محبت سکون و راحتوں کا وسیلہ ۔فائزہ عباس

0
1118

“۔ ۔ ۔کیا یہ تم سوچتے ہو گمان کرتے ہویا اندازہ لگا رکھا ہے کہ رب نے تمہیں بے ھدف، بے مقصد پیدا کیا ہے کہ تمہارا کوئی مقصودنہیں ہے ۔ ۔ ۔”

آج کے انسان کی عملی طرز کیا بتاتی ہے ۔ ۔ ۔
کہ وہ پیدا ہوئے کہ لزتییں اٹھائیں، کھائی پیے، بچے پیدا کریں، انکو پڑھا لکھا کر انکی شادیں کریں، گویا فارغ ہو گئے سب کام ہو گیا ۔ ۔ ۔ یا مرنے کے واسطے پیدا ہوئے ہیں کہ سب تیاری مرنے کے واسطے ہے ۔ ۔ ۔

کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم بے مقصد پیدا ہوئے ہو ۔ ۔ ۔؟؟؟ “

جبکہ رب کا کوئی کام لعب نہیں ہے، لعب یعنی بے مقصد کام یعنی وہ فعل یا کام کہ جس میں معقول انسانی مقصد جس میں نہ ہو اسے لعب کہتے ہیں، رب تعالی نے کچھ بھی بے مقصد نہیں بنایا، نہ ہی یہ کائنات عبث ہے، نہ ہی انسان عبث ہے ۔ ۔ ۔

ہر وہ تجارت جو ھدف خلقت سے دور لے جائے اس کو انسان کی نگاہ میں گمشدہ کر دے ،وہ تعلیم، گھریلو کام،علمی مصروفیات کہ جو خلقت کے ھدف سے دور لے جا رہی ہوں ، اچھے، نیک کام، مثلا فون کالز بے مقصد، جنکے باعث انسان “مقصد خلقت ” بھول جائے تو یہ لعب کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔

عبث یعنی بے مقصد کام، رب تعالیٰ کے ہر کام کا ایک مقصود ہے ۔ ۔ ۔کیا رب کو کوئی کمی پوری کرنی ہے نعوز باللہ رب کو کسی شے کی حاجت نہیں لیکن رب کے ہر فعل سے اپنا مقصد نہیں رکھا بلکہ انسان کو ملنا ہے ۔ ۔ ۔

کائنات کی خلقت سے رب کی کوئی کمی پوری نہیں ہونی نہ ہی اسکو رب کو نعوز باللہ کوئی فائدہ ہے، کائنات کی خلقت سے فائدہ رب کو نہیں ملنا، نہ ہی رب کے خزانے میں کوئی اضافہ ہونا ہے ۔ ۔ ۔

ھدف کائنات ،کائنات کو انسان کو فائدہ دینا ہے ۔ ۔ ۔

رب کے بڑے بڑے کاموں میں سے، بہت عظیم کام

کائنات بنانا، انسان بنانا، دین بنانا۔ ۔ ۔ یہ تین بہت عظیم الشان کام ہیں رب کے ۔
!
کائنات بنانا پھر اس کائنات میں انسان بنانا اور اس انسان کے واسطے دین بنانا اور پھر اس دین کی ترویج کے واسطے انبیاء کرام کی خلقت، دین کے لوگوں تک پہنچانے کے لیے آسمانی کتب بھیجنا اور کتاب خدا کی تشریح کے لیے اوصیا بنانا ۔ ۔ ۔
ائمہ کو منصوب کیا ۔ ۔ ۔

انسان بنایا تاکہ کائنات کے اندر رکھے وسائل سے فائدہ اٹھا کر مقصد خلقت تک پہنچے اور اسی طرح دین کا ھدف و مقاصد خلقت کے مقصد تک پہنچانا ہے، بھلے حرام، حلال، واجب، مستحب سب مین کچھ وجہ ہے جسکے باعث انسان رب تک پہنچ سکتا ہے ۔ ۔

رب نے جو کچھ پیدا کیا اس سب کا کچھ مقصد ہے، دین کی ہر شق میں، اصول مین فائدہ رکھا ہے بالکل اسی طرح کہ ہر غزا جو انسان کھاتا ہے اس کا فائدہ ہے، کم زیادہ، ہر جائز غزا و حرام غَزا کے انسان کو نقصان ہے یا فائدہ ۔ ۔ ۔
مثلا آج بکرے کا گوشت کھائیں تو فائدے ہیں، لیکن کتے کھانے کا نقصان کیا ہے اس پر انسان نے تحقیقات نہیں کیں کہ کیا نقصانات ہیں ۔ ۔ ۔

لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ رب کے کسی بھی حکم کا کچھ نہ کچھ مقصود ہے، دین کے ہر حکم کا ھدف انسان جو اس کی خلقت کے ھدف تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔
کائنات بنائ تاکہ کائنات کے اندر پنہاں فائدوں سے انسان فائدہ اٹھا سکے اور خلقت کے ھدف تک پہنچ سکے اور ہر وہ شے جو خلقت کے ھدف سے انسان کو دور کرتی ہے وہ لہو ہے اور ہر بے مقصد فعل لعب کہلاتا ہے اسلیے بہت اہمیت ہے اسبات کی کہ انسان زندگی کے ھدف کی جانب متوجہ ہو کہ رب نے انسان کو بے ھدف پیدا نہیں کیا اور نہ ہی کائنات، انبیاء، کتاب ھدایت، مرسللین، اوصیا بے ھدف ہیں مگر انسان نے جس شے کو اپنا ھدف قرار دیا اور تخلیق کرنے والے خالق، مالک کی زات نے کس شے میں ھدف رکھا ہے

انسان کےبے ھدف نہیں اسلیے بہت اہم ہے کہ انسان کا ہر چھوٹا بڑا عمل غرض اسکی ہر ایک سانس خلقت کے ھدف کی جانب سفر کر رہی ہو اگر وجود انسانی میں موجود اس کی “فطرت خالص ” تک انسان نہ پہنچ سکا اور اس فطرت کے نور سے اس طہارت، پاکیزگی اور بلندی کا سفر طے نہ کر سکا کہ جو ھدف اس خاک ہونے سے نور تک پہنچنے کی مخلصانہ عملی جد اور جہد ہے، اپنے آپ جو اس راہ پہ نہ لاکھڑا کر سکا تو اس کی زندگی نے جینے کا انگیزہ جینے کی تڑپ جینے کی آرزو کو ابھی تلک ایجاد ہی نہیں کیا کہ اور اگر رب تک پہنچنے، اسکے تقرب، اسکی بندگی تلک نہ پہنچ سکا تو میدان عمل میں بھی کبھی نہ تو “جد یعنی پکا فیصلہ، سچا مخلصانہ غیر متزلزل، شجاعانہ ارادہ” ۔ ۔ ۔کر سکے گا نہ ہی جہد یعنی کوشش شجاعت، مزاحمت، علم، معرفت اخلاص میں لپٹی مکمل جہد اور دین کا ھدف مقصد خلقت تک پہنچانا ہے اور رب چاہتا ہے کہ انسان کسب کرے اپنے انسان ہونے کو اور اس مقام پہ لائے خود کو کہ جسے لقائے اللہ ،تکامل انسانیت، شرف انسانییت کی جانب سفر و ہجرت کا شعوری، انتخابی، دلیرانہ سفر شروع ہوتا کہ وہ رب کے عبد بن کر کامیابی کی منازل طے کر سکے ۔ ۔ ۔

رب کے دین کا ھدف انسان کی اس دنیا کو خود انسان کو جنت بنانا ہے نہ کہ مرنے کے بعد اس کو جنت دینا یعنی مرنے کے واسطے دین نہیں ہے جینے کا قانون اور اس جینے سے جنت کی تشکیل اس دنیا میں اور وجود انسانی کے اندر جنت کی تشکیل اپنے وجود کو جنت اس دنیا میں بنانا ہے، انسان بننا ہے اور انسان بن کر جانا ہے جس کا زریعہ دین ہے دین کی ایک ایک شق اور اصول انسان کو انسان بننے کی تربیت دیتا ہے اور حیوانیت سے نکال کر انسانییت کے میدان عمل میں ہر ظالم و طاغوت کے خلاف کھڑا کرتا ہے امن محبت سکون و راحتوں کا وسیلہ بناتا ہے ۔۔ ۔کہ نور نا کام ظلمت کا سر قلم کرنا ہے اور حسن کی جانب سفر میں رکھنا ہے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY