وزارت خزانہ نے 15 ماہ میں قرضوں میں 11.61 ٹریلین اضافے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں

ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق 4.11 ٹریلین روپے قرض مالی خسارہ پورا کرنے کے حاصل کیا گیا جبکہ 3.54 ٹریلین روپے قرض روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھا جو پچھلی حکومت کی غلط شرح مبادلہ اور ناقص صنعتی او تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا۔

بھاری اور ناقابل برداشت حد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے کرنسی کی شرح تبادلہ میں فوری کمی لانا پڑی۔ وزارت خزانہ کے مطابق 3.13 ٹریلین روپے قرضکا اضافہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مستقبل میں قرض نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کیش بیلنس کی سطح بڑھانے سے ہوا جو مشکل اورغیر متوقع حالات سے نبٹنے کے لیے محفوظ کی گئی ہے۔

تاہم اس کا مجموعی قرض پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس قرض کی تلافی یا خلا پر کرنے کے لیے لکوئیڈ اثاثہ جات دستیاب ہیں۔ 0.47 ٹریلین روپے قرض کاا ضافہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے حاصل کردہ قرضے کی وجہ سے ہوا۔

اس کے علاوہ 0.08 ٹریلین روپے قرض کموڈٹی آپریشن کی مد میں قرض کی واپسی کے لیے لیا گیا جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔ 0.25 ٹریلین روپے قرض کا اضافہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی فیس ویلیو جو کہ قرضے کے اندراج کے لیے استعمال ہوتی ہے اور حاصل شدہ ویلیو جس کا بجٹ وصولی کے طور پر اندراج ہوتا ہے، میں فرق کی وجہ سے ہے۔ 0.8 ٹریلین روپے قرض کا اضافہ پاکستان کے نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY