تیماردارانہ شائستگی کی دس نمایاں نشانیاں۔۔۔
****** سید عارف مصطفیٰ ******
امام ظرافت مشتاق یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ ” شائستہ انسان کی نشانی یہ ہے کہ اگر اس کے سامنےکسی بیماری کا ذکر کیا جائے تو وہ آگے سے کوئی نسخہ بیان نہ کرے”-
اس معاملے میں خاکسار کے پلے بھی چند مزید نشانیوں کی نشاندہی میسر ہے تاکہ کسی بیمار کے مقابل تیماردار کی شائستگی میں ذرا بھی کمی نہ رہنے پائے اس سلسلے میں ان اہم و ناگزیر تنبیہات کا تشریحی بیان حسب ذیل ہے
تیمار داری پہ کمر باندھے کسی فرد کی شائستگی کی دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ دوران عیادت مریض کو بار بار پرہیز کرنے کی تاکید کرنے سے پرہیز کرے
،تیسری نشانی ایسی شائستگی کی یہ ہے کہ عیادت کے موقع پہ دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کی منازل کے کافوری بیان سے یکسر اجتناب کیا جائے-
کسی بیمار سے اسکی بیماری کی وجہ پوچھ کے اپنے کان مکمل طور پہ مریض کے حوالے کردینا اور اسکے نہایت طولانی بیان کے دوران خود کو عین غین ہونے سے بچانا اور جمائیاں لینے سے روکے رکھنا بھی قطعی شائستگی کی ذیل میں آتا ہے لیکن اس چوتھی نشانی کی یہ قیمت بہت کم تیماردار ادا کرپاتے ہیں اور عام طور پہ ہوتا یہ ہے کہ ادھر مریض نے اپنے احوال کی تفصیل سنانی شروع کی اور ادھر 31 ویں منٹ ہی سے جلد باز و بیچین تیماردار تابڑ توڑ اباسیوں اور انگڑائیوں پہ اتر آتے ہیں جس سے مریض کے گفتاری ارمان ادھورے رہ جاتے ہیں اور اس کی خاطر ؒ خواہ تشفی نہ ہونے سے اسکی بہت دل شکنی ہوجاتی ہے جس سے اسکے مرض کی شدت اور علاج کی مدت، دونوں ہی پہ برا اثر پڑسکتا ہے-
راہ عیادت میں شائستگی کی چھٹی نشانی بلکہ چھٹی ہوئی نشانی یہ ہے کہ تیمارداری میں یہ احتیاط لازمی کی جائے کہ مریض سے مرض کا احوال پوچھنے کا عمل خواہ کسی حد تک تحقیقی بھی ہوجائے مگر تفتیشی ہرگز نہ ہو اور بیمار کا اسکی بیماری کی بابت دیا گیا بیان جیسا بھی ہو، خواہ اس پہ دل سے یقین نہ بھی کیا جائے مگر تیماردار کے چہرے سے بے یقینی بالکل جھلکنے نہ پائے
یہ احتیاط بھی ضروری ہے کے تیماردار مریض کے واسطے خود پھل لانا بیشک بھول بھی جائے تب بھی وہاں دوسروں کے لائے یا رکھے گئے پھل نپٹانے سے گریز تو کرے اور مہینے کی آخری تاریخوں میں برتی گئی یہ احتیاط تو بلاشبہ اس قسم کی شائستگی کی ساتویں نشانی ہے-
یہ بھی نہایت کڑا اور بڑا شائستہ پن ہے کہ جب مریض اپنے مرض کا احوال سنا رہا ہو تو اسکے بیان میں میں درد اور تکلیف کے جتنے موڑ بھی آئیں وہاں وہاں تیماردار بھی حسب استطاعت سسکتا سنائی دے – شائستگی کی اس آٹھویں نشانی کا عین مطلوب یہ ہے کہ اگر کہیں مریض کےاحوالی بیان میں آپریشن کا تذکرہ بھی آجائے تو ساتھ ساتھ تیماردار کو بھی ہر دوسرے جملے پہ حسب توقیق بلکتے اور کراہتے رہنا چاہیئے ۔۔۔
اور اس بابت شائستگی کے مسلم ہونے کی نویں ۤنشانی یہ ہے کہ تیماردار زیر عیادت مریض کے آپریشن کے مقام کے ملاحظے پہ اصرار ہرگز نہ کرے-
اور اس آخری و دسویں نشانی کے ظہور کے بعد تو تیمارداری کا عمل شائستگی سے آگے بڑھ کے دردمندی و مخلصی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے کہ جب تیماردار خاطر خواہ طبی معلومات نہ ہونے پر بھی مریض کی طبی رپورٹیں اور ایکسرے بغور گھورنے سے باز رہ سکے اور محض اندازوں پہ مبنی رائے دینے کو خود پہ بالکل حرام کرلے
سید عارف مصطفیٰ
…………………………………
آپنے دیکھا نہیں یہ دلدار نگر تو کچھ نہیں دیکھا
———
بیشک جو کراچی نہیں گھوما ، وہ فقط ایڑھیوں پہ گھوما ہے۔۔
*******************************
سیدعارف مصطفیٰ
! کہتے ہیں کے لہور لہور اے۔۔۔
لیکن ذرا سوچیئے کہ اگر یہ نہ بھی کہا جاتا توکیا بادشاہی مسجد ، مینار پاکستان اور شاہی قلعے کے وہاں ہوتے، بھلا کون ہے جو داتا کی نگری کو پنڈی یا سیالکوٹ یا کوئیٹہ و سکھر بھی سمجھ سکتا تھا۔؟
شاید یہ خصوصی لقب دینے اور یہ عجیب سی بات کہنے والا جب خود اپنے اس بیان سے مطمئن نہیں ہوا تو اس نے یہ کہ کر لاہور کی اہمیت جتانے کے لیئے مزید زور ڈال دیا کہ” جس نے لاہور کو نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا “۔۔۔ کراچی کی مردم شماری میں شاید اسی مقولے کو مدنظر رکھا گیا ہے کیونکہ اس کی اک بڑی تعداد نے ابتک لاہور نہیں دیکھا لہٰذا اس فارمولے کے تحت وہ گنے جانے کے قابل ہی نہیں گردانی گئی ۔۔۔ اس قصور کی تلافی شاید جبھی ممکن ہے کہ جب شمار کے خانے میں آنے کی خاطر باقی تمام محروم دید کراچی والے لاہور کا ٹکٹ کٹا لیں ۔۔۔
ہم ‘اچے برج لہودے’ دعوے کے منکر ہرگز نہیں مگر کراچی کے بارے میں ہمارا کہنا یہ ہے کہ جس نے سبھی اہل پاکستان کوکسی ایک ہی شہر میں یکجا دیکھنا ہو وہ کراچی دیکھ لے – کیونکہ اسی غریب پرور شہر نے سب ہی محنتی ابنائے وطن کے لیئے روزگار کے دروازے پاٹوں پاٹ کھول رکھے ہیں اور انکےلیئے یہاں جابجا سستے ہوٹل بھی میسر ہیں اور وہ پاڑے بھی کہ جہاں ایک ہی کمرے میں کئی کئی کرایہ دار نہایت قلیل کرائے پہ مل جل کر اپنی اپنی زندگیوں میں خوشحالی کی امید کا دیا جلائے رکھتے ہیں- یوں اس شہر میں ہرزبان اور علاقے کے لوگ مصروف معاش ہیں اور اسی لیئے اب یہ شہر کسی ایک قومیت کی جاگیر نہیں رہا بلکہ ہر اس فرد کا ہے جو یہاں جسمانی یا دماغی محنت کے بل پہ روزی کماتا ہے نہ کہ اسکا ہے کہ جو یہاں کے شہریوں کو لوٹتا ہے ۔۔۔ کبھی ڈاکو کے روپ میں بندوق اٹھا کر تو کبھی سرکاری یونیفارم اور اختیار کی قؤت کے بل پہ ۔۔۔۔
کراچی کے متعلق یہ مقولہ بھی ہمارا ہی ہے کہ باقی سارا پاکستان دیکھنے کے لیئے فقط چہرے پہ دو آنکھیں چاہیئں لیکن کراچی کو دیکھنے کے لیئے دل کی بھی آنکھیں ہونا ضروری ہیں ۔۔۔۔
آئیے اسکی دلربائی کی چند جھلکیاں دکھاتے ہیں ۔۔۔ تعلیم و تہذیب کا مرکز یہ شہر کئی اعتباد سے اخلاق اور تمدن کا گہوارا بھی ہے جسکی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ یہ شہر پہلے بھی غریب کے آنسو پونچھتا رہا ہے اور اب تمامتر مہنگائی کے باوجود بھی نہایت غریب پرور ہے ، اور اگر اب بھی سارے ملک سے سستا کھانا پینا کسی شہر میں دستیاب ہے تو وہ یہی عروس البلاد ہے ورنہ تو اب ملک بھرکے شہروں ہی نہیں قصبات میں بھی کسی غریب محنت کش کے لیئے ہوٹل سے کھانا خریدنا تقریباۤٓ محال ہوچلا ہے ۔لیکن اگر کوئی اجنبی وہاں جیسے تیسے کھا مربھی لے تو بل دینے پہ بلبلا اٹھتا ہے اور کئی دن کی بھوک ہی اڑا بیٹھتا ہے اور کئی کئی روز کف افسوس ملتا رہتا ہے- یہی شہر وہ ہے کہ جہاں رمضانوں میں روزہ داروں کے لیئے مفت افطار و سحر کے لیئے نگر نگر بہت سے خوان سجتے ہیں اور یہی وہ شہر ہے کہ جہاں مکہ شہر کے بعد فرزندان توحید ، عید قرباں پہ سب سے زیادہ مویشی قربان کرتے ہیں
مجھے کہنے دیجیئے کہ میرے شہر کا کردار ہر اعتبار سے سارے ملک سے منفرد ہے – اب اسی خوبی کو لیجیئے کہ جوتاریخ کی گواہی بھی ہے اور سامنے کی حقیقت بھی ، کہ یہ شہر ہمیشہ سے جمہوریت اور اقدار کا پاسبان رہا ہے اور اسی لیئے ایوبی آمریت کی آندھی کے سامنے بانیء پاکستان کی بہن کی تائید کا چراغ جلائے کھڑا رہا ، اور ایوب خان کی آمریت کا دست و بازو بننے اور پھر قائد عوام کا چولا پہننے والے بھٹو سے بھی اسی طرز فکر کی سزا پائی – اس دور میں قومی زبان کی محبت نے 1972 میں پیش کردہ لسانی بل کی دہشت کو بھی روند ڈالا گو کہ اسکی قیمت کئی شہداء کے جنازوں کی صورت چکائی – اور پھر قومی طرزفکر کی پاداش میں اس شہر کو کئی بار ہر سطح پہ روندا گیا-
اس شہر کی اسی حریت فکر نے وطن عزیز کے سیاسی راجواڑوں کو اسکی دشمنی میں یوں متحد کررکھا ہے کہ وہ باہم لاکھوں اختلافات کے باوجود، اسکی آبادی نصف سے بھی کم ظاہرکرکےدکھانے پہ مکمل متحد و متفق ہیں کیونکہ ایک ؐمحتاط اندازے کے مطابق کراچئ کی آبادی ساڑھے 3 کروڑ ہے مگر اسے محض ڈیڑھ کروڑ کا ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ درحقیقت ٹوکیو کی 3 کروڑ ستر لاکھ کی آبادی کے بعد ملک کا یہ سب سے بڑا شہر، دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے اور 3 کروڑ 40 لاکھ پہ مشتمل دہلی کی آبادی اسکے بعد تیسرے نمبر پہ ہے- ان سیاسی بازیگروں کو خوف یہ ہے کہ آبادی کے مطابق دگنی سے زائد نمائندگی مل جانے سے نہ صرف اس صوبے کا انتظام بھی اسی شہر کے پاس چلاجائے گا ( کیونکہ پورے صوبہء سندھ کی آبادی کا نصف سے زائد کراچی شہر کی آبادی ہے) بلکہ قومی سیاست میں کوئی بھی حکومت انکے بغیر بن پانااور من مانی کرپانا ناممکن ہوجائے گا اور دو تین کے بجائے 6-7 وزارتیں انکا حق بن جائیں گی-
مقتدرہ و اہل حل و عقد کی جانب سے مسلسل نظراندازی نے ایک وقت تو اس شہر کو اس قدر بیزار بھی کردیا تھا کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکے ایک خون آشام تنظیم نے اہل شہر کو گمراہ کرکے بڑی وحشت سے اپنے پنجے یہاں گاڑبھی لیئے تھے ، مگر پھر اہل شہر اس خوف اور دہشت کے ماحول کے راج اور شہرکو جاگیرداری و پتھاریداری کے انداز دیئے جانے سے بھی تنگ آگئے اور پھر کئی خونی غسل سے نہاچکی گلیوں نے سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی طرف امید بھری نظریں گاڑ لیں اور انکی یہ سوچ اور توقع سلامتی کے اداروں نے بھی بھانپ لی اور پھر ان اداروں نے ایک طویل اور بھرپور آپریشن کے ذریعے اہل شہر کو ‘اپنوں’ کے مسلط کردہ اس جبر و استبداد سے نجات دلادی اور اسی لیئے شہر کی رونقیں بحال ہونے کے بعد آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ اب پھر پہلے کی طرح ، رات گئے تک اس تنظیم کے ‘سبکدوش عقاب’انہی پٹھانوں کی ذائقے دار سر جھکائے ، سرگوشیوں میں باتیں لڑھکاتےاور بھاپ اڑاتی چائے کے کپ لنڈھاتے دکھائی دیتے ہیں کہ جن کے ہوٹلوں اور ڈھابوں کو انہوں نے کبھی بڑی چوکسی سے بند کرڈالا تھا ۔۔۔۔
عوامی بہبود کے پہلو سے جانچا جائے تو یہ کہنے میں ہرگز کوئی مبالغہ نہیں کہ اس شہر کا بڑا وصف اسکا جذبہء خیر ہے جو کے وطن عزیز کے کسی بھی شہر سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔۔۔ اور اس کا عکس جمیل یہ ہے کہ ملک بھر میں قائم انسانی فلاح کے زیادہ تر بڑے بڑے نیکنام ادارے یہیں سے جنمے ہیں اور پھر سارے ملک میں پھیل گئے۔۔۔ کیا ایدھی ٹرسٹ کیا چھیپا اور کیا عالمگیرٹرسٹ و سیلانی حتیٰ کہ علاج معالجے کے لیئے ادیب رضوی کا ایس یو آئی ٹی ہسپتال ہو یا جملہ امراض کے لیئے انڈس ہسپتال ۔۔۔ اسکے علاوہ بھی شاید ہی کراچی کی کوئی تحصیل ایسی ہو کہ جہاں مختلف اقسام کے علاج کے لیئے کفایت و رعایت کےاسباب دستیاب نہ ہوں ۔۔۔ حتیٰ کہ مفلس کے لیئے وہ لنڈا بازار بھی حاضر ہے کہ جہاں اسے اب گاہے اپنے باسیز بھی ٹکراجاتے ہیں اور جو اب فقط لائٹ ھاؤس تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ کراچی کے ہر ہر علاقے میں دست تعاؤن دراز کیئے ہوئے ہے ،،،
کون نہیں جانتا کہ پورے ملک کے ٹیکس کا دوتہائی حصہ یہاں سے ملتا ہے اور یوں کراچی والے سارے وطن کی معیشت چلانے کا توانا ترین سہارا بنتے ہیں یعنی قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں مگر صد افسوس کے انہی کی سب سے زیادہ ریڑھ ماردی گئی ہے اور وہی شدید محرومی کا شکار کرکے دیوار سے لگادیئے گئے ہیں کیونکہ وہ جس صوبے میں بستے ہیں وہ ملک کا واحد صوبہ ہے کہ جہاں دیہی و شہری کی دیوار کھڑی کی گئی ہے مگر اس کے باوجود بھی انکا حصہ بھی دیوار کے دوسری طرف پہنچایا جاتا رہا ہے – ایک نہایت بڑی ستم ظریفی بھی اسی شہر کی یہ ہے کہ محض سیاسی نمائندزیتلخ سچائی یہ ہے کہ اس گھناؤنی تفریق روا رکھنے کی بدولت کراچی شہر کے باسیوں کے لیئے اسی شہر کے ہر ہر شعبے میں سرکاری ملازمت کے در بند کردیئے گئے ہیں اور جس پہ ہر جگہ کراچی سے باہر سے لائے گئے وہ تعصبی شہکار تھوپ دیئے گئے ہیں کہ جنکی اہلیت اور کارکردگی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ شرمناک کا لفظ بھی اسکی مکمل گندگی عیاں نہیں کرسکتا۔۔۔
لیکن یہ شہر بڑا ہی عجیب ہے اس قدر عجیب کہ غیروں کے ہاتھوں تو کیا خود اپنوں کے ہاتھوں بھی بڑے اہتمام سے لوٹے جانے کے باوجود اپنی روایتی کشادہ دلی اور پیہم انسانی فلاح اور ارفع اقدار کو چھوڑ دینے کے لیئے ذرا تیار نہیں حتٰی کہ سارے جہاں کے وبال لادے ہونے پر بھی اسکے چہرے پہ ذرا سی گرد ملال تک نہیں اور اس سب وحشیانہ حسن سلوک کے باوجود اور تعلیم اور ترقیاتی امور میں شرمناک اورمکمل نظرانداز کرکے کھنڈرات میں تبدیل کر ڈالنے کے ظلم عظیم کے چلتے ہوئے بھی یہ شہر حب الوطنی کے تمام پیمانوں پہ کسی شہر سے کم نہیں بلکہ فروتر ہے-
اس شہر ناپرساں کی وطن دوستی کا احوال یہ ہے کہ اس شہر میں اب بھی کوئی ملک دشمن پنپ نہیں سکتا – اور یہ اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ خواہ کوئی قومی دن ہو کہ مذہبی تہوار ، یہاں پہ سبھی قومی و مذہبی مواقع ملک بھر سے زیادہ یہاں دھوم دھام اور عقیدت و احترام سے منائے جاتے ہیں ۔۔۔ اور بالخصوص 14 گست کا دن تو یوم عید کی مانند برتا جاتا ہے کہ جسکی پرجوش تیاری کے والہانہ پن نے اس سے جڑی کئی صنعتیں اور روزگار پیدا کردیئے ہیں کہ جنکے بل پہ یہاں جشن آزادی کی خوشیوں کے لیئے جابجا خریداری کے بازار لگتے اور میلے سجتے ہیں کہ جو ہر آن دامن دل کھینچے لیئے جاتے ہیں- اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی والے جس ولولے و جوش و جذبے سے جشن آزادی مناتے ہیں اور یہاں جس طرح نگر نگر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں اور حب الوطنی کے گیت لگن اور خروش سے گائے جاتے ہیں ، باقی پورے ملک کے تمام شہر مل کر بھی اس رونق اور جوش کے پاسنگ بھی نہیں دکھتے۔۔۔
وائے بدقسمتی کہ اس شہر کو قائد کے فرمان کے برعکس دارالحکومت ہونے کے شرف سے محروم کرکے چند متعصب و نفرت سے آلودہ گروہوں کی شکار گاہ بنا ڈالا گیا جو کہ برسہا برس سے ہر ممکن طریقے سے اس شہر کی معیشت کھدیڑنے اور تہذیب و تعلیم اورسماج و معاشرت کے تار و پود بکھیرنے میں شب و روز جتے ہوئے ہیں-۔۔۔ لیکن کیا کیجیئے کہ بہت کچھ لوٹے جانے کے باوجود یہ شہر اب بھی دلداری کا کردار سنبھالے ہوئے ہے ، اور دماغ اور بدن دونوں کی مشقتوں سے جوجنے والوں کے لیئے اس کا دامن اب بھی بہت دراز ہے۔۔۔
اس شہر کا ایک خاص توصیفی پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تقدیس مشرق محض نعرہ نہیں بلکہ یہاں ماں بہن بیٹیاں اب بھی کسی شہر و علاقے سے بڑھ کے محفوظ ہیں اور یہ جو ہم ہم ملک کے کئی حصوں سے ایسی خبریں سنتے چلے آرہے ہیں کہ فلاں جگہ جذبہء انتقام کی وحشت میں برسرعام کسی زمیندار یا وڈیرے اور چودہری یا خان نے کسی مظلوم کے گھر کی کسی خاتون یعنی حؤا کی کسی بیٹی کو سر بازار برہنہ کردیا اور گلی کوچےمیں گھمایا تو اس غلاظت سے اس شہر کا کوئی قریہ کوئی کوچہ کبھی آلودہ نہیں ہواہے اور نہ ہی کبھی ہوگا ۔۔۔ بہت سے فلاحی اداروں کے بل پہ آج بھی یہاں فاقہ اجنبی ہے اور مدد کے طالبوں کے لیئے کسی نہ کسی نوع کے سائبان جابجا کسی نہ کسی شکل میں موجود ملتے ہیں ۔۔۔ گو کہ اس شہر پہ اک دور وحشت بھی آیا تھا مگر اس کا راج سنگھاسن اسی لیئے ڈول گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یاد ماضی بن گیا کیونکہ اس شہر کے تشخص کو مسخ کرنے کا رؤیہ بالآخر راندہء درگاہ ہوگیا جس کی یہاں گنجائش مطلق نہ تھی ۔۔۔
بلاشبہ اس شہر کی خوبصورتیوں کے حوالے ایک یا دو نہیں بلکہ بیشمار ہیں ۔۔۔ اور اسی حسین تشخص کے باعث ہمارا ماننا یہ ہے کہ اس شہر کی اس دلکشی دیکھ پانے کے لیئے اوراس شہر کی دلپزیر حقیقت جاننے کے لیئے فقط چہرے کی نہیں دل کی آنکھوں سے بھی دیکھنا ضروری ہے۔۔
سید عارف مصطفیٰ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تعصب کے پرچارک یہ بات ذہن میں اچھی طرح سے ٹھونس لیں کہ کلچر زبردستی ٹھونسے نہیں جاسکتے ۔۔۔
سید عارف مصطفیٰ
میں اس تحریر کا آغاز ہی اس دو ٹوک بات سے کررہا ہوں کہ اجرک اور زبان کے نام پہ سیاست کرنے والے اچھی طرح سے یہ حقیقت جان لیں کہ آپ زور زبردستی یا بدمعاشی سےکسی پہ اپنا کلچر اور زبان ہرگز ہرگز نہیں ٹھونس سکتے بالخصوص کراچی میں کہ جہاں اس کلچر کو ماننے اور جاننے والے بہت ہی کم ہیں اور بلاشبہ صوبائی حکومت کی جانب سےکیئے گئے متعدد ظالمانہ و متعصبانہ اقدامات کے ذریعے یہاں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی تمام کاوشیں کرتے رہنے کے باوجود ، اب بھی یہاں ٹھونسے جارہے کلچر سے جڑے لوگوں کی تعداد سات آٹھ فیصد یا بہت ہوا تو دس گیارہ فیصد سے زیادہ ہرگز نہیں ہے ۔۔ یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ میں بلحاظ اوصاف اور خصوصیات، کسی کلچرل موازنے اور کسی ثقافتی کمتری اور برتری کی بات نہیں کررہا ۔۔۔ لیکن یہاں تو ثقافتی بلڈوزر سے اس شہر نا پرساں کی عظیم اکثریت کو روند ڈالنے کی غلیظ ذہنیت کھل کے سامنے آگئی ہے- اور عملی طور پہ ہو یہ رہا ہے کہ کراچی والوں کی لگ بھگ نؤے فیصد آبادی کو زبردستی وہ زبان اور کلچر اپنانے پہ مجبور کیا جارہا ہے کہ جس سے انہیں کبھی قطعی کوئی وابستگی او دلچسپی نہیں رہی ،،، جبکہ تاریخی واسطہ یا قلبی و ذہنی آسودگی تو بڑی دور کی بات ہے۔۔۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ سندھ کے اپنے جانے مانے اکابرین میں سے بھی کوئی اس کلچر سے باقاعدہ منسلک کبھی نہیں رہا قیام پاکستان سے پہلے کے دور تک ، بلکہ اس کے بعد بھٹو کے اقتدار میں آنے تک یہ معاملہ کبھی مسئلہ نہیں بنا تھا اور اہم اور بڑے سیاسی، سماجی و علمی تقاریب کی کسی تصویر میں شاز ہی یہ نظر آئے کہ سندھ کے کسی بڑے و نامور ادیب ، شاعر سیاست دان اور مفکر نے اپنی ثقافتی ٹوپی اور اجرک پہن رکھی ہو ۔۔۔ حتیٰ کہ سندھ کی سیاسی تمدنی لسانی و ثقافتی ترویج کے سب سے بڑا پرچارک یعنی خود جی ایم سید کی وہ تاریخی تصویر ہی دیکھ لیجیئے کہ جس میں وہ پہلی بار قائداعظم سے ملا تھا اس میں وہ یوپی کے کلچر کی ٹوپی شیروانی اور پاجامہ زیب تن کیئے ہوئے ہے کہ یہی تہذیبی رنگ اورثقافتی حلیہ اس وقت باعلم و بردبار اور باتہذیب نظر آنے کی ایک بڑی علامت سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔
یہاں یہ بھی کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک خطے میں بسنے والی مختلف مزاج کی حامل قومیتوں سے ایک دوسرے کلچر سے لگاؤ رچاؤ کی تؤقع رکھنا نری خوش فہمی ہے یا پھر کم ازکم ایسا مغالطہ ہے کہ جس کی بنیاد تاریخ و تمدن سے ناوقفیت بلکہ نفی پہ مبنی ہے ۔۔۔ تاہم یہ بھی تاریخ کا سبق ہے کہ قرار امن و باہمی سلامتی کیی خاطر مختلف ثقافتی گروہ و آبادیاں باہم وسعت قلبی دکھائیں اور ایک دوسرے کے کلچر کا احترام نہ سہی مگر لحاظ تو ٖضرور ہی رکھ لیا جائے اور بلاشبہ اس کشادگی سے باہم نفرتیں کم کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے
یہ وضات کرنا بھی ضروری ہے کہ یہاں لحاظ رکھنے سے میری مراد کسی اور کلچر کو اپنانے کی ترغیب ، ہرگزنہیں ہےکیونکہ کلچر ٹھونسے نہیں جاسکتے اور اگر مسلط کیئے بھی جائیں تو تادیر نہیں چل پاتے۔ کیونکہ تاریخی ارتقاء سے کلچر کی جڑیں عوامی سوچ کی زمین میں پیوست ہوجاتی ہیں جہاں زبردستی کی نمود للکار سمجھی جاتی ہے اور اس سے رد عمل جم لیتا ہے-البتہ کلچر کے وہ عناصر جو سہولت ، کفایت یا دیدہ زیبی میں سے کسی بھی خصوصیت کے حامل ہوں ، وہ خود بخود اور بتدریج عوام کے اکثریتی طبقوں کی پزیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں –
تاریخ کی گواپی ہے کہ کلچر تاریخی دھارے میں بہتے ہوئے تمدن کی وادیوں میں اترتے ہیں اور ان کا جو بھی جز قبولیت کے اوصاف کے حامل ہو تو اسی خاصیت کے بل پہ وہ چپکے سے عوامی زندگیوں میں اپنی جگہ بنالیتا ہے- اس حقیقت کی ایک بڑی علامت بلکہ پکا ثبوت ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے اردو بولنے والے طبقے میں شلوار قمیض کی مقبولیت ہے کہ جسے اب وہ کئی دہائیوں سے اپنا چکے ہیں حالانکہ پہلے اس طبقے میں شلوار کو صرف زنانہ لباس کا حصہ ہی باور کیا جاتا تھا لیکن اس لباس نے نے اپنی کشادگی کے باعث زیادہ ہوادار ہونے کے سبب اس طبقے میں بھی اپنی جگہ بنالی –
اس تبدیلی کی دوسری وجہ وہ عوامی نفسیات بھی تھی کہ جسکے تحت کسی بھی ملک یا خطے میں عوام میں حکمران طبقے سے مرعوب ہوکر اسے اپنانے کی کوششیں کرنے لگتے ہیں اور ہمارے ملک کے معاملے میں تو یہ بہت واضح اور سامنے کی حقیقت ہے اور اسی وجہ سے سن ستر کی دہائی میں حکمران مسٹر بھٹو کی جانب سےاسکو اپنانے سے بہت بڑا فرق پڑگیا تھا اور اس کو سیاسی ملبوس بنانے اور سرکاری سطح پہ اجاگر کرنے سے بھی سوچ کو بدلنے میں بڑی مدد ملی لیکن اس بڑی ثقافتی تبدیلی کی بڑے پیمانے پہ سرایت کرنے کی پھر بھی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ سب کام زبردستی نہیں کیا گیا نہ کروایا گیا – حالانکہ اس ملبوس کو اپنانے اور نمایاں کرنے کے پس پشت بھٹو کا وہ احساس عدم تحفظ کام کررہا تھا کہ جس کے تحت وہ وفاقی نظر آنے کے ساتھ ساتھ ایک لسانی پہچان بھی چاہتے تھے اور یوں ایک لسانی گروہ کو جذباتی طور پہ اپنا شدید ہمنوآ بناکےخود کو سیاسی طور پہ دائم محفوظ رکھنا چاہتے تھے تاکہ وہ اسے حسب ضرورت اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد کے طور پہ استعمال کرتے رہیں-
تاہم اس معاملے میں لسانی بل سے حاصل کردہ سبق کے تحت انہوں نے کلچرل سطح پہ محاز آرائی کی لو مدھم کرکے اپنا یہی لسانی تعصب کا مقصد دوسرے انداز میں حاصل کرنے کی راہ اختیار کی اور گھناؤنے عملی انتظامی اقدامات جیسا کہ کوٹہ سسٹم کے نفاز سے سندھ کی شہری آبادی کو دیوار سے لگا ڈالا – اور یوں موصوف نے اس کی گئی زیادتی سے فائدہ اٹھانے والے دیہی سندھ پہ مشتمل طبقہء آبادی کا ووٹ دائمی طور پہ پکڑ لیا کہ جو اب اس جماعت کا دائم سیاسی اثاثہ بن چکا ہے اور جس سے آج تک انکی پارٹی فیض حاصل کرتی چلی آرہی ہے اور یہ اسی شاؤنسٹ ذہنت کا تسلسل ہے کہ وہ جیئے بھٹو کا نعرہ لگا لگاکے نہایت متعصبانہ پالیسیوں سے ہرصورت شہری آبادی کے سیاسی معاشی اور سماجی حقوق کا گلا گھونٹنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے –
کون نہیں جانتا کہ اب بھی سندھ میں یہی ذہنیت جلوہ گر ہے اور کئی دہائیوں سے سندھ میں زبردستی ایک زبان اور کلچر کو مسلط کیئے جانے کے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں اور وہ طبقہء آبادی جس کا اس کلچر سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اسکی پیٹھ پہ گھناؤنے سرکاری اقدامات اور متعصبانہ سزاؤں سے اس کلچر کی کاٹھی کسی جارہی ہے – سوال یہ ہے کہ جب یہ باکل واضح ہے کہ سندھ کے کلچر کے نام پہ ٹھونسے جانے والے کلچر سے نہ تو کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگ خوش ہیں اور نہ ہی یہاں کے رہائشی پنجابی پختون ہزارہ وال سرائیکی بلوچ اور کشمیری و گلگتی مطمئن ہیں ۔۔ تو پھر آخر کیوں وہ کلچر زبردستی ان پہ لادا جارہا ہے جو کہ انکا ہے ہی نہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ جو اس نکتہء نظر کے حامی نہیں ہیں وہ وفاق اور سندھ کے حکمرانوں سے بیشک یہ مطالبہ کریں کے وہ اس شہر میں عوامی سطح پہ ایک آزادانہ و منصفانہ ریفرنڈم کرواکے برسرزمیں اصلی حقائق کی بابت خود جان لیں،
آخر میں یہاں صاف طور پہ واضح کیئے دے رہا ہوں کہ اس طرح کے جبر کےداؤ پیچ سے اس صوبے کی وحدت کو سنگین اور نتیجہ خیز گھاؤ لگانے کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا کیونکہ کراچی والوں کی ملی جلی کثیراللسان آبادی کا جو اپنا عوامی کلچر ہے وہ اسی میں خوش اور مطمئن ہیں اور انہیں کسی بھی دوسری لسانی اکائی کے کلچر سے نہ کوئی پرخاش اور وہ اس بات کے لیئے بہت کشادہ دل ہیں کہ جو کوئی بھی لسانی اکائی اپنے کلچر کو ترجیح دے اور اس کے مطابق رہن سہن اپنائے تو انہیں اس سے کبھی کوئی مسئلہ نہ پہلے تھا اور نہ ہی اب ہے
لیکن بہر طور یہ یکطرفہ ٹریفک کسی صورت کافی نہیں اور سندھ سرکار اور یہاں کی دیہی جاگیردار اشرافیہ کو بھی جواب میں ایسی ہی بالغ انظری اور اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور اہل کراچی کے ساتھ زوز و زبردستی کے رؤیئے کو فی الفور ترک کردینا چاہیئے کہ اس ہی میں سچی پاکستانیت اور بقائے باہمی کا پیغام موجود ہے اور سبھی کی بھلائی اور خیر اسی حکمت میں مضمر ہے













