جنرل قاسم سلیمانی کی کرمان میں تدفین کر دی گئی

1
1027

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی آبائی شہر کرمان میں منگل کو تدفین کر دی گئی ۔

  عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی راکٹ حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر کرمان میں بھی اداکی گئی۔ قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ میں لاتعداد افراد نے شرکت کی تاہم بھگدڑ مچنے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے تدفین تاخیر سے ہوئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق  سوگواران نے قاسم سلیمانی کی تصاویر والے پوسٹر اور ایرانی جھنڈے تھام رکھے تھے۔

گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی تھی۔  نماز جنازہ میں ایران کے صدر حسن روحانی کے علاوہ اسپیکر پارلیمنٹ، چیف جسٹس سمیت اعلی عسکری قیادت، حکومتی شخصیات اور ہزاروں شہریوں نے شرکت کی تھی۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکا کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ راکٹ حملے میں عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر “ابومہدی المہندس” بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں عراق میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ کے بعد مقدس شہر قُم میں نماز جنازہ ادا کردی گئی جسکے بعد آج منگل کو میت کرمان لے جائی جائے گی جہاں انکے آبائی شہر میں تدفین ہو گی

خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ان کے ہمراہ ایران کے صدر حسن روحانی سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے دکھایا کے ایرانی کمانڈر کی نمازِ جنازہ میں بڑے ہجوم شریک تھے، اس موقع پر سوگواران نے قاسم سلیمانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر موجود تھے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ تہران یونیورسٹی کے علاقے میں جمع ہونے والے افراد نے قاسم سلیمانی کی تصاویر تھامی ہوئی تھیں۔

قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پر براہ راست نشر کی گئی۔

اس موقع پر غیر معمولی خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شریاتی ادارے نے اسکرین پر بائیں جانب سیاہ پٹی چلائی۔

ایرانی جنرل کی ہلاکت

خیال رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔

بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔

امریکا-ایران کشیدگی میں اضافہ

قاسم سلیمانی کے ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قاسم سلیمانی سے ‘بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہے تھے لیکن وہ پکڑے گئے’۔

علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا مقصد ایک ‘انتہائی حملے’ کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو خطرہ لاحق تھا۔

دوسری جانب ایران نے گزشتہ روز عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل ایران میں امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جمکران مسجد کے گنبد پر سرخ پرچم لہرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قدیم ایرانی تہذیب میں سرخ پرچم لہرنے کا مقصد ‘جنگ یا جنگ کی تیاری’ سمجھا جاتا تھا۔

…………………….

بغداد میں امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کا جسدِ خاکی ایران پہنچا دیا گیا۔ ایرانی جنرل کی میت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر آگئے انکی نماز جنازہ مشہد مقدس میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے، تہران میں نماز جنازہ کے بعد میت ٓآبائی شہر کرمان لے جائی گی جہاں تدفین ہو گی

جنرل سلیمانی کی میت ایران پہنچ گئی، ایرانی جنرل کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر آ گئے جو آنسو بہا کر پرسہ پیش کرتے رہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کی میت ایران پہنچا دی گئی، شہر اہواز میں ہزاروں کی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سڑکوں پر موجود لوگوں نے امریکا کے خلاف نعرے لگائے، جلوس میں شریک افراد نے بڑے بڑے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

ایرانی جنرل کی میت کو شہر اہواز سے مشہد اور پھر تہران لے جایا جائے گا، ایرانی جنرل کی تدفین منگل کے روز آبائی شہر کرمان میں کی جائے گی جس کے حوالے سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

…………………

عراق کے دارالحکومت بغداد ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسیم سلیمانی اور دیگر کی ہلاکت کے بعد ہزاروں افراد ہفتے کو بغداد میں جمع ہو گئے۔

ایران نواز تنظیم الحشد الشعبي (پاپولر موبا ئلازیشن فورس) نے عراق کے مختلف شہروں میں ہلاک شدگان کی میتوں کے ہمراہ جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

یہ جلوس دارالحکومت بغداد کے گرین زون سے شروع ہو کر کربلا سے ہوتا ہوا نجف میں اختتام پذیر ہوا۔ جہاں بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک شدگان کی تدفین کی گئی۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت: آج میت ایران لائی جائے گی اور منگل کو آبائی شہر کرمان میں تدفین ہو گی

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے عراقی فوج کے ایک اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی بغداد کے علاقے حاجی اسٹیڈیم کے قریب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایک گاڑی پر فضائی حملہ کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ بتایا گیا کہ حملے میں دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف سرگرم ایران نواز تنظیم الحشد الشعبي (پاپولر موبا ئلازیشن فورس) کے ایک اور کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔

البتہ بعدازاں امریکہ اور عراقی فوج نے اس حملے کی تردید کی۔ الحشد الشعبي نے بھی تنظیم کے کمانڈروں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔

جمعے کو ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ نے بھی مزید 3 ہزار فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ گلوبل ریسپانس فورس کے 3 ہزار سے 3500 اہلکار کویت میں تعینات کیے جائیں گے۔ عراق میں امریکہ کے سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ نے 750 فوجی عراق میں تعینات کیے تھے۔

امریکہ کے 14 ہزار سے زائد فوجی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔ جن میں سے 5200 فوجی عراق میں تعینات ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب
قاسم سلیمانی کی امریکی میزائل حملے میں ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔

عراق میں ایران نواز حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ امریکہ کو عراقی سرزمین پر رہنے کا جواز دینے والے معاہدے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اور عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تہران، اصفہان اور مشہد سمیت ایران کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرے اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی میزائل حملے میں ایران کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ نے جنرل قاسم کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریکہ نے جمعے کی علی الصباح بغداد ایئر پورٹ پر اس وقت میزائل داغا جب جنرل سلیمانی ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی چیف ابو مہدی المہندس کے ہمراہ کار میں سوار تھے۔

امریکی کارروائی میں دونوں کمانڈر مارے گئے۔ اس کارروائی کے چند گھنٹے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی نے بیان جاری کیا کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں ۔ ایران نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور امریکہ کو بدلہ لینے کا انتباہ کیا ہے ۔

جنرل قاسم کی ہلاک پر ایران نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کی ہے جس میں ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے بیرون ملک موجود امریکی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں امریکی پرچم پوسٹ کیا جس کی انہوں نے کوئی مزید وضاحت نہیں کی۔

امریکی راکٹ حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل سلیمانی ایران کے پاسداران انقلاب کی بریگیڈ ‘القدس فورس’ کے کمانڈر تھے۔ جنرل سلیمانی ایران کے بیرونِ ملک آپریشن کے نگران تھے اور وہ عراق میں بحرانی کیفیت کی صورت میں اکثر بغداد کا دورہ کرتے تھے۔

اس سے قبل عراق میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران بھی قاسم سلیمانی عراق میں ہی موجود تھے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی عراق اور خطے کے دیگر ملکوں میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں اور امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی اپنے دفاع میں کی ہے۔

ایران کا ردِ عمل
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل قاسم کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔ جنرل قاسم کی ہلاکت سے اُن کا مشن نہیں رکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل قاسم عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت تھے۔ ان کی ہلاکت یقینی طور پر ہمارے لیے افسوس ناک ہے لیکن ان کے قاتلوں اور مجرموں کے خلاف ہم ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو امریکہ کی انتہائی خطرناک اور فاش غلطی قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے عالمی دہشت گردی کی اور اسے اپنی مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جنرل سلیمانی اور ان کی ‘القدس فورس’ سیکڑوں امریکیوں اور اتحادیوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اتحادیوں کی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جس میں 27 دسمبر کو ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر رواں ہفتے ہونے والے حملے کی منظوری بھی جنرل سلیمانی نے دی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جمعے کو کی جانے والی کارروائی کا مقصد ایران کے مستقبل میں ممکنہ حملوں کو روکنا ہے۔ امریکہ اپنے شہریوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں جہاں ضرورت پڑے گی وہاں مناسب کارروائی کرے گا۔

یاد رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب عراق میں امریکہ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں مشتعل ہجوم نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کر کے وہاں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد عراق کی سرزمین پر خانہ جنگی کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

عراقی ملیشیا پاپولر موبیلائزیشن فورس نے بھی تصدیق کی ہے کہ جمعے کو امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی اور پاپولر موبیلائزیشن کے ڈپٹی چیف ابو مہدی المہاندث مارے گئے ہیں۔

عراقی ملیشیا نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ دونوں کمانڈروں کی گاڑی پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY