پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہپ سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے بل تیار کرلیا جس کو سینیٹ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

سینیٹ کا 4 فروری کو شیڈول اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا ہے جس میں آزاد، پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سینیٹرز کے اراکین کی جانب سے تیار کردہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز میں اضافے کا ترمیمی بل (سیلریز اینڈ الاؤنسز ترمیمی بل 2020) بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

بل میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی تنخواہ سپریم کورٹ کے ججوں اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے برابر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل سیلریز، الاونسز اینڈ پرویلیجز ترمیمی بل 2020 کی نقول کے مطابق اس کو پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ سینیٹر سجاد طوری، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اشوک کمار، فاٹا سے دلاور خان، نصیب اللہ بازئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار محمد یعقوب ناصر اور آزاد سینیٹر شمیم آفریدی نے تیار کیا ہے اور بل کو ایوان میں پیش کریں گے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 79 ہزار روپے کے برابر مقرر کی جائے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 29 ہزار روپے کے برابر کرنے کے تجویز دی گئی ہے۔

سینیٹرز نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ میں ترمیم کرکے اراکین کی تنخواہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز شامل کی ہے۔

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو سفر کے لیے ٹرین کی ایئر کنڈنشنڈ کلاس ٹکٹ کے برابر رقم دی جائے اور جہاز کے بزنس کلاس کے ٹکٹ کے مطابق سفری الاؤنس دیا جائے۔

سینیٹرز نے تجویز پیش کی ہے کہ بذریعہ سڑک سفر کی صورت میں اراکین پارلیمنٹ کو 25 روپے فی کلومیٹر سفری الاؤنس دیا جائے اور بیرون ملک دوروں میں فرسٹ کلاس ایئر ٹکٹ بھی دیا جائے۔

بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو 25 فرسٹ کلاس بزنس ایئر ٹکٹ فراہم کیے جائیں، اندرون ملک سفر کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی اہلیہ، شوہر یا بچے بھی ان ٹکٹوں کو استعمال کر سکیں گے۔

بل کے اغراض و مقاصد میں سینیٹرز نے موقف اپنایا ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کو ملنے والے تنخواہ ان کے روزانہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

سینیٹرز کا بل میں کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والی حالیہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی نے عام شہریوں کی طرح چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی متاثر کیا ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن شیری رحمٰن نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی اس بل کی حمایت نہیں کرے گی۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بل کی مخالفت کا واضح موقف دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY