وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویتی وزیر خارجہ شیخ ڈاکٹر احمد ناصر المحمد الصباح سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی فورسز نے عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر راکٹ حملے میں ایرانی جنرل اور قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کر دیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کے امن کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامہ ای جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل کے اثرات اسامہ بن لادن اور ابوبکر البغدادی سے زیادہ سنگین ہوں گے۔
………………………
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عراق میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بعد خطےمیں پیدا ہونے والی صورت حال پر ایران، سعودی عرب اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے تبادلہ خیال کیا اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی’۔
وزیرخارجہ کے رابطے کے حوالے سے دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ‘خطے کی بدلتی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا’۔
دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ‘وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ صورت حال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کرتےہوئے تنازع سے بچنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا’۔
شاہ محمود قریشی نے ‘تمام فریقین کو یو این چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے اختلافات کا حل کرنے کی یادہانی کروائی‘۔
وزیرخارجہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کے وزرائے خارجہ کو’یقین دلایا کہ پاکستان خطے کے کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی سرزمین کسی قیمت پر بھی کسی بھی دوسری ریاست کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا’۔
بیان کے مطابق ‘وزیرخارجہ نے پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے افغان امن عمل برقرار رہے گا اور مزید پیش رفت جاری رہے گی’۔
دفترخارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ ‘پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی لانے اور امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا’۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
نجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کے دوران وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہر وہ کام کریں گے جو خطے کو امن کی طرف لے کر جائے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان کسی کا یا کسی چیز کا فریق نہیں بنے گا لیکن صرف امن کا شراکت دار بنے گا‘۔
خیال رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پیراملیٹری فورس کے کمانڈر سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد خطے کی صورت حال کشیدہ ہوچکی ہے۔












