جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نےحکومت کےخلاف احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تو گھر جاچکی ہے، اس کی کوئی رٹ نہیں ہے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بڑی جماعتوں کی بعض پالیسیوں سے اپوزیشن منقسم ہوئی، اپوزیشن منقسم ہوتی ہے تو اس کا فائدہ حکومت اٹھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے ابھی جلسوں اور کنونشن کے لیے رابطہ نہیں کیا، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی آنا چاہیں تو خوش آمدید کہیں گے لیکن ہم خود انہیں دعوت نہیں دیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ناکام حکومت کی وجہ سے ملک بحران کا شکار ہے، حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، بجلی، گیس اور پٹرول سمیت ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، عام آدمی بجلی کے بلوں اور مہنگائی کی چکی میں پس چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوام کو متحد کرکے مایوسی کو امید میں تبدیل کیا جائے، عوام کے شانہ بشانہ لائق اور قابل حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کی جائے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہماری تحریک سے حکومت کی دیواروں میں دراڑیں پیدا ہوئیں، اب 23 فروری کو کراچی جب کہ یکم مارچ کو اسلام آباد میں مارچ کیا جائے گا۔
……………………………
مولانا فضل الرحمان نے ایک اور حکومت مخالف تحریک کی تیاری کرلی، اپوزیشن کی 5 جماعتوں کے ساتھ ملکر شیڈول کو حتمی شکل دیدی۔
اپوزیشن کی 5 جماعتوں میں پختونخوا میپ، نیشنل پارٹی، جے یو پی، جمیعت اہلحدیث، قومی وطن پارٹی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ احتجاجی حکمت عملی کا آغاز 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سے کیا جائے گا، 9 فروری کو لاہور میں احتجاجی کنونشن ہوگا، 15 فروری کو اسلام آباد میں اپوزیشن کے احتجاجی کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا، 23 فروری کو کراچی، یکم مارچ کو پشاور میں احتجاجی کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کنونشنز سے مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ سمیت مرکزی رہنما خطاب کریں گے، ملک گیر کنونشنز کے انعقاد کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کے طریقہ کار کا فیصلہ کیا جائیگا۔












