بے نظیر بھٹو کے نام
لہو کے چھینٹوں سے بھر گئی ہے
یہ سانحہ جو ابھی ہوا ہے
سقوطِ ڈھاکہ سے کم نہیں ہے
اندھیری شب کے سیا ہ سائے
ہر ایک رخ کے مکالمے میں
شکستہ ساعت کا سرد سورج
شفق کا محمل
اور عکسِ سنگِ مفارقت میں وہ خونِ ناحق
جو چشمِ قاتل سے جھانکتا ہے
ہجومِ رنگِِ وفا سے بوجھل،صدائےگریہ
وہ غم زدہ جستجو کا دریا
یا لمحہ
جس کی وہ بالکونی سے اپنے مقتل کی سرخروئی
کو سب کی نظروں سے دیکھتی ہے
برابری کوئی کیا کرے گا
وہ اپنی قامت سے خود بڑی ہے
منظر جعفری













شاندار نظم