اتحادیوں کی جانب مشکلات کا شکار حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہوگئی اور پنجاب میں اس کے ‘ناراض’ اراکین اسمبلی نے عوامی فنڈز اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تقسیم میں نظرانداز کیے جانے پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی شہاب الدین نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے گزشتہ ایک دہائی تک شہباز شریف کی حکومت میں امتیازی سلوک کا سامنا کیا ہے اور صورتحال اب بھی کچھ مختلف نہیں کیونکہ ہمارے حلقوں کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نظر انداز کیا جارہا ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ تمام 20 ایم پی ایز نے نہ ہی فارورڈ بلاک بنایا ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی خاطر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے دو مرتبہ ملاقات کی اور اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعلیٰ نے ہماری تشویش دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم تاحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

شہاب الدین کا کہنا تھا کہ ‘ہم عثمان بزدار سے آئندہ روز ایک اور ملاقات کریں گے’۔

واضح رہے کہ یہ 20 ایم پی ایز کا تعلق ڈی جی خان، بھکڑ، لیہ، وہاڑی، حافظ آباد، چنیوٹ، سرگودھا اور راولپنڈی سے ہے۔

شہاب الدین کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے اضلاع میں لاہور اور فیصل آباد جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں’۔

تحریک انصاف میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اراکین اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں کام کرنے میں ناکامی کی وجہ سے تشویش کی لہر بڑھ رہی ہے۔

ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین اتحادی مسلم لیگ (ق) نے بھی متعدد اضلاع میں مکمل انتظامی اختیارات نہ دینے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔رابطہ کرنے پر تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ایم پی اے کی تشویش پر وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیا ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت اور پارٹی قیادت ان 20 ایم پی ایز سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ مسئلہ اس لیے ہے کیونکہ حکومت کو مالیاتی پیچیدگیوں کا سامنا ہے اور گزشتہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جماعت کے تمام اراکین اسمبلی کو ان کا حصہ دیا جائے گا’۔

مسلم لیگ (ق) کی تشویش کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ق) کے قانون ساز ذمہ دار اتحادی ہیں۔

انہوں نے ایک ہفتے کی مہلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘تحریک انصاف ان سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی امید نہیں رکھتی’۔

…………………..

صوبہ پنجاب کے مسائل حل کروانے کے لیے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی ایز نے اتحاد کرلیا ہے۔

تحریک انصاف کے 20 ارکان پنجاب اسمبلی نے مسائل حل کروانے کے لیے گروپ بنالیا۔

صوبائی اسمبلی پنجاب کے ارکان اسمبلی نے حلف اٹھایا کہ مل کر صوبے کے مطالبات منوائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔

پی ٹی آئی ایم پی ایز کے گروپ نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سےحلقوں کے لیے فنڈز اور عوامی منصوبوں کا مطالبہ کردیا۔

رکن پنجاب اسمبلی شہاب سردار شہاب کا کہنا ہے کہ جنوبی اور وسطی پنجاب کے 20 ارکان نے اپنا گروپ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور اسی کے ساتھ رہیں گے۔

سردار شہاب نے کہا کہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہی آئندہ الیکشن لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات میں عوامی مسائل کے حل پر بات ہوئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY