آپ کا “دوپٹہ” وہ کیا ھوا۔۔۔۔؟؟؟شازیہ ظفر

3
4406

دوپٹہ خواتین کے لباس میں ھمیشہ سے ھی لازمی جزو رھا ھے۔۔۔ بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ھوگا کہ مشرقی لباس کا سارا حسن دوپٹے میں پوشیدہ ھے۔۔۔ جیسے جیسے فیشن بدلتے رھے۔۔ دوپٹوں کے انداز میں بھی تبدیلیاں آتی رھیں۔۔ کبھی یہ کرن ، گوٹے کناری سے مرصع ھوئے تو کبھی کروشیا سے بنی بیلوں سے سجے نظر آئے ، کبھی مختلف دھنک رنگوں میں رنگے ھوئے ، زرق برق ، نت نئے انداز سے چُنے ھوئے ، کلف اور ابرق لگے ھوئے نظروں کو بھاتے رھے ۔۔ سوتی ، جارجٹ ، شفون ، سلک اور جالی کے خوبصورت اور حسین ان دوپٹوں نے ھمارے لباس کی شان ھمیشہ ھی بڑھائی ھے ۔۔۔۔
بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹہ اوڑھنے کے انداز میں بھی تبدیلیاں رونما ھوتی رھیں۔۔۔۔ پہلے پہل شرفاء میں دوپٹے سے سر ڈھکنے کے رواج پر سخت سے عمل درآمد ھوا کرتا تھا۔۔۔حتی کہ گھر کی بڑی بزرگ خواتین کے سامنے بھی لڑکیاں بالیاں سلیقے سے سر ڈھک کے سامنے آیا کرتیں۔۔۔ رفتہ رفتہ یہ اھتمام گھر کے مرد حضرات کی آمد پر ھی کیا جانے لگا۔۔۔ یعنی جیسے ھی گھر کے بڑے حضرات نے زنان خانے میں قدم رکھنے والے ھوئے ۔۔۔گھر کی ماماؤں اور ملازماؤں نے منادی کر دی کہ بیبیو اباحضور تشریف لا رھے ھیں اور یہ سنتے ھی نیک بیبیاں قرینے سے دوپٹہ سے سر ڈھک لیتیں اور مؤدبانہ انداز میں باپ دادا اور تایا چچا ماموں جیسے بزرگوں کے سامنے آیا کرتیں۔۔یہ رکھ رکھاؤ اب بھی بہت سے گھرانوں میں تعظیما قائم ھے۔۔۔۔

بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں

یہ طور طریقہ ھمیشہ ھی سے یہ ھمارا ایک تہذیبی اور ثقافتی چلن اور رواج تھا ، رکھ رکھاؤ تھا۔۔۔بلکہ ادب و آداب تھے۔۔۔ پھر زمانہ اپنی رفتار بدلتا گیا۔۔۔ اور رفتہ رفتہ دوپٹہ سر پہ سے پھسل کر شانوں پر براجمان ھوگیا۔۔۔ھاں اتنا ضرور ھوا کہ بو وقت تلاوت یا آذان کی صدا گونجتے ھی خواتین جلدی سے آنچل اوڑھ کر احتراماً سر ڈھک لیا کرتیں۔۔۔ مخلوط محافل میں قرینے سے دوپٹہ جسم پر پھیلا کر اس طرح اوڑھا جاتا کہ جسمانی ساخت نمایاں نہ ھو گویا دوپٹہ ستر پوشی میں بھی معاون ھو اور شرم و حیا کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔۔۔ وہ لڑکیاں یا خواتین جو دوپٹوں سے بے نیاز ھوتیں وہ عموماً خاصی ناپسندیدہ ، معیوب اور بے باک سمجھیں جاتیں۔۔۔۔جوں جوں وقت سرکا اور دوپٹے کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔۔۔اور رفتہ رفتہ وہ ایک کاندھے پر جھولنے اور لہرانے لگا ۔۔ دل کو یہ ڈھارس بہرحال تھی کہ دوپٹہ اب بھی لباس کا لازمی حصہ ضرور ھے جب بھی ضرورت ھوئی بطریقِ احسن استعمال میں آ ھی جاتا ھے ۔۔چلیں یہ دم بھی بہرحال غنیمت ھی تھا لیکن پھر حالات نے کروٹ لیتے لیتے اچانک قلابازی ھی کھا لی اور دوپٹے کے مستبقل کو داؤ پر ھی لگا دیا ۔۔۔ فی زمانہ دوپٹے کی حالت جس قدر مخدوش ھوچکی ھے وہ قابلِ تشویش ھے۔۔۔ اب تو اردگرد دوپٹہ بیزاریت کی عجب ھی مثالیں تواتر کے ساتھ نظر آنے لگی ھیں ۔۔ گزشتہ دنوں ایک شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں منظر دیکھا کہ ایک نوعمر صاحبزادی ماڈرن سے لباس میں جھنجھلاتی صورت لیئے ٹھک ٹھک کرتی آگے جا رھی ھیں اور انکی مسکین سی والدہ دبی دبی سی آوازیں لگاتی پیچھے پیچھے چلتی ھوئی دوپٹہ نما اسکارف ھاتھ میں لیے منت بھرے انداز میں بیٹی کو پیش کر رھی ھیں۔۔۔ صاحبزادی چونکہ نئے دور کی طرح دار حسینہ تھیں اور دوپٹے کی پابندیوں سے راہ فرار ڈھونڈنے پر تلی بیٹھی تھیں لہذا سنی ان سنی کرتے ھوئے ماں کو قطعا خاطر میں نہیں لا رھی تھیں ۔۔۔ بلا آخر اماں کے مسلسل اصرار پر انھوں نے زچ ھوتے ھوئے خفگی سے بھرپور نظر ماں پر ڈالی اور شدید کوفت بھرے انداز میں ماں کے ھاتھ سے اسکارف جھپٹ کے اپنے گلے میں اڑس لیا۔۔۔اس پر بھی اماں بیچاری کی جان میں جان آئی اور وہ اردگرد سے نظریں چراتی صاحبزادی کے قدم سے قدم ملانے کی کوشش کرنے لگیں ۔۔۔ اتفاقاً اگلے ھی روز ایک برانڈڈ کپڑوں کے آوٹ لٹ پر ایک اور ماں بیٹی کی گفتگو سننے کو ملی۔۔۔۔کھلتے رنگوں والا لینن کا پیارا سا تھری پیس سوٹ ڈمی پر لگا ھوا تھا جسکا دوپٹہ بہت خوبصورت تھا۔۔ ایک بچی اور اسکی والدہ برابر میں کھڑی بہت شوق سے اسے دیکھ رھی تھیں۔۔شدید چست جینز کے ساتھ خوبصورت ایمبرائیڈڈ کرتی نما چھوٹی سی شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز صاحبزادی اور ساتھ شلوار قمیض اور ھم رنگ دوپٹے کے مناسب حلیے میں انکی والدہ۔۔۔ شاید وہ دونوں یہ ڈریس خریدنا چاھتی تھیں۔۔برابر میں کھڑی اس بچی کی آواز اچانک کانوں میں آئی۔۔۔مام لے لیں ناں یہ ڈریس۔۔ آپ ٹو پیس بنا لیجیئے گا اور اس دوپٹے سے میری کرتی بنوا دیں بہت حسین لگے گی۔۔۔والدہ نے خشمگین نظروں سے بیٹی کو گھورا اور دھیرے سے بولیں ۔۔۔ مجھے تو تم معاف ھی رکھو۔۔۔
اس قبیل کی بچیوں کی دوپٹے سے بے نیازی اور عدم۔دلچسپی پر شاید صبر آ ھی جاتا اگر انکا لباس معقول اور مناسب ھوتا ستر پوشی کے تقاضوں کو پورا کر رھا ھوتا۔۔۔ایک وقت تھا جب اداکاراؤں کے لباس میں اور مہذب خواتین کے لباس میں واضح فرق ھوا کرتا تھا۔۔ بہت باریک ، تنگ ، چست اور کھلے چاک یا بڑے گلے والے لباس گھر کی مائیں اور بزرگ خواتین یہ کہہ کر رد کر دیتیں کہ یہ بھی کوئی شریف بہو بیٹیوں کے پہننے کے کپڑے میں۔۔۔ یہ تو میراثنیں ، ناچنے گانے والی عورتیں یا ڈومنیاں پہنا کرتی ھیں۔۔۔۔گویا “پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں” کا لحاظ ھمیشہ ھی ملحوظ خاطر رھا کرتا تھا۔۔۔۔ مگر بدقسمتی سے اس موجودہ دورِ پرآشوب میں یہی فلمی خواتین ھر دوسری لڑکی کی آئیڈیل ھیں۔۔۔ انکے جیسا لباس ، چال ڈھال ، جسمانی ساخت کی نمائش فیشن کا حصہ بننے لگی ھے۔۔۔
کیا عجب دور آگیا ھے۔۔۔۔ عقل حیران ھے کہ موجود نسل دوپٹے سے آخر اس قدر نالاں کیوں دکھائی دیتی ھے۔۔۔ اور اس سے بھی تاسف کا مقام یہ کہ گھر کے بڑے بزرگوں کو تو چھوڑیئے مائیں تک انھیں سمجھانے یا قائل کرنے سے قطعی طور پہ قاصر ھیں ۔۔ ایک وقت تھا کہ جس زمانے میں حدیقہ کیانی لہرا لہرا کر اپنا مشہور زمانہ گیت گایا کرتی تھیں۔۔
دوپٹہ میرا ململ کا
کروں کیا اس چنچل کا۔۔۔
ھماری ایک کلاس فیلو ھنسی سے دھری ھوجاتیں یہ قصہ سنانے میں کہ جونہی یہ گانا سماعتوں میں رس گھولتا ھے انکی دھان پان سی دادی سخت جلالی کیفیت میں اپنے کمرے سے پکارتے ھوئے حدیقہ کیانی سے مخاطب ھوتی ھیں ۔۔۔” ارے آگ لگا دے موئے کو۔۔ ھم سے کیا پوچھتی ھے” ۔۔۔۔اور پھر دوسرا فرمان صادر ھوتا کہ “بند کرو یہ خرافات ۔۔جو دیکھیں گی کل کو وھی سیکھیں گی “۔۔۔پھر جب دادی حضور کا غصہ کچھ ٹھنڈا ھوتا تو گہری تشویش سے کہتیں۔۔” لو بھلا آج تک ھمارے سر سے ریشمی آنچل نہیں ڈھلکتے اور ان سے ململ کا نہیں سنبھالا جاتا “… کیا خوب وضعدار لوگ تھے گئے وقتوں کے ۔۔۔کہ جن کے لیے دوپٹہ حرمت اور تقدس کی نشانی ھوا کرتا تھا۔۔۔ اب تو بزرگ بھی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی صورت لب سیئے رکھتے ھیں کہ نئی نسل کی بارِ خاطر پہ کچھ گراں نہ گذر جائے۔۔۔
سمجھ سے بالاتر ھے دوپٹے کو متروک کرنے کی آخر وجوھات کیا ھیں ۔۔۔ کیا روشن خیالی کی پہلی دلیل یہی ھے کہ دوپٹہ اتار پھینکا جائے ؟؟ کیا دوپٹہ دقیانوسیت کی علامت اور محض فرسودہ رواج ھوگیا ھے ؟؟ کیا ھم اس حوالے سے اتنے احساس کمتری میں مبتلا ھیں کہ ھماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ھمارا دوپٹہ بن چکا ھے ؟؟ یا مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کے شوق میں ھمارے شانے دوپٹوں کا بوجھ سنبھالنے سے قاصر ھیں ؟؟ ھم اندر سے اتنے کھوکھلے ھو چکے ھیں کہ اپنی اقدار پر مضبوطی سے جمے نہیں رہ سکتے۔۔۔؟؟ ھمارا لباس ھمارے لیے باعث فخر ھونے کے بجائے شرم بن چکا ھے۔۔۔؟؟
آخر ھم اپنی بچیوں کو کیوں نہیں سمجھا سکتے کہ مرد کی پہلی نظر اسکے شوق اور تجسس میں فطرتاً آپ پر اٹھے گی۔۔۔ مگر اس نظر کو واپس لوٹانا آپ کے ذمہ ھی ٹھہرا ھے۔۔۔ آپ اس نظر کے شوق اور اشتیاق کو ھوا دے کر ھوس میں بدلنا چاھتی ھیں یا احترام سے نیچے کرنا جانتی ھیں ۔۔ آپکا لباس اس سلسلے میں سب سے ذیادہ معاون اور مددگار ھے ۔۔۔ جب گھروں میں بچیاں بڑی ھونے لگتی ھیں تب انکے انداز نشت و برخاست پہ دھیان دینا ستر پوشی کی اھمیت سمجھانا انکے اندر شرم اور حیا کی اھمیت اجاگر کرنا ماؤں کی ھی ذمہ داری ھے۔۔۔بچیوں کو یہ کیوں نہیں سمجھایا جا سکتا کہ آپ کا لباس مخلوط تعلیمی اداروں میں۔۔۔۔آپکی پروفیشنل زندگی میں یا آپکی سیروتفریح میں باعث ندامت یا رکاوٹ نہیں بلکہ باعث فخر اور باعث تحفظ ھونا چاھیئے ۔۔ اپنے روائتی لباس میں بھی باوقار لگا جاسکتا ھے ۔۔کیا وجہ ھے کہ ھم اپنی بچیوں کی اس غلط روش کو سدھارنے کی جرات ھی نہیں کرسکتے کیوں آج کی اولاد اتنی باغی ، سرکش اور بے کہے قابو ھوتی جا رھی ھے کہ عافیت اسی میں سمجھی جاتی ھے کہ منہ لپیٹے اور کان دبائے بلا چوں وچرا انھیں من مانی کرنے دے جائے۔۔۔
مزے کی بات یہ ھے کہ “دوپٹہ ندارد” رحجان کے حوالے ھونے والی کسی بھی گفتگو کو شخصی اذادی پر حملہ سمجھنے والوں کی بھی کمی نہیں ھے اور جو اس نئے اور بیہودہ رواج پر انگلی اٹھائے یا اس کے خلاف بولنے کی جرات کرے اس پر تنگ نظری کا فتویٰ لگانے میں دیر نہیں لگتی۔۔ اگر کوئی خاتون حجاب کرنے لگے تو ھم اس سے دس سوالات پوچھنے میں نہیں جھجھکتے لیکن اگر کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آپ نے اپنا دوپٹہ کہاں بھاڑ چولہے میں جھونک دیا تو یوں سمجھیے کہ آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ھاتھ ڈال دیا۔۔۔ھزار بھاشن سننے کو مل سکتے ھیں۔۔جس میں سے ایک اعلیٰ توجیہہ یہ بھی ھے کہ پردہ تو نظر کا ھوتا ھے۔۔۔ لباس ھم چاھے جیسا بھی پہنیں دیکھنے والوں کو اپنی نظروں سے لے کر جذبات و احساسات سب پر قابو ھونا چاھیئے۔۔۔گویا خرابی دیکھنے والے میں ھے پہننے والیاں تو معصوم اور نادان ھیں ۔۔ خیر یہ بیانیہ بھی اپنے آپ میں ایک الگ ھی موضوع ھے ۔
یہ تو ھم نے ابھی صرف طرز معاشرت اور ثقافتی رواج کے حوالے سے لباس اور خصوصا دوپٹے کے عنقا ھوئے جانے پر اظہار تشویش کیا ھے ۔۔۔ کہ معاشرتی چلن اور رواج کے حوالے سے اس موضوع پر گفتگو کرنا پھر بھی آسان ھے ۔۔۔
مذھبی حوالے سے اس موضوع بات کرنے کی تو ھمت ھی نہیں پڑتی ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔جب بھی سورہ نور میں اللہ سبحان وتعالی کے اس فرمان پر دھیان جاتا ھے کہ ” اپنی اوڑھنیاں گریبانوں پہ ڈالے رھیں”۔۔ اور جب جب سورۃ احزاب کی یہ آیات یاد آتی ھیں
” اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں سے، اور مسلمانوں كى عورتوں سے كہہ دو كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادريں لٹكا ليا كريں اس سے بہت جلد انكى پہچان و شناخت ہو جايا كرےگى، پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے الاحزاب ( 59 ).
ھم یہی سوچتے ھیں کہ پروردگار کبھی وہ وقت نہ لائے کہ ھماری نئی نسلِ کی ان بچیوں سے انکی اگلی نسل یہ سوال کرنے بیٹھ جائے کہ ۔۔۔۔
” دوپٹے ، چادر اور اوڑھنیاں کہتے کسے ھیں۔۔”

SHARE

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY