔
حکومت اور اس کے وزراء کی جانب سے پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز سینٹ میں وفاقی وزیر ساہنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ انتہائی مہزبانہ انداز میں گفتگو کرنا سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ فواد چودھری وہیں ہیں جو اپوزیشن یعنی مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمان کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ہم (حکومت اور اپوزیشن) نے ہوش کے ناحن نہ لیے تو جمہوریت غیر محفوظ ہوجائے گی۔
بات کہا ں سے کہاں پہنچ گئی، آنے والے چند دن بڑی اہمیت کے حامل ہونگے۔ امید ہے کہ حکومت آج (03.01.2020 کو) آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ قانون (بل) قومی اسمبلی میں پیش کردے گی۔ اس کے لیے حکومت نے حمکت عملی بھی طے کرلی ہے اور اپوزیشن بھی ہرطرح کے حالات سے نبٹنے کے لیے تیار ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY