ایوان کج کلاہی کے خوف و ہراس کو
تاریخ لکھ رہی ھے گمان و قیاس کو
عباس لے کے مشک چلے جب فرات کو
حسرت سے شہ نے دیکھا سکینہ کی آس کو
خوشبو کی روشنائی اور شاخ گلاب سے
ھم لوح جاں پہ لکھتے ہیں لفظ عباس کو
اب تک ترس رھا ھے لبِ شاہ کے لۓ
دریا سے جا کے پوچھئیے پانی کی پیاس کو
حاجی ،نمازی ،حافظ و قاری، صحابہ تھے
سب یاد ھے مورخ چہرہ شناس کو
ہر دشمن حسین کی تقدیر ھے سقر
ملتی یہی سزا ھے ہر اک التباس کو
یہ ذاکر حسین کا اعزاز ھے رضا
عرش عظیم جھکتا ھے نذرِ سپاس کو
سید رضا مہدی باقری












